تازہ ترین

چترال میں ’’آرٹ آف پیرنٹنگ‘‘ کے موضوع پر تین روزہ تربیتی ورکشاپ، 35 افراد کی شرکت

چترال (چترال ایکسپریس) خیبرپختونخوا حکومت، آغا خان فاؤنڈیشن، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) کے باہمی اشتراک، جبکہ ضلعی انتظامیہ لوئر چترال کی زیرِ نگرانی تحصیل دروش کی پانچ یونین کونسلز ارندو، عشریت، شیشی کوہ، دروش ون اور دروش ٹو سے تعلق رکھنے والے محکمۂ تعلیم، صحت اور سماجی شعبے سے وابستہ خواتین و حضرات کے لیے ’’آرٹ آف پیرنٹنگ‘‘ کے موضوع پر تین روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی، جس میں تقریباً 35 افراد نے شرکت کی۔

ورکشاپ کا مقصد پیدائش سے 9 سال اور 9 سے 18 سال تک کے بچوں کی بہتر نگہداشت، ابتدائی بچپن کی نشوونما (ECD) اور بچوں کی ذہنی، سماجی، جذباتی، اخلاقی اور تعلیمی تربیت کے حوالے سے والدین اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد کی استعدادِ کار میں اضافہ کرنا تھا۔

اختتامی تقریب میں ریجنل پروگرام منیجر اے کے آر ایس پی سید سجاد حسین شاہ، ریجنل ہیڈ آغا خان ہیلتھ سروس خیبرپختونخوا و پنجاب معراج الدین اور ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر فیمیل لوئر چترال شکیلہ انجم نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اے کے آر ایس پی اور آغا خان ہیلتھ سروس چترال میں گزشتہ کئی دہائیوں سے تعلیم، صحت، بچوں کی بہتر پرورش و کردار سازی، والدین کی رہنمائی اور دیگر ترقیاتی و بحالی کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ مشن آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی جدید خطوط پر مؤثر تربیت اور مثبت کردار سازی کے ذریعے ایک باشعور، ذمہ دار اور مضبوط معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے، کیونکہ بچے ملک و قوم کا مستقبل اور سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اولاد کی تربیت کو معمولی معاملہ نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھ کر ادا کریں۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اظہر حسین، ہیومین ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر افشان، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مبشرہ حسین، آغا خان فاؤنڈیشن پاکستان کے ڈاکٹر قیوم علی اور دیگر مقررین نے کہا کہ بچوں کی بہتر تربیت ایک مضبوط اور ذمہ دار معاشرے کی بنیاد ہے۔ والدین کو بچوں کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ان کی ذہنی، جذباتی اور اخلاقی تربیت پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کے ساتھ روزانہ وقت گزاریں، ان سے بات چیت کریں، ان کے جذبات کو سمجھیں اور اچھے کاموں پر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ مقررین کے مطابق مثبت رویہ بچوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے، جبکہ نرمی، صبر اور سمجھداری سے بچوں کی تربیت ان کی شخصیت کو متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ بچوں میں ذمہ داری اور فرمانبرداری پیدا کرنے کے لیے والدین کو خود بھی ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ والدین کا باہمی برتاؤ اور گھر کا ماحول بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ انہوں نے والدین کو بچوں کے سامنے جھگڑوں اور غیر ضروری تکرار سے گریز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ محبت، شفقت اور پرسکون ماحول بچوں کی متوازن شخصیت سازی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

مقررین نے موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ بچوں میں مثبت سوچ، تنقیدی شعور اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویوں کو فروغ دینا والدین اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

تربیتی نشستوں میں والدین کی مؤثر تربیت، بچوں کی ہمہ جہت شخصیت سازی، ابتدائی عمر کی ضروریات اور جدید تربیتی طریقوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء کو ’’آغوش‘‘ اور ’’پرورش گائیڈز‘‘ کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جن میں پیدائش سے 19 سال تک بچوں کی نشوونما، مختلف عمروں کے تقاضوں، روزمرہ مسائل اور والدین کو درپیش تربیتی چیلنجز کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر پراجیکٹ منیجر کاسی آغا خان ہیلتھ سروس چترال نگار علی، منیجر ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن (AKRSP) چترال شمیم اختر، کومل اور دیگر اسٹاف بھی موجود تھے۔

ورکشاپ کے شرکاء نے پروگرام کے انعقاد پر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے تربیتی پروگرام اساتذہ، والدین اور بچوں کی بہتر تربیت و نشوونما کے لیے انتہائی مفید ہیں، لہٰذا مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔