مضامین

پنجاب کے افسر اور خیبر پختونخوا کے افسر: چترال کے چالیس سالہ تجربات تحریر: عبدالغفار

چالیس برس کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔ میری صحافتی زندگی کے یہ چالیس سال چترال کی سیاست، سماج، ثقافت اور انتظامی نظام کے اتار چڑھاؤ کی ایک مکمل داستان ہیں۔ اس دوران نہ جانے کتنے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس افسران اور دوسرے سرکاری حکام آئے اور چلے گئے۔ کچھ نے اپنی کارکردگی کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ آج بھی ان کا ذکر احترام سے کیا جاتا ہے، جب کہ کچھ ایسے بھی تھے جن کی یادیں عوام کے دلوں میں خوشگوار تاثر چھوڑنے میں ناکام رہیں۔میرے مشاہدے کے مطابق چترال میں تعینات ہو والے زیادہ تر ڈپٹی کمشنروں کا تعلق خیبر پختونخوا سے رہا، جب کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افسران کی تعداد نسبتاً کم تھی۔ لیکن جب میں گزشتہ چار دہائیوں کے تجربات پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے دونوں کے درمیان ایک واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔پنجاب سے آنے والے بیشتر افسران نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور غیر جانب داری سے اپنی شناخت قائم کی۔ ان کے فیصلوں میں ذاتی تعلقات کے بجائے قانون اور ضابطے کو اہمیت حاصل رہی۔ ان کے دفاتر میں عام شہریوں کی رسائی نسبتاً آسان تھی اور وہ خود بھی مختلف علاقوں کے دورے کرکے عوامی مسائل کا جائزہ لیتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بہت سے افسران آج بھی لوگوں کی یادوں میں زندہ ہیں۔ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو محض ایک سرکاری عہدے کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھا۔اس کے برعکس، بعض ایسے افسران بھی سامنے آئے جنہوں نے سرکاری اختیارات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ میرے مشاہدے کے مطابق ان میں سے کچھ افسران نے اپنے آبائی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو چترال میں مختلف منصوبوں، ٹھیکوں اور دیگر معاملات میں ترجیح دی۔ اس صورتِ حال نے مقامی افراد میں احساسِ محرومی کو جنم دیا اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھائے۔بدقسمتی سے بعض ادوار میں بدعنوانی کے الزامات بھی سامنے آتے رہے۔ عام لوگوں کی شکایت تھی کہ ان کے مسائل کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جب کہ بااثر افراد کے لیے ہر دروازہ کھلا رہتا ہے۔ اس صورتِ حال نے عوام اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزور کیا۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ہر افسر کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے بہت سے افسران نے بھی انتہائی دیانت داری، خلوص اور محنت سے فرائض انجام دیے اور عوام کے دل جیتے۔ اسی طرح پنجاب سے تعلق رکھنے والے تمام افسران کو بھی ایک ہی معیار پر پرکھنا درست نہیں ہوگا۔ تاہم، مجموعی طور پر میرا ذاتی مشاہدہ یہی ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت، شفافیت اور غیر جانب داری کے حوالے سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے افسران کی کارکردگی نمایاں رہی۔میرا مقصد کسی صوبے یا شخصیت پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ ان حقائق کی نشاندہی کرنا ہے جنہیں میں نے گزشتہ چالیس برسوں کے دوران اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے تجربے کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔میری خواہش ہے کہ مستقبل میں چترال میں ایسے افسران تعینات کیے جائیں جو قانون کی بالادستی، دیانت داری اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو عوام کے دلوں تک جاتا ہے اور یہی ایک سرکاری افسر کی اصل کامیابی بھی ہے

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔