
گرم چشمہ روڈ سیلاب سے متاثر، تیسرے روز بھی ٹریفک بحال نہ ہوسکی، عوام شدید مشکلات سے دوچار
چترال (چترال ایکسپریس) حالیہ سیلابی ریلوں کے باعث متاثر ہونے والی گرم چشمہ روڈ تیسرے روز بھی ٹریفک کے لیے بحال نہ ہو سکی، جس کے باعث وادی لوٹ کوہ کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ چترال کے بیشتر علاقوں میں سیلاب کے بعد معمولات زندگی بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں، تاہم گرم چشمہ روڈ کی بندش نے ہزاروں افراد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
شاشا کے مقام پر سڑک کے دونوں اطراف پھنسے ہوئے مسافروں نے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ صبح 9 بجے سے سڑک کھلنے کے انتظار میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضوں، خواتین اور بچوں کے ساتھ پیدل سفر ممکن نہیں، جبکہ این ایچ اے حکام بار بار سڑک جلد کھولنے کی یقین دہانی کرا رہے ہیں، لیکن ٹریفک کب بحال ہوگی اس بارے
میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
مقامی افراد کے مطابق این ایچ اے کی مشینری موقع پر موجود ہونے کے باوجود بحالی کے کام کی رفتار انتہائی سست ہے، جس کے باعث آئندہ چند روز میں بھی سڑک مکمل طور پر کھلنے کی امید کم دکھائی دیتی ہے۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ وادی لوٹ کوہ میں سڑک کی مسلسل بندش کے باعث غذائی اشیاء کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ مزید برآں آلو اور مٹر کی تیار فصلیں ایک طرف سیلاب سے متاثر ہوئی ہیں، جبکہ باقی ماندہ پیداوار بروقت منڈیوں تک نہ پہنچنے کے باعث خراب ہونے کا اندیشہ ہے، جس سے کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خود موقع پر موجود رہ کر بحالی کے کام کی نگرانی کریں اور سڑک کو جلد از جلد ٹریفک کے لیے کھولنے کو یقینی بنائیں، تاکہ مریضوں کی بروقت ہسپتال منتقلی اور زرعی پیداوار کی منڈیوں تک رسائی ممکن ہو سکے۔
