
پرئیت کے دو اہم پل سیلابی ریلے میں بہہ گئے، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا
چترال (چترال ایکسپریس): حالیہ شدید سیلابی ریلے کے نتیجے میں پرئیت بالا کو پرئیت پائیں سے ملانے والا مرکزی پل مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس کے باعث علاقے کے عوام، طلبہ اور مریضوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق پرئیت سکول کے بیشتر طلبہ کا تعلق پرئیت بالا سے ہے، جبکہ متعدد خاندان بھی اسی علاقے میں آباد ہیں۔ پل کی تباہی کے باعث طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور مریضوں کو طبی مراکز تک پہنچنے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے، جس سے معمولاتِ زندگی بری
طرح متاثر ہوئے ہیں۔
دوسری جانب پرئیت کے بالائی علاقے کی خوبصورت وادی پھستی کو ملانے والے راستے کا پل بھی حالیہ سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا ہے، جس کے باعث علاقے کے مکینوں کا رابطہ منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
متاثرہ عوام کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی سیلاب کے باعث یہ پل تباہ ہوا تھا، تاہم متعلقہ سرکاری اداروں سے متعدد بار رجوع کرنے کے باوجود مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ بعد ازاں کے آئی ڈی پی (KIDP) نے اے کے آر ایس پی (AKRSP) کے مالی تعاون سے خطیر لاگت سے پل تعمیر کیا، جبکہ رواں سال بھی ادارے کی جانب سے لاکھوں روپے خرچ کرکے اس کی مرمت کی گئی تھی، لیکن حالیہ سیلاب نے ایک بار پھر اسے تباہ کر دیا۔
علاقہ مکینوں نے چترال کی سماجی تنظیموں، منتخب عوامی نمائندوں، رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے)، رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) اور بالخصوص ڈپٹی کمشنر اپر چترال سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں پلوں کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے ایل ایس او (LSO)، کے آئی ڈی پی اور اے کے آر ایس پی سے بھی اپیل کی ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی متاثرہ علاقوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں تاکہ آمدورفت بحال ہو، طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو اور عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
