مضامینمکتوب چترال

مہنگائی کے خلاف علیحدہ علیحدہ احتجاج یا مشترکہ جدوجہد؟بشیر حسین آزاد۔ 

ملک بھر کی طرح چترال میں بھی حالیہ کمر توڑ مہنگائی کے خلاف مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ لوئر اور اپر چترال میں جمعیت علماء اسلام، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے الگ الگ مقامات پر احتجاجی اجتماعات منعقد کیے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری، حکومتی پالیسیوں اور عوامی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

جمعیت علماء اسلام نے چترال اور وریجون میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی جلسے منعقد کیے، جن میں مقررین نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے پر سخت تنقید کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بن چکا ہے جبکہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

دوسری جانب دروش میں پاکستان تحریک انصاف نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جہاں مہنگائی کے ساتھ ساتھ سیاسی صورتحال، امن و امان اور عمران خان سمیت پارٹی کارکنوں کی رہائی کے مطالبات بھی سامنے آئے۔ مقررین نے آئین و قانون کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

اسی طرح جماعت اسلامی نے بھی دروش میں احتجاجی جلسہ منعقد کرکے مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن کے خلاف تحریک تیز کرنے کا اعلان کیا۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے حکومت کو عوامی مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عید کے بعد احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے کا اعلان بھی کیا۔

یہ تمام احتجاج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مہنگائی اب صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ عوام کے لیے ایک سنگین سماجی بحران بن چکی ہے۔ تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، اشیائے خوردونوش کی مہنگائی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں بڑھوتری اور روزگار کے محدود مواقع نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سفید پوش طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے جبکہ غریب آدمی کے لیے گھر کا نظام چلانا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

تاہم ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تمام جماعتیں مہنگائی کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں تو پھر یہ احتجاج علیحدہ علیحدہ کیوں کیے جا رہے ہیں؟ اگر تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو ان کی آواز زیادہ مؤثر اور طاقتور ثابت ہو سکتی ہے۔ مشترکہ جدوجہد حکومت پر زیادہ دباؤ ڈال سکتی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں اکثر جماعتیں اجتماعی مفاد کے بجائے اپنی سیاسی برتری ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ ہر جماعت چاہتی ہے کہ عوامی توجہ صرف اسی کی جانب مبذول رہے، جس کے باعث قومی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی سامنے نہیں آ پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاج تو ہوتے ہیں مگر ان کے عملی نتائج محدود رہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ “اتفاق میں برکت” صرف ایک کہاوت نہیں بلکہ اجتماعی کامیابی کا اصول ہے۔ اگر تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی قوتیں مہنگائی جیسے عوامی مسئلے پر متحد ہو جائیں تو حکومت کو بھی سنجیدہ اقدامات اٹھانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ عوام کو بھی اسی وقت حقیقی فائدہ پہنچ سکتا ہے جب احتجاج ذاتی یا جماعتی مفادات کے بجائے خالصتاً عوامی مفاد کے لیے کیا جائے۔

آج مہنگائی نے عوام کو رُلا کر رکھ دیا ہے۔ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ رہے ہیں، متوسط طبقہ سکڑتا جا رہا ہے اور غریب آدمی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے میں وقت کی اہم ضرورت یہی ہے کہ تمام جماعتیں ایک آواز بن کر عوام کے حقوق کے لیے متحد ہوں تاکہ مہنگائی کے اس طوفان کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO