
پٹرول لیوی اور مہنگائی کے خلاف چترال میں بھرپور شٹر ڈاؤن، جماعت اسلامی کی احتجاجی ریلی اور جلسہ عام
چترال(چترال ایکسپریس )امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر پٹرول لیوی اور ہوشربا مہنگائی کے خلاف آج ملک بھر کی طرح چترال میں بھی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ اس موقع پر چترال بازار سمیت شہر کے بیشتر تجارتی مراکز بند رہے، جبکہ جماعت اسلامی چترال کے زیر اہتمام پٹرول لیوی اور مہنگائی کے خلاف ایک بھرپور احتجاجی ریلی
نکالی گئی، جس کے اختتام پر جلسہ عام منعقد ہوا۔
احتجاجی ریلی میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور ذمہ داران کے علاوہ تجار یونین اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے پٹرول پر عائد لیوی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات پر عائد ناجائز لیوی اور دیگر ظالمانہ ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے۔
جلسہ عام سے
امیر جماعت اسلامی چترال وجیہ الدین، حاجی مغفرت شاہ، امیر جمعیت علماء اسلام چترال مولانا عبدالرحمان، صدر تجار یونین چترال، صدر عوامی نیشنل پارٹی چترال حاجی عید الحسین اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے پٹرول لیوی اور مہنگائی کے خلاف حافظ نعیم الرحمان کی ملک گیر تحریک کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان دراصل غریب اور پسے ہوئے پاکستانی عوام کا مقدمہ لے کر میدان میں نکلے ہیں۔ پٹرول اور بجلی سمیت بنیادی ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ حکمران طبقہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے نت نئے ٹیکسوں اور لیویز کے ذریعے ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔
مقررین نے کہا کہ پٹرول لیوی کے نام پر عوام سے اربوں روپے وصول کرنا اور دوسری جانب مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو مزید نچوڑنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، اور عوام کے بنیادی حقوق کے لیے حافظ نعیم الرحمان کی جدوجہد میں ساتھ دینا ظلم کے خلاف جہاد کے مترادف ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ناجائز لیوی فوری طور پر واپس لی جائے، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور عام شہری کو معاشی ریلیف فراہم کیا جائے۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی حقوق، پٹرول لیوی کے خاتمے اور مہنگائی کے خلاف یہ جدوجہد مطالبات کی منظوری تک جاری رکھی جائے گی۔
