کاوشات اقبال

عہدِ حاضر میں اولاد کی تربیت: والدین کو درپیش چیلنجز..کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق..محمد اقبال شاکر

انسانی سیرت و کردار کی تعمیر میں بچپن کا زمانہ اہم مانا جاتا ہے، جس میں انسانی عادات و اطوار کی ابتدا ہوتی ہے اور پھر ان کی نشوونما ہوتی ہے۔ اس نشوونما کے ساتھ جذبات اور احساسات بھی پروان چڑھتے ہیں۔ اگر ان تمام کی نشوونما صحیح طور پر کی جائے تو متوازن شخصیت پھلتی پھولتی ہے، لیکن ایسی نشوونما میں والدین کی تعلیم و تربیت کو کافی دخل حاصل ہے۔ اولاد کے ذہن کو سمجھنا اور پھر ان کے جذبات اور احساسات کے مطابق لائحۂ عمل اختیار کرنا ہی تعلیم کا سب سے بڑا جوہر ہے۔

بچہ پانچ سال کی عمر تک بڑی آزادی سے بڑھتا، پھولتا اور نشوونما پاتا ہے۔ جذباتی اور احساساتی لحاظ سے اس پر کسی قسم کی روک ٹوک نہیں ہوتی، لیکن جب وہ پانچ، چھ سال کی عمر میں پہنچتا ہے تو پہلے والی آزادی اس سے ختم کر دی جاتی ہے۔ اس سے یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے کوئی ہمدرد اور مونس اس سے روٹھ کر چلا گیا ہے۔ اس دوران وہ اپنے آپ کو تنہا خیال کرنے لگتا ہے، ایک ایسے فرد کی مانند جس سے ناز و نعمت سے محروم کر دیا گیا ہو۔ وہ اس ہمدردی کا متلاشی ہوتا ہے جو اس سے پہلے نصیب تھی۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ یہ آزادی بچے کے ذہن پر اثر انداز نہ ہو، خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ اولاد کو کسی بات کا پابند کرنا ہو۔

موجودہ سوشل میڈیا کے تیز ترین دور نے والدین کو دوراہے پر کھڑا کر رکھا ہے۔ کسی کا خیال ہے کہ بچوں کو موجودہ دور کے مطابق آزادی ملنی چاہیے۔ بچوں کو آزاد چھوڑ دینا بہتر ہے۔ اگر بچوں کی ہر خواہش کو پورا نہ کیا گیا تو موجودہ دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کس طرح سے کریں گے؟ آزادی کا اس طرح کا راستہ بچوں کی متوازی تعمیر کے لیے کس طرح بھی مفید نہیں، بلکہ بہ مہلک ہے۔ جہاں تک ہو سکے، والدین کو ایسی آزادی سے بچنا چاہیے۔ اب جب بھی پختہ عمر میں بچوں کی بری عادت اور دیگر مختلف الجھنوں کا مطالعہ کیا ہے تو یہ بات واضح ہو چکی کہ وہ دراصل بچپن میں اس طرح آزادی کا شکار تھے اور ان کی پرورش بڑی ناز و نعمت میں ہوئی تھی۔

سوشل میڈیا کے دور میں اولاد کی تربیت بہت ہی بڑا چیلنج ہے۔ اس کی سب بڑی وجوہات اسکرین کا زیادہ استعمال، اخلاقی زوال، اولاد میں اکتاہٹ، چڑچڑاپن، نظر نہ آنے والی دنیا وغیرہ شامل ہیں۔ والدین کو اس بات پر پریشانی ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے جدید دور نے بچوں کی ذہنی صحت اور اقدار کو روز بروز متاثر کر رہی ہے اور اس سے باز رہنے کا کوئی معقول طریقۂ عمل بھی نظر نہیں آتا۔ بچے روزانہ گھنٹوں موبائل اور سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرتے ہیں، جس سے آپس کی محبت، میل جول کم ہو رہا ہے۔ فحاشی، تشدد اور غیر اخلاقی مواد تک رسائی سے اولاد کی اخلاقی اقدار کو دیمک لگ چکی ہے۔ بچوں کی ہر آنکھ موبائل کی روشنی میں جکڑی ہوئی ہے اور ان کی زندگی کا ہر سیکنڈ ایک نظام کے ہاتھ میں ہے، جو ان کی توجہ اور مزاج کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اخبار، رسائل اور کھیل کود کی جگہ اب موبائل کی دنیا نے قبضہ جما رکھا ہے اور بچے حقیقی دنیا سے کٹ کر تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں، جس کا اثر کبھی کبھار خودکشی کی صورت میں ہو بھی جاتا ہے۔ والدین بھی بچوں کی ہر ضد بغیر سوچے سمجھے پوری کرتے ہیں، پھر ان پر نظر نہیں رکھتے، ان کے دوستوں اور باہر کے ماحول سے بالکل ناآشنا رہتے ہیں۔ یہی دو بنیادی چیزیں اولاد کی بگاڑ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

ریسرچ کے مطابق 70 فیصد والدین اپنی اولاد سے نالاں ہیں۔ ان کے مطابق “فرزند کی پرورش” آج جتنا مشکل اور کٹھن کام بن گیا ہے، آج سے 20 سال پہلے یہ حالت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ اس کی پرورش میں معاشی دشواری اور تنگ دستی بھی ہے۔ لیکن اس بات سے سب متفق ہو سکتے ہیں کہ 99 فیصد نوجوان انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ “یوٹیوب” سوشل میڈیا کا سب سے مقبول ایپ ہے اور ٹک ٹاک کی مقبولیت میں تیز رفتار اضافہ درج کیا جا رہا ہے، جس سے نوجوان نسل منسلک ہے۔

پہلے وقتوں میں کسی غلط کام پر بچے شرمندگی محسوس کرتے تھے اور جو کچھ ہوتا تھا، اس کو بھول بھی جاتے تھے اور نادم ہوتے تھے، مگر اس صدی نے یہ تحفہ دیا کہ شرمندگی کے آثار کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور سنگین جرائم کے ارتکاب کے راستے دکھاتا ہے، جس میں سائبر کرائم، اجنبی احباب کا غلبہ اور نوجوان عمر کے لحاظ کے مطابق قابلِ لذت مواد وغیرہ شامل ہیں۔ اس تناسب سے اس بات کا خیال رکھیں کہ اولاد کے ساتھ گفتگو اس طرح کی جائے کہ اُلٹا اثر نہ لیں، بلکہ وہ ہماری بات دھیان سے سنیں اور انہیں محسوس ہو کہ درست بات کہی جا رہی ہے۔ وہ اپنی اصلاح کریں۔ ایسا نہ ہوا تو سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھی جائے اور اس کا استعمال محدود کیا جائے۔

اولاد نعمتِ خداوندی اور صدقۂ جاریہ ہیں۔ ان کے ساتھ مناسب محبت اور شفقت کا برتاؤ ہی بہتر ہے۔ ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار اور بے جا سختی ہر حال میں مضر ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے برتاؤ میں نرمی سے کام لیں، لیکن موقع و محل کے مطابق سختی کا برتاؤ بھی روا رکھا جائے۔ یہی چیز اولاد کی تعلیم و تربیت میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے اور اس کی تربیت اور شخصیت بخوبی پروان چڑھ سکتی ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔