Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

چترال کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا تجزیہ حقائق سے متصادم ہے،ضلعی صدر پی ٹی آئی عبداللطیف

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس ) تحریک انصاف نے چترال کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے جو اقدامات کئے ہیں ان کی تاریخ میں نظیرنہیں ملتی ‘چترال کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا تجزیہ حقائق سے متصادم ہے‘گزشتہ پانچ سالوں میں صوبائی حکومت عوام کی خدمات کرنے میں ناکام رہی ہے تو سراج الحق صاحب کو قوم سے مانگنی چاہیے کہ وہ اس حکومت کا حصہ کیوں رہے ‘ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف چترال کے صدر عبداللطیف نے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہو ئے کیا انہو ں نے کہ اکہ متحدہ مجلس عمل کی گزشتہ حکومت اور تحریک انصاف کی حکومت کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو تمام حقائق کھل کر سامنے آ جائینگے انہوں نے کہاکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ چترال یونیورسٹی کا قیام تحریک انصاف کا کارنامہ ہے اب یونیورسٹی ایکٹ کی منظوری کے بعد چترال یونیورسٹی انشاء اللہ پاکستان کی بہترین درسگاہ بن جائیگی انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف چترال کو ترقی دینے کے لئے پن بجلی ، معدنیات اور سیاحت کے شعبے میں کام جاری ہے اس حوالے سے اب تک 600میگا واٹ کے پن بجلی کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے اور پانچ سالوں میں 2000میگا واٹ تک لے جانے کا منصوبہ ہے ۔ ان سے چترال میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سیاحت اور معدنیات کے شعبوں کے ذریعے ترقی اور روز گار کے ذرائع فراہم کئے جائینگے ۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں تعلیم ، صحت ، کے علاوہ گزشتہ پانچ سالوں میں انفراسٹرکچر کے شعبے میں جو سرمایہ کاری کی گئی ہے وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے انہوں نے کہاکہ چونکہ جماعت اسلامی گزشتہ حکومت میں تحریک انصاف کی اتحادی تھی اور اس وقت تحریک انصاف کی کارکردگی سے بھی مطمئن تھی لیکن جب حکومت سے باہر ہو ئی تو جماعت اسلامی کو تحریک انصاف میں برائیاں بھی نظر آنے لگی اگر واقعی گزشتہ پانچ سالوں میں صوبائی حکومت عوام کی خدمات کرنے میں ناکام رہی ہے تو سراج الحق صاحب کو قوم سے مانگنی چاہیے کہ وہ اس حکومت کا حصہ کیوں رہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔