مضامین

فلورنس نائٹنگیل سے آغا خان چہارم تک: پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی تجدیدِ نو اور محسنِ ملت کی خدمات کے اعتراف کی ضرورت ..تحریر: ناصر علی شاہ

تاریخ کے تابناک اوراق میں کچھ ایسی تاریخ ساز اور جلیل القدر شخصیات جلوہ گر ہوتی ہیں، جن کے وجود مسعود سے بزمِ انسانیت کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ ان کا مقصدِ حیات بے کس و دکھی انسانیت کے مداوا اور مرہم پٹی کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیات وقف کر دینا ہوتا ہے۔

ایک ایسی ہی مدبر، عالی مرتبت, فضیلت مآب اور مجسمہِ خدمتِ خلق ہستی، پرنس شاہ کریم الحسینی آغا خان چہارم ہیں جن کی لازوال خدمات کا احاطہ کرنے کے لیے الفاظ کا دامن تنگ نظر آتا ہے اور جن کے بے لوث احسانات کا ذکر کرتے ہوئے قلم کی روشنائی اور حرف و بیان کی حرمت اپنا سر تسلیمِ خم کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

پاکستان میں نرسنگ کا شعبہ ماضی میں ایک ایسے تاریک اور کٹھن دور سے گزرا ہے جہاں اسے بے وقعت نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا اور اس پیشے کو اختیار کرنا ایک دشوار، تضحیک آمیز اور ناپسندیدہ قدم سمجھا جاتا تھا۔ اس طوفانِ بے نوائی میں، جب دکھی انسانیت کو شفقت اور ہمدردی کے لمس کی اشد ضرورت تھی تو اس عظیم ہستی نے پاکستان میں “جدید نرسنگ” کا انقلابی اور زریں باب رقم کیا۔ آغا خان یونیورسٹی اور اس کے نرسنگ اسکول کے قیام کی صورت میں نہ صرف اس پیشے کی خشتِ اول رکھی گئی بلکہ اسے بین الاقوامی معیارات، جدید طبی سائنس اور اعلیٰ تعلیم کی روشنی سے منور کر کے اس مقدس پیشے کو مسندِ وقار، عظمت اور احترامِ مجدد پر فائز کیا گیا۔

آج اگر پاکستان میں نرسنگ کا شعبہ عزت و منزلت کی ایک درخشندہ علامت بن چکا ہے، اگر ہمارے ہونہار نوجوان بلا تفریقِ جنس اس شعبے کو خدمتِ خلق اور ایک معتبر ذریعہِ معاش کے طور پر بلا جھجھک اپنا رہے ہیں، اگر یہ نرسز صحت کے نظام میں فرنٹ لائن ہیروز بن کر ملکی معیشت و صحت کے لیے استحکام کا باعث ہیں، تو اس لازوال معجزے اور فکری انقلاب کا تمام تر سہرا اسی محسنِ ملت، آغا خان چہارم کے سر سجاتا ہے۔

اگرچہ اس عالمگیر ہستی کو کسی دنیوی اعزاز، تمغے یا ستائش کی کوئی حاجت نہیں، جن کا خیرمقدم دنیا کی عظیم ریاستیں اپنے ملکوں کی علامتی چابیاں پیش کر کے کرتی تھیں مگر یہ سوال ہمارے ملی ضمیر، اخلاقی حس اور قومی اقدار سے براہِ راست جڑا ہے۔

کیا ہمیں اس محسنِ نرسنگ کی گرانقدر خدمات کا باوقار اور باقاعدہ اعتراف نہیں کرنا چاہیے؟

اگر ہم فلورنس نائٹنگیل کی یاد میں عالمی یومِ نرسز مناتے ہیں، تو اس شمعِ فروزاں کے لیے ایک دن کیوں مخصوص نہیں کر سکتے جس نے ہمارے اپنے وطن کی سونی راہوں کو معطر کیا اور اس پیشے کو پستی سے نکال کر اوجِ ثریا تک پہنچایا۔

ہم پاکستان کی تمام نرسنگ برادری اور دکھی انسانیت کے خادم، ڈین آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی اور پاکستان نرسنگ کونسل (PNC) کے ایوانوں سے یہ پرخلوص، پرزور اور مؤدبانہ التماس کرتے ہیں کہ

 پاکستان میں جدید نرسنگ کی بنیاد رکھنے پر پرنس کریم آغا خان چہارم کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں ایک باقاعدہ اور تاریخی ادارہ جاتی و سرکاری قرارداد منظور کی جائے۔

ہر سال پاکستان بھر میں ایک دن “یومِ جدید نرسنگ پاکستان” کے طور پر منانے کی منظوری دی جائے، تاکہ آنے والی نسلیں اس انقلاب آفریں سفر اور خدماتِ جلیلہ سے روشنی حاصل کرتی رہیں۔

یہ محض ایک دن کا انعقاد نہیں ہوگا، بلکہ اس عظیم محسن کی بے لوث اور لازوال خدمات کا ایک ادنیٰ سا شکرانہ اور ہماری جانب سے ایک تاریخی خراجِ عقیدت و تحسین ہوگا۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔