
چترال: آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کے زیر اہتمام حساس ڈیزاسٹر رپورٹنگ پر دو روزہ ورکشاپ اختتام پذیر
چترال (چترال ایکسپریس): آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ (AKAH) اور فوکس ہیومنیٹرین اسسٹنس پاکستان کے مشترکہ اشتراک سے چترال میں
میڈیا نمائندوں کے لیے منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ ”صنف اور معذوری کے حوالے سے حساس ڈیزاسٹر رپورٹنگ” کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔
ورکشاپ میں چترال پریس کلب، ریڈیو پاکستان، ہاٹ ایف ایم 97، سنو ریڈیو اور سوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ دو روزہ پروگرام میں ان ہاؤس سیشنز کے علاوہ وادی بمبوریت کا
فیلڈ دورہ بھی شامل تھا، جس کا مقصد شرکاء کو قدرتی آفات کے دوران عملی حالات اور درپیش چیلنجز کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
تربیتی سیشنز کے دوران ریسورس پرسنز—مینیجر ایمرجنسی آپریشنز جاوید احمد، مینیجر ٹریننگ فدا حسن، کوآرڈینیٹر کمیونیکیشنز مہر آفتاب اور کرشمہ—نے
قدرتی آفات کی رپورٹنگ میں میڈیا اخلاقیات (Media Ethics)، شمولیت اور معیاری طریقہ کار (SOPs) پر سیر حاصل بریفنگ دی۔ سیشنز میں بالخصوص آفات کے دوران خواتین اور معذور افراد کی خاص ضروریات اور ان کی حساسیت کو مدنظر رکھنے پر زور دیا گیا۔
اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ آفت سے پہلے، دوران اور بعد میں ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے انسانی نقصانات کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔
اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ پاکستان کے ریجنل پروگرام مینیجر انجینئر الطاف حسین شاہ نے
شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ صحافی آفات سے نمٹنے والے اداروں کے اہم ترین شراکت دار ہیں۔
مشکل حالات میں ان کی خدمات، بروقت معلومات کی فراہمی اور عوامی شعور بیدار کرنے میں میڈیا کا کردار انتہائی قابلِ تحسین ہے۔
چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے
تربیتی ورکشاپ کو میڈیا پرسنز کے لیے انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ اور فوکس ہیومنیٹرین اسسٹنس کا شکریہ ادا کیا۔ ورکشاپ کے اختتام پر تمام صحافیوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ حاصل کردہ مہارتوں کو فیلڈ میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران پوری طرح بروئے کار لائیں گے۔
