تازہ ترین

سکولوں کی آؤٹ سورسنگ نامنظور۔عبد العزیز خان ,نائب صدر اے ٹی اے چترال لوئڑ

سکول صرف اینٹ اور پتھر سے بنی عمارت نہیں، یہ خوابوں کی وہ نرسری ہیں جہاں قوم کا مستقبل پروان چڑھتا ہے۔ استاد صرف تنخواہ لینے والا ملازم نہیں بلکہ وہ معمار ہے جو کتاب کے اوراق میں چراغ روشن کرتا ہے۔ مگر افسوس، آج انہی سکولوں کو نجی ہاتھوں میں دینے کی بات ہو رہی ہے۔ اسے آؤٹ سورسنگ کا خوبصورت نام دیا گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تعلیم کو منڈی میں بیچنے کی سازش ہے۔

ہمارے پرائمری سکولوں کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ سینکڑوں بچے صرف دو کمروں میں سمائے بیٹھے ہیں۔ ایک استاد بیک وقت کئی کلاسوں کو سنبھالنے پر مجبور ہے۔

اگر ڈی ای او، ڈی ایم او اور ڈپٹی کمشنر ان سکول کی کارکردگی بہتر نہیں کر سکتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ایک غیر سرکاری ادارہ کیسے کر پائے گا؟

نجکاری کے تلخ تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ پی ٹی سی ایل اور دیگر ادارے پرائیویٹ ہوئے مگر عوام کو کیا ملا؟ نوکریوں سے محروم خاندان، مہنگی سہولیات اور ٹوٹے ہوئے خواب۔

اب اگر یہی تجربہ سکولوں پر آزمایا گیا تو نتیجہ صرف یہ نکلے گا کہ استاد بے وقعت ہوں گے، طلبہ فیسوں اور دباؤ کے بوجھ تلے دب جائیں گے، اور والدین کا اعتماد ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے گا۔

اصل حل نجکاری نہیں، بلکہ سکولوں کو وہ عزت دینا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ کمرے بڑھائے جائیں، اساتذہ کی کمی پوری کی جائے، سہولتیں فراہم کی جائیں اور محکمہ تعلیم کے اندر احتساب کا نظام مضبوط کیا جائے۔

تعلیم اور صحت ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ یہ ذمہ داری حکومت پر قرض ہے، اور قرض کو دوسروں کے ہاتھ بیچ دینا ریاست اور عوام دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO