کاوشات اقبال

چترالی عوام چترال کی صحافتی برادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔۔کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر

چترال ایک انتہائی خوبصورت اور پُرسکون مقام ہے، جہاں بلند و بالا برف پوش پہاڑ جو برف سے ڈھکے ہیں، سرسبز وادیوں اور شفاف ندی نالوں کا حسن دل موہ لیتا ہے۔ یہاں کے دلفریب مناظر اور مہمان نواز لوگ ہر آنے والے کو اپنے حسن کے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ اس کو دنیا کے سامنے رکھنے والی وہ ہستیاں ہیں جن کو چترال کی صحافتی برادری سے ہم جانتے ہیں، جو چترال کے مسائل کو ہر حال میں نبھانے کا عزم لیے بیٹھے ہیں۔ چترال کی صحافت اور صحافی وہ نہ ڈرنے والے محافظ ہیں جو چترال میں گھپ اندھیرے میں دیا جلاتے رہے، اپنی بساط سے بڑھ کر نیکی اور سچائی کی پرچار کرتے ہیں، حقیقت اور انصاف کو معاشرے کے سامنے لاتے ہیں۔ چترالی صحافت قلم کی نوک سے چترالی عوام کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی حسین ترین چیز، یعنی سچی کوشش اور خلوص، ہیں جو چترالی عوام اور چترال کی صحافتی برادری کے رشتے کو محبت اور عقیدت کے دھاگے میں پرو دیا ہے۔ یہ رشتہ صرف نام کی صورت میں نہیں بلکہ نیت کی سادگی، لہجے کی نرمی اور دل کے کھلے پن کی وجہ سے جڑ چکے ہیں۔ یہ رشتے تب حسین بنتے ہیں جب دونوں طرف سے برابر چاہت اور پروا دکھائی جائے۔

چترالی صحافت عوام کے کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق اور پھر اس سے صوتی، بصری اور تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر چترال کے عوام تک پہنچانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ہر حالت میں حکومتی اداروں، تجارتی معلومات، دُکھ کی گھڑی، خوشی کے لمحے، رسومات، فنونِ لطیفہ، کھیل، موسمیاتی تغیر پذیری وغیرہ، پل پل کی خبریں، سب کچھ چترال کی صحافت نے چترالی عوام کے لیے گھر کی دہلیز پر پہنچانے کا اعلیٰ انتظام کرتا آ رہا ہے۔ موجودہ دور میں صحافت مکمل طور پر نیا رخ اختیار کر چکی ہے اور عوامی رائے پر اثر انداز ہوئی ہے۔ عوام کا بڑے پیمانے پر صحافتی معلومات کے لیے اعتماد صحافت کی کامیابی کی دلیل ہے۔ عوام کی رسائی سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات کے حصول میں انتہائی آسان ہو گیا ہے، جو زمانے کے نئے چیلنجوں کے ساتھ چترال کے صحافی برادری پائیدار اور عمدہ طریقے سے انجام دیتے آ رہے ہیں۔ چترالی صحافت کو چترال معاشرے کا آئینہ اور چترال کی ترقی کا ستون قرار دیا جائے تو کم نہ ہوگا۔

چترال کے صحافی اپنے قلم سے سچائیوں کی تصویر کشی کرتا ہے اور معاشرے کے رستے ہوئے زخموں اور ناسوروں پر اپنے قلم کا نشتر چلاتا ہے۔ معاشرتی بگاڑ اور فساد کے خلاف اپنے قلم کی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کر کے آئے ہیں اور چترال کی آواز کو ان برف پوش اونچے پہاڑوں سے بلند کر کے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائے ہیں، بلکہ ہر وقت تیار ہیں اور چترالی عوام کے ضمیر کا فرض انجام دیتے آئے ہیں۔
چترال کی صحافت پہاڑوں جیسی بلند حوصلہ،وادی جیسا پر سکوں اور حق گوٸی کی ایک روشن مثال ہے ۔چترالی صحافت جعرافیاٸی مشکلات، دشوار گزار راستوں اور سخت موسمی حالات کے باوجود یہاں کے صحافیوں نے ہمیشہ عوامی مساٸل کو چترال کے پریس کلببز اور مقامی اخبارات کے زریعے سے اس وادی کی محرومیوں ،ترقیاتی ضروریات ،چترالی کلچر اور چترالی شناخت ہمیشہ مقدم اور زندہ رکھا یہاں کی صحافت ذاتی مفاد کی بجاۓ سچاٸی،حب الوطنی اور عوامی فلاح کوہمیشہ سے حرف اول ہی رکھا ہے ۔یہ رشتہ عوام میں ان کو مقبول بنا دیا۔ آج عزت اور احترام کی یہ سطریں چترال کے عوام کی طرف سے چترال کے تمام صحافتی برادری کے ساتھ محبت کا اظہار ہے۔۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔