
لوئر چترال میں پہلی بار جنگلات کی رائلٹی کی منصفانہ تقسیم: شہزادہ افتخار الدین کی ضلعی انتظامیہ کو مبارکباد، بااثر افراد کا کرپٹ نظام ختم
ماضی میں غریبوں کی رقم بااثر افراد کی جیبوں میں جاتی تھی، ڈپٹی کمشنر اور عملے نے طریقہ کار بدل کر براہِ راست حقداروں کو رقم دی: سابق ایم این اے
چترال (چترال ایکسپریس)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق ممبر قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین نے لوئر چترال کے دیہات کالکاٹک اور بیوڑی کے فارسٹ رائلٹی ہولڈرز میں جنگلات کی رائلٹی کی منصفانہ اور شفاف تقسیم پر ضلعی انتظامیہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے اس کامیاب مہم پر ڈپٹی کمشنر لوئر چترال ہاشم عظیم، اسسٹنٹ کمشنر دروش محمد علی، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ظفر اقبال اور تحصیلدار عتیق الرحمن کو حکومت کی
جانب سے خصوصی ایوارڈز دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کے روز چترال میں مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ایم این اے نے انکشاف کیا کہ ماضی میں پورے گاؤں کی رائلٹی کی بھاری رقم چند بااثر افراد کے جعلی کاغذات پر یکمشت ان کے حوالے کر دی جاتی تھی، جس سے غریب حقدار اپنے حق سے محروم رہ جاتے تھے۔ تاہم اس بار ضلعی انتظامیہ نے کرپٹ نظام کو مسترد کرتے ہوئے رائلٹی کی رقم براہِ راست ہر خاندان کے سربراہ کو فراہم کی، جو کہ چترال کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔
اسی اثنا میں متاثرہ دیہات کے رائلٹی ہولڈرز نے حکومت سے شدید مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران جنگلات کی رائلٹی کی غیر قانونی اور مبینہ بوگس تقسیم کی اعلیٰ سطح پر خصوصی انکوائری کرائی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ماضی میں غیر مجاز افراد کو ادائیگیاں کرنے والے تمام ذمہ دار افسران اور بااثر کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی غریب کا حق نہ مارا جا سکے۔
