
رومبور: سجی گور تھون پل اور سڑک کی تعمیر کرکے عوام کو آمدورفت کی مشکلات سے نجات دلائی جائے، نورشالی
چترال (چترال ایکسپریس) کالاش ویلی رومبور کے معروف شخصیت اور سابق اقلیتی کونسلر نورشالی اور دیگر عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سجی گور تھون گاؤں میں سیلاب سے متاثرہ جیپ ایبل پل اور سڑک کی فوری تعمیر و بحالی کی جائے تاکہ مقامی آبادی کو آمدورفت کی مشکلات سے نجات مل سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تینوں کالاش وادیوں کی اقلیتی برادری کے مذہبی عقائد میں سجی گور (دیوتا) کو خصوصی مقام حاصل ہے، جس کی وجہ سے سجی گور تھون گاؤں بھی مذہبی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم افسوسناک امر ہے کہ صوبائی حکومت اور کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KVDA) کی جانب سے اس علاقے کے بنیادی مسائل کے حل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث سجی گور تھون گزشتہ کئی عرصے سے رومبور مین روڈ سے منقطع ہے جبکہ جیپ ایبل پل اور سڑک کا بڑا حصہ دریا برد ہو چکا ہے۔ اس صورتحال کے باعث خواتین، طلبہ و طالبات اور دیگر افراد کو بڑے پتھروں اور دشوار گزار راستوں سے گزر کر مین روڈ تک پہنچنا پڑتا ہے، جبکہ مریضوں، بزرگوں اور معذور افراد کو علاج کے لیے کندھوں اور پیٹھ پر اٹھا کر لے جانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق سجی گور تھون کے تقریباً 80 گھرانے اس صورتحال سے شدید متاثر ہیں۔ پل اور سڑک کی تعمیر کے لیے سابق ڈی جی KVDA سمیت متعلقہ حکام کو متعدد بار درخواستیں دی گئیں جبکہ سابق معاونِ خصوصی برائے اقلیتی امور وزیرزادہ سے بھی مطالبہ کیا گیا، تاہم تاحال کوئی
عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کالاش کے مذہبی تہواروں کے دوران سجی گور میں دعا، نذر و نیاز کے لیے آنے والے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ علاقے میں زمینات رکھنے والی خواتین اور دیگر مقامی باشندوں کے لیے روزمرہ آمدورفت بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
سابق اقلیتی کونسلر نورشالی اور عوامی حلقوں نے حکومت، KVDA اور محکمہ کلچر و ٹورزم سے مطالبہ کیا کہ سجی گور تھون کی مذہبی اور سیاحتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر جیپ ایبل پل تعمیر اور سڑک بحال کی جائے تاکہ علاقے کے تقریباً 80 گھرانوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
