
کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں کے شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے بھوک ہڑتال، احتجاج یا سڑکوں پر نکلنے کی نوبت نہ آئے۔ جب ریاست اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو جائے تو خاموشی ٹوٹتی ہے، آوازیں بلند ہوتی ہیں، اور کبھی یہی آوازیں ایک فرد کی صورت میں پوری قوم کے درد کی ترجمان بن جاتی ہیں۔
آج موڑکھو کا ایک نوجوان، محمد علی شاہ، گزشتہ کئی دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہے۔ اس کا مطالبہ نہ کوئی ذاتی مفاد ہے، نہ کوئی سیاسی خواہش، نہ کسی عہدے کی طلب۔ اس کی صرف ایک آواز ہے: “میرے علاقے کے لیے سڑک تعمیر کی جائے۔”
سڑک کسی ایک فرد کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ پوری آبادی کی شہ رگ ہوتی ہے۔ سڑک ترقی کا راستہ ہے، تعلیم تک رسائی کا ذریعہ ہے، مریض کی جان بچانے کا وسیلہ ہے، تجارت کی بنیاد ہے اور دور دراز علاقوں کو قومی دھارے سے جوڑنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جن علاقوں کو سب سے زیادہ ان بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہے، وہی سب سے زیادہ محرومی کا شکار ہیں۔
چترال قدرتی حسن سے مالا مال ضرور ہے، مگر بنیادی سہولتوں کے اعتبار سے آج بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی علاقے اب بھی مناسب سڑکوں، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اگر کہیں ترقیاتی منصوبے شروع بھی ہوتے ہیں تو اکثر تاخیر، غفلت یا بدعنوانی کے الزامات ان کا تعاقب کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہوتا جاتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ چترال کے لوگ اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے ہوں۔ گزشتہ برسوں میں تورکھو روڈ کے متاثرین، ریشن پاور ہاؤس کے متاثرین اور مستوج بروغل روڈ کے لیے عوامی تحریکیں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ لوگ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان مطالبات کے جواب میں اکثر وعدے، یقین دہانیاں اور مزید وقت مانگنے کی روایت ہی دہرائی جاتی ہے، جبکہ عملی پیش رفت بہت کم دکھائی دیتی ہے۔
محمد علی شاہ کی بھوک ہڑتال بھی اسی طویل جدوجہد کی ایک کڑی ہے۔ وہ صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بیٹھا، بلکہ اپنے علاقے کے ہزاروں لوگوں کے مستقبل کے لیے آواز اٹھا رہا ہے۔ ایسے افراد کسی بھی معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کے لیے قربانی دیتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث محمد علی شاہ کی طبیعت تشویشناک ہونے پر
انہیں ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال صرف ان کے اہلِ خانہ کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے جو انسانی جان اور بنیادی حقوق کی قدر کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام اس مسئلے کو محض ایک احتجاج نہ سمجھیں بلکہ اسے عوامی احساسِ محرومی کی علامت کے طور پر دیکھیں۔ مسائل کو وقت گزرنے کے حوالے کرنا یا صرف وعدوں سے ٹالنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ حقیقی حل سنجیدہ مذاکرات، بروقت فیصلوں اور عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے۔
قوموں کی ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں سے نہیں ہوتی بلکہ ان سڑکوں سے ہوتی ہے جو دور افتادہ بستیوں کو امید، تعلیم، صحت اور ترقی سے جوڑتی ہیں۔ اگر آج بھی بنیادی ضروریات کے لیے لوگوں کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر بھوک ہڑتال کرنا پڑے تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے نظام کا سوال ہے۔
محمد علی شاہ اکیلے نہیں ہیں۔ وہ ایک علاقے کی امید، ایک قوم کی آواز اور ان ہزاروں خاموش لوگوں کی نمائندگی کر رہے ہیں جو برسوں سے اپنے جائز حقوق کے منتظر ہیں۔ اب یہ ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ معاشرے کی بھی ہے کہ وہ ایسے پرامن اور آئینی مطالبات کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
تاریخ ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔
