
چترال انڈسٹریل اسٹیٹ پر اسی مالی سال کے اندر کام شروع کیا جائے گا۔عبدالکریم خان معاون خصوصی برائے انڈسٹریز
چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے انڈسٹریز عبدالکریم خان نے کہا
ہے کہ چترال میں انڈسٹریل اسٹیٹ کاقیام موجودہ صوبائی حکومت کے ترجیحات میں شامل ہے جس سے علاقے میں ماربل اور معدنیات کی ترقی اور نتیجتاً بے روزگاری کے خاتمہ اور ضلع چترال کے عوام کو خوشحال بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوگاجبکہ اس سے پہلے اس خطے کی بے پناہ معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کوئی سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش نہیں کی گئی۔ جمعرات کے روز سیکرٹری انڈسٹریز معدنیات ڈاکٹر آفتاب اکبر درانی اور اکنامک ڈیویلپمنٹ زون کے سی ای او انجینئر محسن ایم سید کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے
خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انڈسٹریل اسٹیٹ پر اسی مالی سال کے اندر کام شروع کیا جائے گا اور یہاں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ہرممکن حوصلہ افزائی کے لئے متعدد مراعات دئیے جائیں گے جن میں پلاٹوں کی ڈیویلپمنٹ چارجز کو یکمشت لینے کی بجائے اقساط میں لینا اور بجلی کی کم نرخ میں فراہمی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہر ضلع میں معدنی وسائل کی مقدار ، کوالٹی اور گنجائش مختلف ہوتی ہے اور چترال کے حوالے سے ماربل میں اس کا پوٹنشل سب سے ذیادہ ہے جبکہ دیگر متعدد معدنیات کی کی بہتات ہے جن کی پراسسنگ کے لئے انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام ناگزیر تھا جس کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتی ہے۔ عبدالکریم خان نے کہاکہ چترال میں ماربل سٹی کیلئے دو مقامات گنگ اور سید آباد میں دیکھے گئے ہیں جن کی فیزیبلٹی کے بعد کام شروع کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی طور پر نوجوانوں کو ٹریننگ بھی فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے چترال کے انڈسٹریل اسٹیٹ میں بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے ماحول پیدا کرنے کی عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے دوست چائنا اوردوسرے ممالک اس حوالے سے ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لو گوں کو روز گار کے موقع مل سکیں ۔
وزیر اعلی ٰ کے معاون خصوصی نے کہاکہ انڈسٹریز کے شعبے میں پہلے کی نسبت بہت زیادہ شفافیت اور بہتری آئی ہے ۔ اور موجودہ صوبائی حکومت واحد حکومت ہے ۔ جس نے اپنے منسٹرکو بھی نہیں بخشا ۔ تاہم سو فیصد شفافیت کی توقع موجودہ معاشرے میں نہیں رکھی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ میری بھر پور کوشش ہے ۔ کہ چترال کو صنعتی میدان میں ترقی دی جائے ۔ انہوں نے کہا ، کہ صوابی سے چترال تک شاہراہ کی تعمیر بہت جلد متوقع ہے ۔ جس پر چالیس ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ اس شاہراہ کی تعمیر کے بعد چترال کی ترقی کے دروازے کھل جائیں گے ۔
