مضامین

چترال میں سائیبر کرائم لا علمی یا انلائن غنڈہ گردی۔۔سید اولادالدین شاہ  

چند فیس بک پیجز جو چترال کے نام پر چل رہے ہیں، انہیں نہ جانے اتنی آزادی کہاں سے مل گئی ہے کہ وہ کسی بھی لڑکی کی تصویر یا ویڈیو بنا اجازت اپلوڈ کر دیتے ہیں، ان کی کردار کشی کرتے ہیں اور شدید گالی گلوچ سے کام لیتے ہیں۔ یہ لوگ گویا “باپردہ اور امن پسند چترال” کے خود ساختہ ٹھیکیدار بن بیٹھے ہیں، حالانکہ ان کی اپنی غلط پوسٹوں سے ان کی اپنی ہی اخلاقی حالت کا پتہ چلتا ہے۔

کل ہی ایک پوسٹ نظر سے گزری، جس کی تحریر تو کافی طویل تھی لیکن اس میں ایک خاتون کی ویڈیو شیئر کر کے ساتھ میں اتنی غلیظ اور لمبی گالیاں لکھی گئی تھیں کہ انسان صرف اکیلے میں ہی انہیں پڑھ یا سن سکتا ہے۔ اس کا اس لڑکی اور اس کے خاندان پر کیا اثر پڑے گا، پوسٹ کرنے والے شاید اس انجام سے بالکل بے خبر ہیں۔

اسی طرح ایک اور تعلیم یافتہ خاتون کی تصویر شیئر کی گئی، جن کی اپنی ایک شناخت ہے، وہ مختلف مسائل پر کھل کر بات کرتی ہیں اور کبھی کبھی گانے گا کر اپنے ویورز کے ساتھ شیئر کرتی ہیں۔ ان صاحب کو اس خاتون کے گانے پر بھی اعتراض ہے، آخر یہ ہم سب کے ٹھیکیدار جو بنے ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور خاتون کی تصاویر شیئر کی گئیں جس میں ایسی نازیبا اور گھناؤنی گالیاں دی گئی تھیں جو شاید چترالی زبان کی لغت (ڈکشنری) میں بھی موجود نہ ہوں۔

مجھے نہیں پتہ کہ یہ لوگ ایسے پیجز کیوں چلاتے ہیں، ان کا مقصد کیا ہے اور وہ کیا چاہتے ہیں؟ لیکن اتنا ضرور پتہ ہے کہ وہ لوگوں کو شدید ذہنی اذیت پہنچا رہے ہیں، جو کہ قانوناً ایک سنگین جرم ہے۔

ایڈووکیٹ فوزیہ علی کے مطابق، ایسے افراد کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت سائبر کرائم ونگ میں آن لائن یا بذریعہ خود (FIA کے دفتر جا کر) شکایت درج کروائی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ معاملہ ایف آئی اے کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس مخصوص پیج پر بغیر اجازت شیئر کیے گئے مواد کی تصویر (اسکرین شاٹ) اور پیج کا لنک بطورِ ثبوت استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر کسی کی تصویر یا ویڈیو بغیر اجازت شیئر کرنے، کردار کشی کرنے اور گالی گلوچ کے ذریعے ہراساں کرنے پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (PECA Act 2016) کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں ایف آئی آر (FIR) درج کی جاتی ہے۔

اس قانون کے تحت درج ذیل دفعات لاگو ہوتی ہیں اور یہ سزائیں دی جا سکتی ہیں:

 کسی شخص (خاص طور پر خاتون) کی تصویر، ویڈیو یا معلومات اس کی اجازت کے بغیر انٹرنیٹ پر اپلوڈ کرنا، اسے ہراساں کرنا، خوفزدہ کرنا یا اس کی تذلیل کرنا قانونا جرم ہے؟ جرم ثابت سزا اور جرمانے یا دونوں ہو سکتے ہیں

اس کے علاوہ کسی فرد کی عزت، وقار اور ناموس کو نقصان پہنچانے کی نیت سے جُھوٹا مواد، گالی گلوچ، نازیبا زبان یا کردار کشی پر مبنی تحریر و ویڈیو وائرل کرنا سنگین جرم ہے،

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔