fbpx
تازہ ترین

ڈی سی چترال کی وعدہ خلافی کی وجہ سے جشن قاقلشٹ کا باقاعدہ آغاز 18کےبجائے19اپریل کوہو گا۔جشنِ قاقلشٹ کمیٹی

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)جشنِ قاقلشٹ کمیٹی کا ایک اہم آجلاس زیر صدارت پرنس سلطان الملک اس کے رہائش گاہ میں 16 اپریل بوقت صبح 10 بجے منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام شرکاء نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اس سال اپر چترال کے اس میگا تفریحی فیسٹیول “قاقلشٹ فیسٹول” کو 19 تا 21 اپریل دھوم دھام سے منایا جائے گا۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے ضلعی انتظامیہ کی براہ راست مداخلت کی بھرپور مزمت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چترال کی اس عمل کو چترالی ثقافت اور روایات پر حملہ کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ایسے عوامی ایونٹ میں براہِ راست مداخلت کر کےچترال کی پر امن ماحول کو خراب کررہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سالوں سے ضلعی انتظامیہ کی اس جشن میں براہِ راست مداخلت کی وجہ سے اس جشنِ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ چترالی تہزیب سے ہٹ کر دوسروں کی تہذیب کو جان بوجھ کر اس فیسٹول میں شامل کیا جاتا رہا ہے۔ فیسٹول کیلئے مختص شدہ فنڈز کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ایونٹ کی کامیابی میں خرچ کرنے کے بجائے اپنے شاخرچیوں میں اڑا دیئے گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سالوں سے کسی پولو پلئیر کو ایک آنا الاؤنس نہیں ملا ہے۔ اور قاقلشٹ کمیٹی اب تک اس فیسٹول کی مد میں لاکھوں روپے کا مقروض ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اس بار جشنِ قاقلشٹ کمیٹی اور منتخب وی سی ناظمین نے ضلعی انتظامیہ سے جب یہ مطالبہ کیا کہ قاقلشٹ فیسٹول میں استعمال ہونے والے فنڈ کو کمیٹی کے رائے کے مطابق اس فیسٹول میں شریک کھلاڑیوں کو سہولیات پہنچانے کیلئے خرچ کیجائے۔ اور سابقہ بقایاجات کو کلئیر کیا جائے تو ڈپٹی کمشنر چترال  نے یہ کہتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ اس مد میں ٹی سی کے پی والے صرف اور صرف 5لاکھ روپے مختص کیے ہیں اور وہ بھی ایڈورٹائزمنٹ کیلئے۔ باقی فیسٹول کو چلانے کیلئے انکے پاس ایک روپیہ بھی موجود نہیں۔
اجلاس میں جشنِ قاقلشٹ کمیٹی نے اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے اس جشن کو 19 تا 21 اپریل بڑی دھوم دھام سے منانے کا فیصلہ کیا۔ اور 18 تاریخ کو ہر ایونٹ میں مختلف ٹیموں کے درمیان پی ٹی ڈی سی بونی میں ٹاس ہو گا۔ اُنہوں نے تمام ٹیموں کے کپتان یا نمائندہ گان سے گزارش کی کہ وہ اپنے اپنے ٹیموں کی اندراج کے سلسلے میں مورخہ 18 اپریل 2019 بوقت صبح 10 بج پی ٹی ڈی سی بونی آئیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ  ڈپٹی کمشنر کی وعدہ خلافی کی وجہ سے اس جشن کو ایک دن موخر کر کے 18 اپریل کے بجائے 19 اپریل کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق