
چترال مائن اونرز ایسوسی ایشن کے، نئی کابینہ کا اعلان حاجی مغفرت شاہ سرپرستِ اعلیٰ اور اشفاق علی خان متفقہ طور پر صدر منتخب، وفاقی منرل بل مسترد
چترال (چترال ایکسپریس)چترال مائن اونرز ایسوسی ایشن کا ایک اہم اور تاریخی اجلاس مقامی ہوٹل میں سابق صدر لیاقت علی خان کی صدارت میں منعقد ہوا، جو ایسوسی ایشن کی تنظیمی پیش رفت، باہمی اتحاد اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اجلاس میں سینئر اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ بعض معزز اراکین
نے ٹیلیفون کے ذریعے اپنی تجاویز پیش کیں۔
اجلاس کا بنیادی مقصد ایسوسی ایشن کے دو علیحدہ گروپوں کو باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرنا تھا، جس میں مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔ شرکاء نے اس تاریخی پیش رفت کو نہایت خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کا کریڈٹ سینئر لیز ہولڈر و سابق ناظم حاجی مغفرت شاہ اور سابق صدر لیاقت علی خان کو دیا، جنہوں نے اپنے خلوص اور تدبر سے دونوں گروپوں کے درمیان مفاہمت اور ہم آہنگی قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ دونوں گروپوں کو متحد کرنے پر شہزادہ مدثر الملک، نعیم اور ذوالفقار احمد کی خدمات کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اجلاس میں معروف سماجی شخصیت عنایت اللہ اسیر نے خصوصی شرکت کی اور اپنے خطاب میں اتحاد، باہمی مشاورت اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اراکین کو نظم و ضبط کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کیا۔ شرکاء نے صدر اشفاق علی خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے صوبائی و مرکزی سطح پر چترال کے مسائل اجاگر کرنے اور وفاقی منرل بل کو مسترد کرنے میں ان کے جرات مندانہ کردار پر شکریہ ادا کیا۔
اجلاس میں باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے آئندہ مدت کے لیے نئی کابینہ کی تشکیل دی گئی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
سرپرستِ اعلیٰ: حاجی مغفرت شاہ،
صدر: اشفاق علی خان ،سینئر نائب صدر: بشیر احمد خان ،نائب صدر: آفتاب، جنرل سیکرٹری: شہزادہ مدثر الملک، جائنٹ سیکرٹری: ذوالفقار ،فنانس سیکرٹری: حسین شاہ،سیکرٹری اطلاعات: اسد الرحمٰن ،ڈپٹی سیکرٹری: عمران الدین ،اکاؤنٹنٹ: ظاہر شاہ
اجلاس کے اختتام پر تمام اراکین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چترال مائن اونرز ایسوسی ایشن تمام لیز ہولڈرز کے حقوق کے تحفظ، معدنیات کے شعبے کی ترقی اور درپیش مسائل کے پائیدار حل کے لیے متحد ہو کر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، کیونکہ تنظیمی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی ہی مضبوط مستقبل کی ضامن ہے۔
