ارشاد اللہ شاد

(رُموز شادؔ ) ’’صورت سوال ہے‘‘

…….( ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال)…….



حسن یا خوبصورتی بجائے خود ایک نہایت پر کشش لفظ ہے، ہم سبھی کو اس میں عجیب سی کشش محسوس ہوتی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے ۔ کون نہیں ہے جس کی دلی خواہش یہ نہ ہو کہ وہ حسین یا خوبصورت نہ سمجھا جائے ، اس میں ہم سب مرد وزن شامل ہیں۔حسن و خوبی سے متعلق ہمارے ہاں دو واضح نظریے ہیں۔ ایک حسن ظاہری کہلاتا ہے اور دوسرا باطنی۔ ایک بہترین انسان میں یہ دونوں حسن مجتمع ہوتے ہیں۔ ظاہری حسن جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں ، ہمارے ظاہر سے تعلق رکھتا ہے ۔ یعنی ہمارا جسم کیسا ہے ؟ متناسب ہے ، سڈول ہے ، جلد کیسی ہے گوری ہے چکنی ہے ، ملائم ہے وغیرہ۔ہمارا ناک نقشہ کیسا ہے ؟ کھڑے اور تیکھے نقش ہیں، تمام اعضاء متناسب ہیں، سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔
اس کے بر خلاف باطنی حسن کا تعلق درا صل ہم سب آدمیوں کے ان اوصاف سے تعلق رکھتا ہے جو ہمارے رویوں سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ یہ حسن حقیقتاََ زندگی کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھنے سے آدمی میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ اس کے اخلاق ، رویوں ، طریق فکر اور اس کے کردار سے ہمارے سامنے آتا ہے۔
تمام علماء نے اس حسن پر یعنی باطن حسن پر زور دیا ہے ۔ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں جس طرح بنایا ہے اس کو بدلنے پر ہم قادر نہیں ہیں مگر اوصاف باطنی ایسی چیزیں ہیں جنہیں کوئی بھی آدمی اگر کوشش کرے تو اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے۔ہمارے ظاہری حسن کو حسن صورت کہا جاتا ہے اور ہمارے باطنی حسن کو حسن سیرت کہتے ہیں۔ اگر حسن صورت کوئی قابل فخر چیز ہے تو حسن سیرت کا رتبہ بھی کسی طرح کم نہیں۔ حسن صورت تنہا صرف ذرا دیر کے لئے ہمیں متاثر کر سکتا ہے اور بس۔ لیکن حسن سیرت کا تاثر دیر پا اور دائمی ہوتا ہے۔ حسن صورت تنہا کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا لیکن اگر قسمت سے یہ حسن سیرت کے ساتھ ہو تو کیا کہنے۔ اس قسم کی صفات کی شخصیت ہر دل میں گھر کر لیتی ہے۔
انسان کی سادگی، سچائی، دیانت داری، خلوص، اخلاق، ایثار، شرافت، فرض شناسی، ہمدردی، انسان دوستی وغیرہ ایسے اوصاف ہیں جنہیں اوصاف حمیدہ کہا جاتا ہے۔ اگر آدمی ان اوصاف سے متصف ہو تو اس کی ظاہری وجاہت کے بہت سے عیب ہمارے سامنے نظر آنے کے بعد بھی اپنی پوری قوت سے ہم پر اثر انداز ہونے میں ناکام رہتے ہیں۔ انسان کے اندر کا حسن ابھر کر آپ کی ظاہری برائیوں کی غیر محسوس طریقے سے پردہ پوشی کر لیتاہے۔ادھر اگر آدمی میں باطنی حسن نا موجود ہو تو بے شک اپنی نگاہ میں ہم ظاہری حسن سے متاثر ہو سکتے ہیں لیکن جوں جوں ہمیںیہ احساس ہوتا جائے گا کہ یہاں صرف ظاہر کا حسن ہی ہے ، باطنی حسن غائب ہے اس ظاہر ی حسن کا جادو ٹوٹنے لگتا ہے اور وہی چہرہ جو دیدہ زیب لگتا تھا ہمیں نہایت برا نظر آنے لگتا ہے۔ ہم سامنے کے تمام رنگ و روپ سے متنفر سے ہو جاتے ہیں۔
اب اس جگہ یہ بات بھی جان لیں کہ سارا زور اس پر ہونا چاہیے کہ حسن ظاہر حاصل کیا جائے نہ سارا زور اس پر ہونا چاہیے کہ حسن باطن حاصل ہو ۔ اصل چیز یہ ہے کہ کسی کو نظر انداز کرنا ہر گز مناسب نہیں۔
سمجھدار لوگ دونوں کو نگاہ میں رکھتے ہیں ، کیونکہ ایک بہترین انسان دراصل ان دونوں صفات کا آمیزہ ہوتی ہے ۔ جس طرح باطنی حسن اہم ہے اسی طرح ظاہر ی حسن بھی۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اصولی طور پر ہر شخص کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت مندرجہ ذیل معاملات پر توجہ دینی چاہیے اور پوری کوشش اور گمان سے اسے چاہیے کہ ان ہدایات پر عمل کریں۔
اگر صورت بہتر نہیں ہے ، اس میں تقائص ہیں یا نقش بھدے ہیں ، معمولی ہیں وغیرہ تو اسے چاہیے کہ انہیں اچھے لباس مناسب اور دوسرے جملہ اقدامات سے Presentableبنائے۔ اگر صحت بہتر نہیں ہے تو صحت کے اصولوں پر عمل کرے اور خود کو مناسب ورزش اور غذا وغیرہ کے ذریعے پر کشش بنائے۔صحت بدلی تو نہیں جاسکتی مگر جو ہے اس کو بہتر انداز میں پیش ضرور کیا جاسکتا ہے، اس کیلئے ماہرانہ رائے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔
سیرت کا معاملہ مختلف ہے ، اس کا تمام تر تعلق ہماری سوچوں اور افعال سے ہے ۔ ہم سب اپنی سیرت کی تعمیر کر سکتے ہیں مگر اس کیلئے ضرورت ہوتی ہے مستقل مزاجی کی، مطالعے کی، اچھی صحت کی۔ وہ لوگ جنہیں اپنی شخصیت کو دلکش بنانے کی امنگ یا شوق ہے انہیں جہاں اپنی بیرونی شخصیت کی نشونما کرنی لازمی ہوگی وہیں انہیں بہت سی کوششیں بہتر اخلاق پیدا کرنے کیلئے بھی کرنی ہوگی۔ اچھے اور عمدہ خیالات انسان کے نقش پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ وہ ان میں دلکشی پیداکرتے ہیں، منفی سوچیں اور خیالات ہمارے چہرے کے نقش و نگار میں عجب طرح کی کرختگی بھر دیتے ہیں اور یہ اچھے ہونے کے باوجود کسی کو متا ثر نہیں کر پاتے۔سیرت کا حسن ، صورت کے حسن کو طاقت بخشتا ہے اسے دوبالا کر دیتا ہے۔ اگر سیرت بہتر نہ ہو تو صورت کا حسن لمحاتی ہو جاتا ہے اور ریت کی دیوار بن جاتا ہے ، اس کے اندر کوئی کشش نہیں رہتی۔اس لئے کوشش کرکے انسان کو اپنی ظاہری حسن کے ساتھ ساتھ باطنی حسن پر بھی توجہ دینا چاہیے کیونکہ اصل حسن تو باطن کی ہے اور حسن باطن بدون محنت کے حاصل نہیں ہوگی ۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا۔
ہیچ چیزیں خود بخود چیزیں نہ شُد
ہیچ آہیں خنجراے تیغ نہ شُد

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق