
رنگ، نسل اور نسب نہیں انسان کی اصل پہچان تقویٰ ہے*۔۔تحریر: ابوسلمان محمد قاسم
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے عقل، شعور اور عزت عطا فرمائی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ اس کی نگاہ میں عزت کا معیار دولت، رنگ، نسل، قوم، قبیلہ یا خاندانی شرافت نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ قرآنِ مجید نے اس حقیقت کو نہایت جامع اور ابدی انداز میں بیان فرمایا:
*﴿یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ﴾*
(الحجرات: 13)
ترجمہ: “اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر بات سے باخبر ہے۔”
یہ آیت انسانی مساوات کا ایسا عالمی منشور ہے جس کی نظیر دنیا کے کسی فلسفے یا قانون میں نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک ہی باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ایک ہی ماں حضرت حوا علیہا السلام کی اولاد قرار دے کر یہ اعلان فرما دیا کہ نسب کے اعتبار سے سب برابر ہیں۔ قومیں، قبیلے اور خاندان صرف باہمی شناخت کے لیے ہیں، برتری جتانے، تکبر کرنے یا دوسروں کو حقیر سمجھنے کے لیے نہیں۔
*نسب پر فخر… ایک خطرناک روحانی بیماری*
دنیا میں تکبر کے کئی اسباب ہیں، مگر ان میں سب سے خطرناک حسب و نسب پر فخر ہے۔ مال، حسن یا منصب عارضی چیزیں ہیں، ان کے ختم ہونے کے ساتھ ان پر کیا جانے والا غرور بھی ختم ہو جاتا ہے، لیکن نسب پر کیا جانے والا تکبر نسل در نسل انسان کے دل میں باقی رہ سکتا ہے، اسی لیے قرآن نے خصوصی طور پر اسی بیماری کی اصلاح فرمائی۔
امام ابو حامد محمد غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اپنے خاندانی شرف کی بنیاد پر دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنا اپنی توہین خیال کرتے ہیں اور تکبر سے کہتے ہیں: “تم کون ہو؟ تمہارا باپ کون ہے؟ میں فلاں خاندان کا فرد ہوں۔” یہ تکبر دل کی ایسی پوشیدہ بیماری ہے جو بسا اوقات نیک لوگوں میں بھی موجود ہوتی ہے، مگر غصے کے وقت زبان پر آ جاتی ہے۔
*ابو ذر غفاریؓ کا سبق*
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ کسی شخص سے تکرار ہوئی تو انہوں نے اسے “کالی عورت کا بیٹا” کہہ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فوراً تنبیہ فرمائی کہ “کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں۔” یہ الفاظ حضرت ابو ذرؓ کے دل پر ایسے اثر انداز ہوئے کہ فوراً زمین پر لیٹ گئے اور اس شخص سے کہا: “میرے رخسار پر اپنا پاؤں رکھ دو، تاکہ میرے دل سے تکبر کا آخری اثر بھی نکل جائے۔”
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی ایمان انسان کو عاجزی، انکساری اور خود احتسابی کی طرف لے جاتا ہے۔
*نسب پر فخر کا انجام*
ایک روایت میں آتا ہے کہ دو آدمیوں نے ایک دوسرے پر اپنے آباء و اجداد کے ذریعے فخر کیا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان فرمایا کہ ایک شخص نے اپنی نو پشتوں کا ذکر کر کے فخر کیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ وہ تمام نو پشتیں جہنم میں ہیں اور اگر تم نے یہی روش نہ چھوڑی تو تم ان کے ساتھ دسویں ہوگے۔
اسی طرح رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“لوگ اپنے آباء و اجداد پر فخر کرنا چھوڑ دیں، ورنہ وہ اللہ کے نزدیک اس کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوں گے جو اپنی ناک سے گندگی کو دھکیلتا ہے۔”
یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ نسب پر غرور انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔
*اصل عزت… صرف تقویٰ*
اس آیت کے دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ نے شرافت اور فضیلت کا حقیقی معیار بیان فرمایا:
“بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔”
یہ اعلان تمام انسانی امتیازات کو ختم کر دیتا ہے۔ رنگ، نسل، زبان، قوم، وطن اور خاندان کی حیثیت صرف تعارف تک محدود ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت صرف ایمان، اخلاص اور تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔
*شانِ نزول… ایک حبشی غلام کی عظمت*
مفسرین نے بیان کیا ہے کہ مدینہ کے بازار میں ایک حبشی غلام فروخت ہو رہا تھا۔ وہ اعلان کر رہا تھا کہ جو شخص اسے خریدے، وہ یہ شرط قبول کرے کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پانچوں نمازیں ادا کرنے سے نہ روکے۔ ایک شخص نے اسے خرید لیا۔ بعد میں وہ بیمار ہوا تو حضور ﷺ خود اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پھر اس کی وفات پر جنازے اور تدفین میں بھی شریک ہوئے۔ بعض لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت کا معیار رنگ یا نسل نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔
*خطبۂ فتح مکہ اور مساوات کا اعلان*
فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور اور خاندانی فخر ختم کر دیا ہے۔ اب صرف دو قسم کے لوگ ہیں: ایک وہ جو نیک اور متقی ہے، وہ اللہ کے نزدیک معزز ہے، اور دوسرا وہ جو بدکار اور گناہگار ہے، وہ اللہ کے نزدیک ذلیل ہے۔ تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔”
*حجۃ الوداع کا تاریخی پیغام*
حجۃ الوداع میں حضور اکرم ﷺ نے اعلان فرمایا:
“کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، فضیلت صرف تقویٰ سے ہے۔”
یہ پیغام آج بھی نسل پرستی، قوم پرستی، لسانیت اور خاندانی تعصب کا مکمل علاج ہے۔
*قیامت کے دن اصل معیار*
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں سے فرمائے گا:
“تم نے میرے احکام کو پس پشت ڈال دیا اور اپنے نسبوں پر فخر کرتے رہے۔ آج میں تمہارے نسب کو کوئی حیثیت نہیں دیتا۔ کہاں ہیں متقی لوگ؟ بے شک میرے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔”
*آج کے معاشرے کے لیے پیغام*
افسوس کہ آج بھی ہماری سوسائٹی میں برادری، خاندان، ذات، قوم اور زبان کی بنیاد پر برتری کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ رشتوں سے لے کر سیاست، کاروبار اور سماجی تعلقات تک ہر جگہ نسب کو معیار بنا لیا گیا ہے، جبکہ قرآن و سنت اس سوچ کی سختی سے نفی کرتے ہیں۔
ایک سچا مسلمان وہ ہے جو اپنے اخلاق، کردار، عبادت، تقویٰ اور خدمتِ خلق کے ذریعے عزت حاصل کرے، نہ کہ اپنے خاندان، نسل یا قوم کے ذریعے۔
سورۂ حجرات کی یہ آیت انسانیت کو مساوات، اخوت اور تقویٰ کا وہ عظیم درس دیتی ہے جو ہر دور کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگر ہم واقعی ایک پرامن، باوقار اور اسلامی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں نسبی غرور، خاندانی تکبر، رنگ و نسل کے امتیازات اور برادری کے تعصبات کو ہمیشہ کے لیے ترک کرنا ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت کا واحد معیار تقویٰ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے فخر، غرور اور تکبر سے محفوظ رکھے، عاجزی، اخلاص اور تقویٰ کی دولت عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جنہیں قیامت کے دن عزت و کامیابی نصیب ہوگی۔
آمین یا رب العالمین۔
