fbpx
تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ………….خلیج تعا ون کونسل کا اجلا س

تازہ خبر یہ ہے کہ سعو دی عرب نے خلیج تعا ون کونسل کا اجلاس بلا یا ہے اجلا س میں ایران، یمن اور شام کے خلاف آخری جنگ لڑنے پر اتفاق رائے پیداکیا جائے گا جنگ کے لئے امریکہ کا بحری بیڑا خلیج میں لنگر انداز ہو چکا ہے بحری بیڑے کے پا س زبر دست جنگی صلا حیت ہے 20مئی کو جنگی بیڑے نے دو میزا ئیل فائر کر کے ان کو یمن سے منسوب کیا پھر دو میزا ئیل فائر کر کے پہلے والے دونوں کو طائف کے قریب گرا یا اور اس کودفا عی طا قت کا مظا ہر ہ قرار دیا خلیج میں بڑی جنگ چھیڑ نے کے لئے اس طرح دو چار وا قعات کا فی ہو نگے ہمارے دیر ینہ دوست پر و فیسر شمس النّظر فاطمی نے پہلے خلیج تعا ون کو نسل کے انگریزی نام پر غور کیا پھر انگریزی میں گلف کو اپریشن کونسل (GCC)کے الفاظ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور بولا جی سی سی درست نا م ہے گلف کیٹا س ٹرا فی کونسل (Gulf Catastrophe Council) نا م سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے زیا دہ دور کی بات نہیں ڈیڑھ سو سال سے کچھ اوپر کی بات ہے ہمارے شمال میں مسلمانوں کی 5خوشحا ل اور متمول حکومتیں ہوا کر تی تھیں ان کو فتح کرنے کے لئے زارِ روس نے پرنس گورچکوف کا فار مو لا استعمال کیا 1868ء میں تاشقند کے امیر سے کہا کہ خیوا کا خان تم پر حملہ کرنے وا لا ہے اُس نے زار روس سے مدد مانگی اور جنگ چھیڑ دی نتیجہ یہ ہوا کہ تاشقند پر زارِ روس کا قبضہ ہوا امیر گرفتار ہو کر رو سیوں کے قید خانے میں بند ہوا پھر خیوا کے خان کو پیغام بھیجا گیا کہ فر غا نہ کا بادشاہ تم پر حملے کی تیاری کر رہا ہے خیوا کے خان نے زارِ روس کی مدد مانگی جنگ چھیڑ گئی 1873میں خیوا پر اور 1875میں فر غانہ پر زارِ روس کا قبضہ ہوا خو کند کی خا نیت اکیلی رہ گئی اُس پر زارِ روس نے فوج کشی کر کے 1876ء میں اس کو بھی زیر کر لیاقفقاز کی ریا ست میں اما م شاملؒ کے مریدوں نے 8سال زارِ روس کے خلا ف جنگ لڑی مگر اُن کی مدد کو آنے وا لاکوئی مسلمان حکمران یا سپہ سا لا ر نہیں بچا تھا اس لئے 1884میں اُس پر بھی زارِ روس کا قبضہ ہوا امریکی صدر جارج بُش سینئر نے 1990ء میں پرنس گور چکوف کا فار مو لا خلیج کی ریا ستوں پر آز مایا اور کامیا بی حا صل ہو ئی آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہی فار مو لا خلیج میں دو بارہ آز ما رہے ہیں اُن کی تین فو جیں خلیجی ریا ستوں کے اندر مو جو د ہیں داعش (ISIS) نئی فو ج ہے جو ہرا ول دستے کا کام دیتی ہے القاعدہ دوسری فوج ہے جو میدان ہموار کر تی ہے اورایک فوج کنٹریکٹر کے روپ میں اندر آکر بیٹھی ہوئی ہے اطلا عات، رسداور آلات حرب و ضرب پہنچاتی ہے جنگ کی آگ بھڑ کا تی ہے یہ ایسی جنگ ہے جس میں امریکہ کا کوئی نقصان نہیں ہے 1978ء میں امریکہ نے افغان جنگ شروع کی 1990ء میں کویت اور عراق جنگ بھی شروع ہوئی عراق اور ایران کی جنگ 8سال جاری رہی ان جنگوں میں ڈیڑ ھ لا کھ مسلمان مارے گئے ساڑھے تین لاکھ زخمی اور معذور ہوئے مرنے وا لوں میں امریکیوں کی تعداد 4000تھی ان میں سے 3700ایسے تھے جنکا کوئی باپ دادا نہیں تھا اُن کے لئے رونے والی کوئی آنکھ نہیں تھی معذوروں میں امریکیوں کی تعداد 10ہزار تھی وہ بھی کسی کُنبے پر بوجھ نہیں تھے ان کو حکومت نے ٹھکا نے لگا دیا نہ رہے بانس نہ بجے بانسری زہر کا ایک انجکشن ایسے زخمیوں کا کام تما م کر دیتا ہے اگر چہ امریکی دفاعی بجٹ میں اضا فہ ہو ا اور ہر سال یہ اضا فہ دکھا یا گیا لیکن امریکہ کو افغانستان اور خلیج کی جنگوں سے دفا عی بجٹ کے دُگنے سے کچھ زیا دہ فائدہ ہو ا جیب سے کچھ خرچ نہیں ہوا بلکہ پیسہ ہاتھ آگیا اسرا ئیل کی صیہونی ریا ست 1978ء میں مشکلات سے دو چار تھی 2001ء میں مشکلات سے نکل آئی اور مظبوط و مستحکم ریا ست بن گئی اگر شام، یمن اور ایران پر امریکہ کا قبضہ ہوا تو اگلی صدی میں بھی اسرائیل کو آنکھیں دکھا نے وا لا خطے میں کوئی نہیں رہے گا 1860ء میں روس کی پیش قدمی کے خلاف اپنی جنگی مہم کو برطانیہ نے گریٹ گیم یعنی عظیم کھیل کا نام دیا تھا 1980ء کے عشرے میں سویت یو نین اور چین کے خلاف اپنی جنگ کو امریکہ نیو ورلڈ آرڈر یعنی نئے عالمی نظام کا نا م دیا ہے دکھ کی بات یہ نہیں کہ دشمن مسلمانوں کے خلاف جنگی جنون کا مظا ہرہ کر رہا ہے دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس جنگ میں دشمن کا آلہ کار بن رہے ہیں پرانی حکا یت ہے درخت نے کلہاڑی سے گلہ کیا کہ میں نے تمہارا کیا بگا ڑا ہے تم مجھے کیوں کا ٹ رہے ہو کلہا ڑی نے کہا یہ دیکھو میرا دستہ تمہا ری شاخوں سے بنا ہوا ہے اگر لکڑی کا یہ دستہ نہ ہو تا تو میں تمہیں کیسے کا ٹتا؟ میری یہ صلا حیت ہی نہیں تھی خلیج تعا ون کونسل اور 34اسلا می ملکوں کی فوج خلیج میں ہمارے دشمن کا کام آسان کرنے کے لئے مستعد اور تیار کھڑی ہے یہ لو گ طا قت، دولت اور اقتدار کے نشے میں ایک بات بھول جا تے ہیں کہ اللہ کی ذات بھی ہے جو سب سے بڑی طا قت ہے مسلما نوں کا آسرا بھی وہی ہے سہارا بھی وہی ہے بزرگ کہتے ہیں ”تد بیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ“ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ افغان جنگ کی طرح پا کستان کو لا جسٹک سپورٹ کے نا م پر اس جنگ میں نہ گھسیٹا جائے اگر ایسا ہو ا تو ہم بیک وقت دو پرائی جنگوں کا ایندھن بنیں گے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق