
اخبار میں جو کالم چھپتا ہے وہ ایک دن قارئین کے سامنے ہوتا ہے اس کے بعد آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اس وجہ سے پبلشر کالموں کے مجموعے کتابی صورت میں شائع کرتے ہیں تا کہ مستقل اہمیت کے حامل کالم کتاب گھروں اور لائبریریوں کی وساطت سے قارئین کو برسوں تک دستیاب ہوں “خاکے اور تبصرے” ایسی ہی کتاب ہے جس میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کے 55 کالموں کو یکجا کیا گیا ہے پبلشر نے اُن کالموں کا انتخاب کیا ہے جن میں تاریخی شخصیات کو موضوع بنایا گیا ہے ، اس سے پہلےکالم نگار کے قلم سے چترال کی 53 شخصیات کی زندگی پر لکھے ہوئے کالم “چترال کے چند نگینے” کے نام سے شائع ہوئے تھے ، لسانی اور ثقافتی موضوعات پر ان کے کالموں کا ایک مجموعہ “زبان اور ثقافت” کے عنوان سے شائع ہوا تھا نیز چیدہ موضوعات پر کالموں کا ایک اور مجموعہ پرواز کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا موجودہ کتاب
مصنف کے کالموں کا چوتھا مجموعہ ہے اس میں جن شخصیات کا ذکر ہے ان میں اکثریت کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے، پشاور کی چیدہ شخصیات کا ذکر آیا ہے تاہم قومی سطح کی شخصیات میں خیبر پختونخوا سے باہر مشہور اداکار محمد علی اور نامور وکیل علی احمد کرد اور ممتاز روحانی شخصیت نفیس شاہ کے تذکرے بھی کتاب میں شامل ہیں۔ جن شخصیات کے ساتھ کالم نگار کی شناسائی، دوستی یا دفتری سلسلے کا کوئی قریبی تعلق رہا ان کے دلچسپ خاکے لکھے، ایسے خاکے جو شخصیت کو جیتی جاگتی صورت میں قارئین کے سامنے رکھتے ہیں ایسی شخصیات میں انجینئرنگ کالج کے پروفیسر اور ہومیو ڈاکٹر درویش صفت افسر ڈاکٹر عبیداللہ درانی سر فہرست ہیں پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد انور خان، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سابق ڈائریکٹر عنایت اللہ ریاض، نامور ادیب سید تقویم الحق کاکا خیل، نامور کالم نگار ڈاکٹر ظہور احمد اعوان، سابق ڈائریکٹر اطلاعات قاضی سرور، فرزند پشاور
ڈاکٹر سید امجد حسین، روزنامہ آج کے چیف ایڈیٹر عبدالواحد یوسفی اور روزنامہ الفلاح کے چیف ایڈیٹر سید عبداللہ شاہ کے علاوہ قصہ خوانی کے گوشہ ادب اور بختیار سنز والے دانشور ممتاز عسکری بھی شامل ہیں۔ شناسا چہروں میں جن دیگر احباب کو جگہ ملی ہے ان کے اسمائے گرامی ڈاکٹر صلاح الدین، ڈاکٹر عدنان گل، صابر حسین امداد، عبدالکافی ادیب، عبداللہ جان مغموم عرف مرچکے، میاں نعیم رضا، اکرام اللہ، کفایت اللہ درانی، فاروق احمد جان بابر، ضیاء الدین، جمیل صدیقی، فرحت اللہ بابر، اورنگ زیب غزنوی، پروفیسر عالمزیب خٹک، فخرالزمان انکل ٹونی، یہ فہرست کافی تھکا دینے والی ہے مگر مصنف کا اندازِ بیان اتنا سہل اور شگفتہ ہے کہ یہ پڑھتے ہوئے ذرہ برابر بوریت نہیں ہوتی
جن شخصیات سے کالم نگار کی ملاقات نہیں ہوئی مختلف ذرائع سے ان کے حالات معلوم کیے ان کے تذکرے کتاب میں آتے ہیں ایسی شخصیات شیخ محبوب علی خان اور صاحبزادہ عبدالقیوم خان جیسے بیوروکریٹ،
جنرل میاں محمد افضال، جنرل اعظم خان اور جنرل یحییٰ خان جیسے پشاور کے فوجی افسر، فدا محمد خان، آغا سید فضل شاہ، ارباب سکندر خان خلیل اور خان عبدالقیوم خان جیسے پشاور کے سیاستدان اور نامور علماء میں مولانا محمد امیر بجلی گھر، مولانا عبدالرحیم پوپلزئی جیسے نابغہ روزگار شخصیات کے نام آتے ہیں، کالم نگار نے بعض شخصیات کے لئے ان کے کردار کی مناسبت سے القابات بھی نام کے ساتھ درج کئے ہوئے ہیں مثلاً جہانگیر خان کو سکواش کی دنیا کا تاجدار، جنرل یحییٰ خان کو پشاور کا بد نصیب فرزند، قاضی عبدالولی خان کو مجاہد ملت، محمد یونس قریشی کو 1934 کا اسامہ اور عبدالجلیل غازی کو پشاور کا گمنام سپاہی کا لقب دیا ہے، جن شخصیات کا تذکرہ آیا ان میں عبدالرؤف سیماب، فہمیدہ اختر، ایم ایم شریف آرٹسٹ، سید مظهر گیلانی، پروفیسر مظہر علی خان، شیخ دین محمد فاروقی، مولانا عبدالرحیم نقشبندی اور حاجی غلام حسین کے نام نامی آتے ہیں
کالم نگار کا اسلوب اگر دیکھنا ہو تو یہ دیکھیے عبداللہ جان مغموم کا خاکہ لکھتے ہوئے ریڈیو پاکستان پشاور کے کاونٹر پبلسٹی کے پشتو پروگرام میں ان کے قلمی نام مرچکے کے کردار میں ایک ڈائیلاگ کا حوالہ دیکر لکھتے ہیں “ان کی آواز میں ایسا زیر و بم تھا کہ اپنی آواز کے ذریعے گویا کوئی تصویر سامعین کے سامنے رکھتے تھے آپ کسی طنزیہ جملے کا پہلا حصہ ادا کر کے وقفہ لیتے Pause دیتے پھر طنزیہ ہنسی ہنسنے کے بعد جملے کا دوسرا حصہ بولتے تو ایسا لگتا گویا بولنے والا آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہے ان کے ایک پشتو جملے کا اردو ترجمہ ملاحظہ ہو “بنیا کہتا ہے کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے ہاہاہاہاہاہا.. کیا اپنے اٹوٹ انگ میں کوئی اتنا خون بہاتا ہے… ہاہاہاہاہاہا … نہیں مانتا نہیں مانتا، طوطا رام نہیں مانتا”
سید تقویم الحق کاکا خیل کا خاکہ لکھتے ہوئے ایک محفل کا حال بیان کرتے ہیں چھٹی کل پاکستان اہل قلم کانفرنس کی ایک نشست تھی سید تقویم الحق کاکا خیل نے روسٹرم پر آکر پشتو ادب پر مقالہ پیش کرتے ہوئے ایسا سماں باندھا کہ ہر جملے پر داد ملی، ہر نکتے پر واہ واہ ہوئی روسٹرم سے نیچے اترے تو دیر تک ہال میں تالیاں گونجتی رہیں ان کے بعد پنجابی ادب پر مقالہ پڑھنے کے لئے سجاد حیدر کو دعوت دی گئی تو انہوں نےروسٹرم پر آ کر ایک ہی جملہ کہا “خان صاحب کی خوبصورت اور شستہ و شائستہ گفتگو کے بعد میں اپنا مقالہ پڑھ کر آپ کی سماعت کا مزہ کرکرا کرنا نہیں چاہتا اس طرح سید تقویم الحق کاکا خیل کے مقالے پر نشست کا اختتام ہوا
خاکے اور تذکرے میں جس شخصیت کا بھی ذکر آیا ہے وہ اپنی ذات میں منفرد ہے، کتاب اس لائق ہے کہ ہر لائبریری میں اس کی جلد موجود ہو اور قارئین کو ہر جگہ دستیاب ہو گندھارا ہندکو اکیڈمی نے خوبصورت جلد بندی کے ساتھ شائع کیا ہے قیمت 500 روپے ہے، سعید بک بینک اسلام آباد اور یونیورسٹی بک ایجنسی پشاور میں دستیاب ہے
