تازہ ترینمضامین

میری ڈائری کے اوراق سے-( یہ گدھےآخر ہیں کون ؟ )..شمس الحق قمر ؔ   

13 اکتوبر ، 2019  گلگت سے چترال جاتے ہوئے لنگر کے مقام پر میری نظر ایک عجیب منظر پر جا ٹھہری۔ ایک نحیف و نزار آدمی، جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے تیز ہوا کا جھونکا بھی اسے اپنے ساتھ اُڑا لے جائے گا، کئی ہٹے کٹے اور تنومند گدھوں پر ایندھن والی گھاس لادے اُنہیں کسی نامعلوم منزل کی طرف ہانکے لیے جا رہا تھا۔تعجب کی بات یہ تھی کہ بھاری بھرکم جسم والے وہ تمام گدھے کان لٹکائے، سر جھکائے اور نہایت مودبانہ انداز میں اُس ایک آدمی کے پیچھے چلے جا رہے تھے۔ نہ کسی نے احتجاج کیا، نہ سوال اٹھایا، نہ یہ پوچھا کہ جناب! آپ کون ہیں اور ہم آخر آپ کے کیا لگتے ہیں کہ صبح و شام آپ ہی کے حکم پر اپنی زندگیاں کھپا رہے ہیں؟میں کافی دیر تک یہی سوچتا رہا کہ آخر یہ گدھے پلٹ کر سوال کیوں نہیں کرتے؟ اپنی پشت پر لادے ہوئے بوجھ کا حساب کیوں نہیں مانگتے؟ اپنے سفر کی منزل کیوں نہیں پوچھتے؟ اور پھر اچانک میرے ذہن میں ایک اور سوال نے جنم لیا:

یہ جو گدھے ہوتے ہیں، آخر یہ گدھے کیوں بنے ہیں؟ یہ سوال بظاہر آسان ہے، مگر جتنا سوچتا گیا، اتنا ہی پیچیدہ ہوتا گیا۔ چنانچہ باقی سفر گدھوں کے بارے میں سوچتے سوچتے گزرا اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ شاید دنیا کی سب سے کم سمجھی جانے والی مخلوق گدھا ہی ہے۔ یوں تو آپ نے بھی دیکھا ہوگا، اور پرانے لوگوں کو تو بخوبی یاد ہوگا کہ ہمارے زمانے میں گدھے، یعنی اصلی گدھے، کثرت سے پائے جاتے تھے۔ اگرچہ گدھوں کی کمی آج بھی نہیں، تاہم اصل نسل نایاب بلکہ معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں، اُس وقت ہر گھر میں کم از کم ایک گدھے کا وجود ناگزیر سمجھا جاتا تھا۔ گھر ہستی کے تمام کاروبارِ حیات کی بھاری ذمہ داریاں اسی کے کندھوں پر ہوا کرتی تھیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس جانور کے جذبۂ خدمتِ خلق، اصول پسندی، ایمانداری، عاجزی و انکساری، تابعداری اور ہمیشہ سر جھکائے رکھنے کی عادت کے باعث حضرتِ انسان نے اُسے ’’گونگا بھائی‘‘ کا لقب بھی عطا کر رکھا ہے۔ (اس سے یہ جاننے میں چنداں دقت نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں گونگے بھائی کی قدر و منزلت کتنی ہوتی ہے!) گدھے کی سادگی، مروّت، ملنساری، مستقل مزاجی اور سخت کوشی پر رشک آنے لگتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ کاش ایسی عالی ظرفی اور اپنے جدِ امجد کے وضع کردہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی تعلیم باقی مخلوق کو بھی نصیب ہوتی۔اس نازکی پہ کون نہ مر جائے کہ جنابِ عالی کا سرِ تسلیم ہمیشہ خم، کسی سے کوئی عداوت نہیں، نہ بغض و کینہ؛ بس شب و روز تعمیلِ ارشادِ مالک میں ہمہ تن گوش۔ہم اُن تمام گدھوں کو ان کی اعلیٰ ظرفی پر دل کھول کر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو نہ صرف اپنے خودساختہ مالک کے ظلم و ستم برداشت کرتے ہیں بلکہ بلا عوض ہر خدمت کے لیے ہر دم مستعد بھی رہتے ہیں۔ رضاکارانہ خدمت کی ایسی مثال دنیا میں خال خال ہی ملتی ہے۔ گدھے کی سب سے بڑی خوبی اُس کا مثالی ضابطۂ حیات ہے۔ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار جس راستے پر چل پڑے، قطعِ نظر اس کے کہ وہ راستہ دشوار ہے یا ہموار، اُسی ایک راستے کو عقیدے کی حد تک درست مان لیتا ہے اور اُسے صراطِ مستقیم سمجھ کر تا حیات اسی مشق کو جاری رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں گدھوں کی اس شاندار روایت کو اپنے کام کے ساتھ عشق کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیوں کہ عشق اندھا ہوتا ہے، اور عشق کا کام ایک مرتبہ چل پڑے تو پھر چلتے رہنا ہوتا ہے۔یہاں تو حد یہ ہے کہ گدھا بیمار ہو یا تندرست، نر ہو یا مادہ، جوان ہو یا بوڑھا، مر جائے گا مگر اپنے ذمہ تفویض کردہ کام کو بھولے سے بھی نہیں بھولے گا۔ مزید یہ کہ امن ہو یا جنگ، غم ہو یا خوشی، اس مخلوق کا ایسی ویسی دنیا داری سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔ بس اپنے کام سے کام رکھتی ہے۔ بہ الفاظِ دیگر، یہ صاحب غلطی سے بھی سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ اس کی سرشت میں شامل ہے، مالک کا خوف ہے یا بتائے ہوئے راستے پر اندھا یقین و اعتماد۔موصوف کو اگر کوئی منتخب شدہ راستے سے ہٹانے کی کوشش کرے تو وہ اور بھی اکڑ جاتا ہے، اور ایسا اکڑتا ہے کہ ایک قدم آگے نہیں بڑھاتا۔ کھوار زبان میں اسے ’’گوردوغو ترچ دیک‘‘ یا ’’گوردوغو پَتَڑ دیک‘‘ کہتے ہیں۔ آپ جتنا اُسے راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں گے، وہ اتنا ہی زیادہ ضد دکھائے گا۔ مجال ہے کہ کوئی مائی کا لال اُسے ذرّہ برابر بھی ہلا سکے۔

یہی ہے اُن کی مستقل مزاجی جس پر ہم مرتے ہیں۔

حالیؔ نے ایسی یکتائی پر کیا خوب خیال اُبھارا ہے:

؎ ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور

عالم میں تجھ سا لاکھ سہی، تو مگر کہاں

گدھوں کی وفاداری پر تو جان قربان، لیکن ایک فعل ، اور یہ سب گدھوں کا نہیں بلکہ چند گدھوں کا وصف ہے ، ہمارے نزدیک دخل در معقولات ہے، اور وہ ہے ان کا بے ہنگم ہینگنا۔ان کی سماعت خراش آواز دن کے وقت تو کسی نہ کسی طرح برداشت ہو جاتی ہے، لیکن جب صبح سویرے یہ پڑوسیوں کو بھی دعوتِ مجلس دینے لگتے ہیں تو برسوں کے مردے بھی سر بہ کفن جاگ اُٹھتے ہیں۔ آخر کون انہیں سمجھائے کہ جناب! اتنی بلند آواز میں صبح صبح جو آپ پورا محلہ سر پر اٹھائے پھرتے ہیں، یہ کہاں کا انصاف ہے جس علاقے سے میں گزر رہا تھا، وہ منظر انڈیا یا افریقہ کے اُن صحراؤں کی یاد دلا رہا تھا جہاں جنگلی حیات زندگی کو اپنے فطری انداز میں گزارتی ہے۔ وہاں ہر جانور کو اپنی مرضی سے جینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ وہ آزاد فضا میں کھاتے، پیتے، سوتے، جاگتے، دوڑتے، اچھلتے اور چوکڑیاں بھرتے پھرتے ہیں۔ خصوصاً جنگلی گدھے، جو پیٹ بھر کر چرنے کے بعد دوڑتے اور اچھلتے ہوئے اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ اُن کے ہاں اچھل کود، مستی، قہقہے اور آزادی ہی زندگی کا اصول ہیں۔ وہ کسی اور کے وضع کردہ اصول کو اصولِ حیات نہیں مانتے، البتہ فطرت کے مطابق جینے کو زندگی کا اصل ضابطہ سمجھتے ہیں۔پچھلے دنوں ٹیلی وژن پر ایک ایسا ہی مست جنگلی گدھا دیکھا تو سوچنے لگا کہ اگر ہمارے چترال کے گدھوں کو معلوم ہو جائے کہ دنیا میں ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں اپنی سوچ کے مطابق جینے پر کوئی پابندی نہیں، تو مجھے یقین ہے کہ یہ خبر انہیں نہایت بھونڈی محسوس ہوگی اور وہ میری جان کے درپے ہو جائیں گے کیوں کہ وہ زندگی کو اپنی نظر سے دیکھتے ہیں اوار اپنے آپ کو سب سے دانشمند سمجھتے ہیں یہی اپنے آپ کو دانشمند سمجھے کا خیال اُنہیں گدھا سے آگے جانے سے روکتی ہے ۔سوال جو بار بار میرے ذہن سے ٹکراتا ہے، وہ یہ ہے کہ آخر درست خطوط پر زندگی کون گزار رہا ہے؟ ہمارے گدھے یا وہ جو آزاد گھومتے پھرتے ہیں؟ یہ سوچتے سوچتے میں شندور عبور کرنے ہی والا تھا کہ اقبالؔ کے ایک شعر نے ساری گتھی سلجھا دی:

؎ یہاں کوتاہیِ ذوقِ عمل ہے خود گرفتاری

جہاں بازو سمٹتے ہیں وہاں صیاد ہوتا ہے

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock