
تحریکِ حقوقِ عوام اپر چترال کا اجلاس: THQ ہسپتال بونی کو کیٹیگری ‘سی’ کا درجہ دینے اور آؤٹ سورسنگ پر تحفظات کا اظہار
اپر چترال (ذاکر محمد زخمی) تحریکِ حقوقِ عوام اپر چترال کی دعوت پر سیاسی قائدین اور سول سوسائٹی کا ایک اہم مشترکہ اجلاس امیر جماعتِ اسلامی اپر چترال اسد الرحمٰن کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحصیل ہیڈ کوارٹر (THQ) ہسپتال بونی کی کیٹیگری ‘سی’ میں اپ گریڈیشن، تعمیراتی کام کی سست روی اور ہسپتال کو آؤٹ سورس کرنے کی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کے دوران شرکاء نے
کہا کہ ضلع کا درجہ ملنے کے باوجود اپر چترال کا واحد سرکاری ہسپتال اب تک کیٹیگری ‘سی’ کا درجہ حاصل نہ کر سکا، جبکہ عمارت کی تعمیر کا کام بھی طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے۔ شرکاء نے ہسپتال کو آؤٹ سورس کرنے کے خدشات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ہسپتال کو کسی کے سپرد کرنا عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
اجلاس میں منظور کی جانے والی متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت، ڈپٹی اسپیکر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ:
THQ ہسپتال بونی کو فوری طور پر کیٹیگری ‘سی’ (ڈسٹرکٹ ہسپتال) کا درجہ دیا جائے۔
ہسپتال کی زیرِ تعمیر عمارت کا کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
صوبے میں پہلے سے آؤٹ سورس کیے گئے ہسپتالوں کے معاہدو (MoUs) کو عام کیا جائے تاکہ عوام کو حقیقت معلوم ہو سکے۔
اجلاس کے بعد آل پارٹیز اور سول سوسائٹی کے وفد نے نو تعیّنات ڈپٹی کمشنر اپر چترال سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔
وفد نے انہیں عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور پاس کردہ قرارداد پیش کی۔ اس موقع پر وفد نے مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان کے پاس ‘دوہرے چارج’ کی وجہ سے پیدا ہونے والے انتظامی مسائل کی طرف بھی نشاندہی کی اور مطالبہ کیا کہ تمام افسران کی اپر چترال میں مستقل موجودگی یقینی بنائی جائے۔
ڈپٹی کمشنر اپر چترال نے وفد کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیاسی و سماجی تفریقات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مسائل پر متحد ہونا خوش آئند ہے۔ انہوں نے وفد کو تمام پیش کردہ مسائل اور تحفظات کے حل کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لانے کی یقین دہانی کرائی۔
