
ریاستِ مدینہ کا نعرہ اور چترال کی زمینی حقیقت تحریر: عبدالغفار
پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہر حکومت نے عوام سے تبدیلی، شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کے وعدے کیے، مگر عملی طور پر کرپشن کا ناسور آج بھی قومی نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ چترال بھی اس تلخ حقیقت سے الگ نہیں۔ مختلف ادوار میں یہاں بھی کرپشن، اقربا پروری، سفارش، سیاسی مداخلت اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔جب تحریکِ انصاف نے “ریاستِ مدینہ” کا نعرہ بلند کیا تو عوام کو امید پیدا ہوئی کہ اب حکمرانی کا انداز بدل جائے گا۔ لوگوں نے یہ تصور کیا کہ اب انصاف ہوگا، احتساب بلاامتیاز ہوگا، میرٹ کی بالادستی قائم ہوگی اور سرکاری وسائل کو عوام کی امانت سمجھ کر استعمال کیا جائے گا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا کہ کیا واقعی وہ تبدیلی آئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟ناقدین کا کہنا ہے کہ چترال میں کرپشن پہلے بھی موجود تھی، مگر “ریاستِ مدینہ” کے دعووں نے عوام کی توقعات کو بہت بلند کر دیا تھا۔ اسی لیے جب کرپشن، بے ضابطگیوں یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات سامنے آئے تو مایوسی پہلے سے زیادہ محسوس ہوئی۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت خود کو ریاستِ مدینہ کا نمونہ قرار دیتی ہے تو پھر اس کے معیار بھی عام حکومتوں سے بلند ہونے چاہییں۔سرکاری ملازمتوں اور تبادلوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق میرٹ کے بجائے سفارش، سیاسی وابستگی اور ذاتی تعلقات کو فوقیت دی گئی، جس سے اہل نوجوانوں میں مایوسی پیدا ہوئی۔ اگر میرٹ صرف تقریروں میں ہو اور عملی فیصلوں میں نظر نہ آئے تو پھر انصاف کا دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے۔اسی طرح عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ حکومتی ریلیف، امدادی پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم میں سیاسی وابستگی کو اہمیت دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کے کارکنوں اور حامیوں کو زیادہ فائدہ پہنچا، جبکہ مخالف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد خود کو نظرانداز محسوس کرتے رہے۔ اگر ریاستی وسائل کی تقسیم سیاسی بنیادوں پر ہونے لگے تو اس سے معاشرے میں احساسِ محرومی اور تقسیم پیدا ہوتی ہے، حالانکہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ہر شہری کے ساتھ مساوی سلوک کرے۔ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بھی مختلف اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض ناقدین کا دعویٰ ہے کہ کئی منصوبے فائلوں اور کاغذات میں تو موجود ہیں، لیکن ان کے عملی نتائج عوام کو نظر نہیں آتے۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو ان کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، اور اگر غلط ہیں تو حکومت پر لازم ہے کہ شفاف انداز میں حقائق عوام کے سامنے رکھے۔اس جماعت کے اندرونی اختلافات بھی اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہیں۔ مبصرین کے مطابق جب پارٹی کے کچھ رہنما یا کارکن عہدوں یا مراعات سے محروم رہ جاتے ہیں تو وہ اپنی ہی قیادت پر کرپشن، بدانتظامی اور کاغذی ترقیاتی منصوبوں کے الزامات لگاتے ہیں۔ لیکن جب انہی افراد کو دوبارہ سیاسی حیثیت، عہدہ یا کوئی ذمہ داری مل جاتی ہے تو ان کی تنقید میں واضح کمی آ جاتی ہے۔ اس صورتِ حال سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بعض اختلافات اصولوں کے بجائے مفادات سے جڑے ہوتے ہیں۔ریاستِ مدینہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی نظام کا نام ہے، جہاں انصاف طاقتور اور کمزور میں فرق نہیں کرتا، جہاں امانت و دیانت حکمرانوں کی پہچان ہوتی ہے، جہاں ریاستی وسائل کو ذاتی یا جماعتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا، اور جہاں عوامی خدمت اقتدار کا مقصد ہوتی ہے، نہ کہ اقتدار عوام پر برتری حاصل کرنے کا ذریعہ۔آج چترال کے عوام کسی معجزے کے منتظر نہیں، بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف ہو۔ ملازمت میرٹ پر ملے، ترقیاتی منصوبے زمین پر نظر آئیں، ریلیف مستحق افراد تک پہنچے، اور احتساب ہر اس شخص کا ہو جو عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو۔قومیں نعروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔ اگر دعووں اور عمل میں ہم آہنگی نہ ہو تو عوام سوال ضرور کرتے ہیں۔ اور یہی سوال کسی بھی جمہوری نظام کی اصل طاقت ہوتے ہی
