مضامین

ٹھیکیداری نظام: جب این جی اوز سے کمیونٹی بھی چھن گئی تحریر: عبدالغفار

چترال میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا جائے تو ایک اہم تبدیلی گزشتہ کچھ عرصے سے واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ کبھی غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) گاؤں کی سطح پر مقامی تنظیموں اور کمیونٹی کو ساتھ لے کر ترقیاتی منصوبے مکمل کیا کرتی تھیں۔ آج اسی شعبے میں بتدریج ٹھیکیداری نظام غالب آتا جا رہا ہے، جس نے نہ صرف کمیونٹی کی شراکت داری کو کمزور کیا بلکہ کئی ترقیاتی منصوبوں کو ان کی تکمیل کے بعد عملاً لاوارث بھی بنا دیا ہے۔ماضی میں این جی اوز کا کام محض منصوبہ بنانے اور تعمیر مکمل کرنے تک محدود نہیں ہوتا تھا۔ گاؤں کی سطح پر تنظیم تشکیل دی جاتی، مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیا جاتا اور منصوبے میں کمیونٹی کا باقاعدہ حصہ مقرر ہوتا۔ بعض منصوبوں میں تقریباً دس فیصد کمیونٹی شیئر بھی شامل ہوتا تھا، جو نقد رقم، محنت، زمین یا دیگر وسائل کی شکل میں دیا جاتا تھا۔یہ معمولی سا حصہ دراصل بہت بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ جب ایک غریب گاؤں کا باشندہ اپنی جیب سے کچھ رقم دیتا، اپنی زمین فراہم کرتا یا کئی دن مزدوری کرکے کسی منصوبے کی تعمیر میں حصہ لیتا تو وہ منصوبہ اس کے لیے محض این جی او یا حکومت کی اسکیم نہیں رہتا تھا، بلکہ اس کا اپنا منصوبہ بن جاتا تھا۔یہی احساسِ ملکیت منصوبوں کی اصل طاقت تھا۔پانی کی اسکیم ہو، آبپاشی کا نظام، رابطہ سڑک، حفاظتی دیوار، پل یا کوئی دوسرا اجتماعی منصوبہ، مقامی تنظیم اور کمیونٹی اس کی تکمیل کے بعد بھی اس کی نگرانی کرتی تھی۔ معمولی خرابی کی صورت میں گاؤں کے لوگ خود مرمت کا بندوبست کرتے تھے۔ اس طرح ایک منصوبہ صرف چند سال نہیں بلکہ طویل عرصے تک لوگوں کے کام آتا تھا۔لیکن آج صورتحال بدل رہی ہے۔اب بہت سے ترقیاتی منصوبے ٹھیکیدار کے ذریعے مکمل کیے جاتے ہیں۔ ٹھیکیدار آتا ہے، کام کرتا ہے، بل حاصل کرتا ہے اور منصوبہ مکمل کرکے واپس چلا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟منصوبے کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ معمولی خرابی کی صورت میں مرمت کون کرے گا؟ اگر چند ماہ یا چند سال بعد منصوبہ ناکارہ ہوجائے تو ذمہ داری کس کی ہوگی؟یہ وہ سوالات ہیں جن پر ترقیاتی منصوبوں کی منظوری سے پہلے ہی غور ہونا چاہیے۔ٹھیکیداری نظام کا سب سے بڑا نقصان صرف یہ نہیں کہ کمیونٹی کی شراکت داری ختم ہوگئی، بلکہ اس کے ساتھ احساسِ ملکیت بھی ختم ہوگیا۔ جس منصوبے میں مقامی لوگوں کا کوئی حصہ نہ ہو، اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے وہ پہلے جیسا جذبہ بھی محسوس نہیں کرتے۔یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا این جی اوز کا مقصد صرف تعمیراتی کام مکمل کرنا ہے یا لوگوں کو اپنے مسائل کے حل میں شریک کرنا بھی ہے؟اگر مقصد صرف عمارت، پل، پانی کی لائن یا حفاظتی دیوار تعمیر کرکے منصوبہ ختم کرنا ہے تو پھر این جی او اور عام ٹھیکیداری منصوبے میں بنیادی فرق باقی نہیں رہتا۔این جی اوز کا اصل فلسفہ تو یہی تھا کہ وہ کمیونٹی کو بااختیار بنائیں، مقامی اداروں کو مضبوط کریں اور لوگوں کو اپنے ترقیاتی مسائل کا مالک بنائیں۔بدقسمتی سے اگر این جی اوز بھی مکمل طور پر ٹھیکیداری نظام اختیار کرلیں تو پھر وہ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے اپنے بنیادی فلسفے سے دور ہوتی جائیں گی۔چترال جیسے علاقے میں یہ مسئلہ مزید اہم ہے۔ یہاں جغرافیائی حالات سخت ہیں، دیہات ایک دوسرے سے دور ہیں، موسم اور سیلاب سے انفراسٹرکچر کو مسلسل خطرات لاحق رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی منصوبے کی تعمیر سے زیادہ اہم اس کی مسلسل دیکھ بھال ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ این جی اوز اپنی پالیسیوں پر دوبارہ غور کریں۔ ٹھیکیدار کو تعمیراتی عمل میں جہاں ضرورت ہو استعمال کیا جائے، لیکن منصوبے کی منصوبہ بندی، نگرانی، شفافیت اور بعد از تکمیل دیکھ بھال میں مقامی تنظیموں اور کمیونٹی کا کردار ختم نہ کیا جائے۔

کمیونٹی شیئر کا نظام بھی دوبارہ متعارف کرایا جانا چاہیے۔

اگر کسی منصوبے میں مقامی لوگوں کا حصہ رکھا جائے، چاہے وہ مالی ہو، افرادی محنت ہو یا زمین اور مقامی وسائل کی فراہمی، تو اس سے نہ صرف منصوبے میں عوامی دلچسپی بڑھے گی بلکہ لوگوں میں اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کا احساس بھی پیدا ہوگا۔ضرورت اس بات کی بھی ہےظ کہ ہر ترقیاتی منصوبے کے ساتھ Maintenance Plan لازمی بنایا جائے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اس کی دیکھ بھال کون کرے گا، اخراجات کہاں سے آئیں گے اور مقامی تنظیم کا کیا کردار ہوگا، یہ سب باتیں منصوبے کی منظوری کا حصہ ہونی چاہئیں۔ترقی صرف پھتر، سیمنٹ اور سریا لگانے کا نام نہیں۔ ترقی اس وقت پائیدار بنتی ہے جب اس میں لوگ شریک ہوں، لوگ مالک ہوں اور لوگ اس کی حفاظت کریں۔چترال نے ماضی میں کمیونٹی بیسڈ ترقی کے ایسے ماڈل دیکھے ہیں جن میں محدود وسائل کے باوجود منصوبوں کی پائیداری بہتر رہی۔ آج ضرورت ہے کہ ان تجربات کو فراموش کرنے کے بجائے ان سے سبق حاصل کیا جائے۔آخر میں ایک بنیادی سوال این جی اوز، حکومت اور ترقیاتی اداروں کے سامنے رکھنا ضروری ہے:ہمیں صرف منصوبے مکمل کرنے ہیں یا ایسے منصوبے بنانے ہیں جو اگلی نسل تک قائم رہیں؟اگر جواب دوسرا ہے تو پھر ٹھیکیداری نظام کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی شراکت، مقامی تنظیموں کی نگرانی اور احساسِ ملکیت کو دوبارہ ترقیاتی عمل کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ہم ہر سال نئے منصوبے بناتے رہیں گے، پرانے منصوبے خراب ہوتے رہیں گے اور محدود ترقیاتی وسائل مرمت اور دوبارہ تعمیر میں خرچ ہوتے رہیں گے۔پائیدار ترقی کا راز زیادہ پیسہ خرچ کرنے میں نہیں، بلکہ لوگوں کو ترقی کا شریک اور مالک بنانے میں ہے

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔