
آن لائن جوئے کی لت: نوجوان نسل کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ۔۔کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ وہ احکامِ الٰہی کی ہر حال میں پیروی کریں اور اپنی اولاد اور تمام اہلِ خانہ کو جہنم کی خوفناک آگ سے بچائیں، تاکہ ان کی زندگی دنیا اور آخرت میں سنور جائے۔ ہر بچہ چونکہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، اس بنا پر اللہ نے والدین یا سرپرست کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اصلاح کے ساتھ ان کی تربیت بھی کریں، تاکہ یہی بچے ملک و قوم کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنیں۔ قیامت کے دن اللہ کے ہاں اپنی اولاد کے بارے میں جواب دہ ہوں گے۔ ان سے بچے کی کفالت کے بارے میں سوال کیا جائے گا، بلکہ ان کے اخلاق، تربیت اور کردار کے متعلق بھی پوچھا جائے گا۔
آج ہم اپنے معاشرے میں بھی دیکھ رہے ہیں کہ اولاد کی پرورش کے سلسلے میں سینکڑوں ظاہری اور نظر نہ آنے والی خرابیاں اور برائیاں، جو کہ اسلام میں حرام قرار دی گئی ہیں، آہستہ آہستہ سرایت کر رہی ہیں، جن کو بند کرنے کا کوئی طریقہ بھی سمجھ سے بالاتر لگتا ہے۔ جس کی لت پڑتے ہی نوجوان نسل نقلی سرسبز باغ کے پیچھے اپنی خاندان کی جمع پونجی بھی ڈبو دیتی ہے اور اکثر اپنی زندگیاں خودکشی کی نذر کرتی ہے۔ والدین سے باغی ہو رہے ہیں اور چوری، ڈکیتی کی طرف جا رہے ہیں۔ والدین کی بڑی اکثریت اولاد کی وجہ سے پریشان ہے۔ اس بنا پر ہم سب کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں ایسی نظر نہ آنے والی برائیوں کے خلاف آواز اٹھائیں، تاکہ نسلوں کی زندگی محفوظ رہے۔
آن لائن جوا دراصل انٹرنیٹ کے ذریعے کھیلا جانے والا جوا ہے، جس میں نوجوان اور بچے ویب سائٹس یا موبائل ایپس پر گھر بیٹھے کھیلوں پر شرط لگاتے ہیں، ورچوئل کسینو کھیلتے ہیں یا پوکر جیسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اس میں پیسوں کا لین دین ڈیجیٹل طور پر ہوتا ہے اور زیادہ تر پلیٹ فارمز بیرونِ ملک رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ سرگرمی پاکستان میں غیر قانونی ہونے کے باوجود بڑی تیزی کے ساتھ نوجوان نسل میں پھیل رہی ہے۔ آن لائن جوئے کے لیے عام طور پر استعمال ہونے والی بین الاقوامی ویب سائٹس اور ایپس شامل ہیں۔ ان تمام پلیٹ فارمز تک رسائی کے لیے یہ لوگ وی پی این کا راستہ لیتے ہیں، تاکہ حکومتی پابندی کو بائی پاس کیا جا سکے، جو یہ ویب سائٹس نوجوان کے نوخیز ذہن اور اس میں ابھرتے ہوئے خیالات کو سامنے رکھ کر بنا لیتی ہیں، اور نوخیز نسل اس مچھلی کی طرح لپکتی ہے جو کیڑے کے خول کے نیچے موجود ہوتی ہے، جس کو کھانے کی جستجو زندگی ہارنے کی صورت میں ملتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں فیفا ورلڈ کپ کے دوران ڈالروں کے حساب سے جوا کھیلا گیا اور لگ بھگ پچاس لوگ زندگی کی بازی ہار گئے اور لاکھوں ڈالرز کے حساب سے مقروض بن گئے۔
طالبِ علم تو لاعلمی کی معصومیت کے ساتھ اس تباہی کی لت میں پھنس جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو بھی خیرباد کہتے ہیں اور چوری اور دوسرے نہ تھم جانے والی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بعض طالبِ علم موٹیویشنل ٹرینرز کے سمجھانے پر کہ “آپ پڑھ لیں گے تو لاکھوں میں کھیلیں گے” اور جاب کی لالچ میں والدین سے ضد کر کے ایسی فیلڈ میں داخلہ لیتے ہیں جو ان کی بس میں نہیں ہوتا۔ چونکہ والدین کسی بھی حالت میں تعلیم مکمل کروانا چاہتے ہیں، تو ایسی حالت میں نوجوان بچے پیسوں کے دباؤ میں جوئے کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ اس سے پیسہ کمانے کا آسان راستہ یہی نظر آتا ہے، اور پھر نقصان کی صورت میں زندگی گنوانا پڑتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ ایک شخص کو باپ بننے کی سعادت سے نوازتا ہے، وہیں کبھی کبھار اس سے اپنی دی ہوئی نعمت واپس بھی لیتا ہے، جو مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ کبھی اس قسم کی وبا کی صورت میں، جو نظر نہیں آتی اور اولاد کی زندگی تباہ کر چکی ہوتی ہے، جس کا دکھ خاندان کو بھی سہنا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے اپنی اولاد کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات رکھنا تمام والدین کی اولین ذمہ داری ہوگی۔
آن لائن جوئے کی لت بڑی تیزی کے ساتھ نوجوان نسل میں پھیلنے کے خدشات رکھتی ہے، جو ایک مرض کی شکل اختیار کر رہی ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ اس کا باقاعدہ علاج کرنا ہوگا۔ صرف نصیحت سے اس کا علاج ممکن نہیں۔
