
معاشرہ جب کسی خاموش مگر مہلک بیماری کا شکار ہو جائے تو اس کے اثرات نسلوں تک پھیل جاتے ہیں۔ منشیات بھی ایسا ہی ایک ناسور ہے جو ہمارے نوجوانوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ بدقسمتی سے یہ مسئلہ صرف ایک فرد یا ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہمارے نظامِ انصاف، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سماجی رویوں میں پیوست ہو چکی ہیں۔ اگر اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مشترکہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ لعنت ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کرتی رہے گی۔
سب سے پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً پولیس کا کردار نہایت اہم ہے۔ آئے روز خبریں سامنے آتی ہیں کہ منشیات فروشوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جاتا ہے، مگر افسوس کہ چند ہی دنوں میں وہ عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کمزور تفتیش، ناقص شواہد اور کیسز کو اس انداز میں تیار کرنا ہے کہ وہ قابلِ ضمانت بن جائیں۔ اگر پولیس اپنی تفتیش کو مضبوط بنائے، ٹھوس ثبوت اکٹھے کرے اور مقدمات کو پیشہ ورانہ مہارت سے عدالت میں پیش کرے تو منشیات فروشوں کا بچ نکلنا آسان نہیں رہے گا۔
دوسری طرف وکلاء برادری کا کردار بھی نہایت حساس اور اہم ہے۔ قانون ہر شہری کو دفاع کا حق دیتا ہے، مگر جب بات ایک ایسے جرم کی ہو جو پوری نسل کو تباہ کر رہا ہو، تو اخلاقی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ افسوس کہ بعض وکلاء محض مالی مفاد کے لیے پیشہ ور منشیات فروشوں کی پیروی کرتے ہیں، انہیں قانونی موشگافیوں کے ذریعے رہائی دلواتے ہیں اور یوں وہی مجرم دوبارہ اسی مکروہ دھندے میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ اگر وکلاء اس حوالے سے اجتماعی ضمیر کا مظاہرہ کریں اور منشیات فروشوں کے دفاع سے اجتناب کریں تو اس ناسور کے خاتمے میں بڑی پیش رفت ممکن ہے۔
عدلیہ کا کردار بھی اس سلسلے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جج صاحبان کو چاہیے کہ وہ منشیات فروشوں کے مقدمات کو سنجیدگی سے لیں اور ایسے عناصر کو سخت سزائیں دیں تاکہ یہ دوسروں کے لیے عبرت کا باعث بنیں۔ بار بار جرم کرنے والوں کے لیے نرم رویہ نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
اسی طرح ضلعی انتظامیہ کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ منشیات کے خلاف آگاہی مہمات، تعلیمی اداروں میں شعور بیدار کرنا، اور مقامی سطح پر نگرانی کے مؤثر نظام قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ معاشرے کے ہر فرد، خصوصاً والدین اور اساتذہ کو بھی اس جنگ میں شامل ہونا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو اس لعنت سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ پولیس صرف چھوٹے کارندوں اور نشہ کرنے والوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس گھناؤنے کاروبار کے اصل سرغنہ تک پہنچے۔ جب تک بڑے نیٹ ورک اور ان کے سرپرست قانون کی گرفت میں نہیں آئیں گے، اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ منشیات کا خاتمہ صرف ایک ادارے کا کام نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ پولیس، وکلاء، عدلیہ، انتظامیہ اور عوام—سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے آج سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو کل ہماری نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور ایک صحت مند، محفوظ اور روشن معاشرے کی بنیاد رکھیں۔


