
چترال: مقامی پیداوار کی دیگر اضلاع ترسیل سے سبزیوں کی نایابی اور قیمتوں میں سنسنی خیز اضافہ، عوام شدید پریشان
سابق صدر تجار یونین و سماجی کارکن حبیب حسین مغل کا ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے چترال سے باہر سبزیوں کی سپلائی پر فوراً پابندی عائد کرنے کا مطالبہ
چترال (چترال ایکسپریس) چترال ٹاؤن اور گردونواح میں مقامی سبزیوں اور پھلوں کی دیگر اضلاع کو بے تحاشا ترسیل کے باعث مقامی مارکیٹ میں اشیائے خورونوش کی شدید نایابی اور قیمتوں میں برسرِ عام اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماضی کے برعکس، جب مقامی پیداوار پہلے چترال کے عوام کی ضرورت پوری کرنے کے بعد باہر بھیجی جاتی تھی، اب صورتحال بالکل مختلف ہو چکی ہے۔ مٹر، ٹماٹر اور دیگر سبزیوں سمیت پھل بھی مقامی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہوئے دیگر اضلاع سپلائی کیے جا رہے ہیں، جس سے ٹماٹر فی کلو 300 روپے تک فروخت ہو رہا ہے اور دیگر سبزیوں کے ریٹ بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔
اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سابق صدر تجار یونین و سماجی کارکن حبیب حسین مغل نے
ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کے نام ایک اہم درخوا ست ارسال کی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ چترال میں اس وقت سبزیوں کا سیزن ہونے کے باوجود غیر مقامی (لوکل ضلع دیر کے) سبزی فروش اور ڈیلرز سال بھر چترالی عوام کا استحصال کر رہے ہیں اور سبزی منڈی میں بے تاج بادشاہ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت عوامی مسائل سے بالکل ناامید کر چکی ہے، اور اگر انتظامیہ نے سبزی منڈی کے ڈیلروں پر قابو نہ پایا اور چترال سے باہر سبزیوں اور پھلوں کی ترسیل پر فوراً پابندی نہ لگائی تو عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے جس کے بعد صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ حبیب حسین مغل نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جس طرح مرغ فروشوں کے خلاف اقدام کیا گیا تھا، اسی طرح سبزی فروشوں کی من مانیوں کو لگام دے کر غریب عوام کو فوری طور پر سستا اور معیاری سامان فراہم کیا جائے۔
