محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان ….’’پروفیسر عظمیٰ کی کھری کھری باتیں ۔۔۔۔۔

…….تحریر محمد جاوید حیات ؔ……



میں ہی پیچدہ ، میں ہی موضوع، میں ہی عنوان ، میں ہی مضمون، میں ہی افسردہ ، نالیدہ ، پامندہ، بے آواز ، بے ثمر ، بے توجہ ، کانٹا، دلدل، پھسلن،عذاب ، دردسر، چھپن اور کیا کیا ۔۔۔ پھر میں ہی آرسی ، آئنہ ، پھول، رحمت ، خوبصورتی ، خلوص ، وفا، مونس، غم خوار ، بے چارہ ، محروم ، چاند، کنگن اور ازل سے یہ ڈ یبیٹ اب تک یہ ڈیبیٹ ۔۔۔۔حقوق کی جنگ، مقام کی جھنجھٹ ۔۔۔ اسلام نے حق دیا کفر نے حق چھینا ۔۔۔میری آزادی بڑا موضوع ، مجھ پہ پابندی بڑا موضوع ۔۔۔ایک عقدہ۔۔۔ میرا لباس موضوع بحث ، میرا بدن ، میرے بال ، میری آواز ،میرا حسن میرے قدموں کی چھاپ ، میری نظروں کی بالیدگی ۔۔۔ میرے زیورات کی چھن چھن ۔۔۔جھاڑ جھنکار۔۔ میرے لئے چادر اور چاردیواری ۔۔۔پردہ بھی پرداداری بھی ۔۔۔لیکن میرا قصور صرف بیٹی ہونا ہے اگربیٹا ہوتی تو یہ سب کچھ نہ ہوتا ۔۔۔ نہ لباس پوشاک کی حد ہوتی ۔۔۔نہ چادر چاردیواری کی قید ہوتی ۔۔۔ نہ آوازانداز پردقدغن ہوتا ۔۔۔ پردہ فرض ہے بس مجھے منہ چھپنا ہے سر جھکانی ہے ۔ بدن سیمٹنی ہے۔۔۔ دل میں کوئی وسوسہ نہ لانا ہے نظریں جھکانی ہے جس سے مجھے پردا کرنی ہے اس پر بھی پردہ کرنا لازم ہے مگر اس کو کوئی کچھ نہیں کہتا ۔وہ نظریں نہ جھکائے ،اکڑے بپھرے آوازیں کسے۔۔۔بس شامت میری ہوگی ۔۔۔میری پیدائش پہ افسردگی میری جوا نی پہ بے سکونی ۔۔۔میری خوبصورتی پہ بے چینیا ں میری تعلیم سے بے توجہی ۔۔۔اور وہ بھی الفاظ کا کورگھ دھندا ۔۔بیٹیا ں گھروں کی شہزادیاں ہوتی ہیں ۔۔۔کیا یہ شہز دیوں کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں؟؟ گھر جھاڑنا ، برتن مانجھنا ، بوٹ پولش کرنا ، کپڑے برتن دھو نا ، بسترے کمرے درست کر نا ، باورچی خانہ سنبھا لنا ، کھانا سلیقے سے پکانا ، نمک مروچ کا حساب لگانا ، بھائی بھاوچ ، دادی دادا کا خیال رکھنا ، بھائی کے لئے دعا مانگنا ، ابو کے لئے آنسو بہانا ، عید کے لئے جوڑے ے نہ مانگنا ، نئے جوتوں کی آززو نہ کرنا ، دل میںآیا ہو ا خیال الفاظ نہ بنانا، زیادہ باتین نہ کرنا ، قہقہانہ لگا نا ، کھانے پہ احتیاط کرنا ، خالی شور بے پہ گذارا کرنا، بوٹیوں کی آرزو نہ کرنا ، چھوٹو ں سے پیار اور بڑوں کی عز ت کرنا ،۔۔۔۔میں ایک بیٹی ہوں ۔گھر کی زینت ہو ں ، یہ میری ڈیوٹیاں ہیں ۔ یہ مجھ سے تو قعات ہیں یہ مجھ سے خدشات ہیں لیکن مجھے شکو ئے شکایت کیوں کرنی ؟ مجھے رونا کیوں۔یہ میرا مقام ہے ۔۔۔ میں عورت ۔۔ میںآدمی کی تنہائی کی ساتھی ۔۔ میں موسیٰ کو دعائیں دینے والی ۔۔ میں عیسیٰ کو سینے سے لگا نے والی، میں فخرمو جودات ؐ کی چہیتی ۔۔ میں آسیہ فرعون سے نفرت کر نے والی ۔ میں خدیجہ البکر یؓ ۔۔ میں عائشہؓ ، صوفیہؓ کی وارث ۔۔ میں میدان جنگ کی ہیروئن، میں طارق بن زیاد کی ماں۔ میں چاند بی بی ،، میں قلوپطرہ، میں فاطمہ جناح ،۔کتنی روپ ہیں میری ۔۔ میں ماں ۔ میں عظیم قوم کو اپنی گود میں پرورش کرنے والی اس کائنات کی خوبصورتی ۔۔ میری زات میں بو قلمو نیاں ہیں، رنگیان ہیں ۔ میں برتن مانجھوں یا بندق چلاؤں۔۔ میں ڈاکٹر ہوں کہ نرس ۔ میں میدان جنگ میں ہوں کہ باورچی خانے میں ۔ سارے مقام مجھ سے سجتے ہیں ۔ میں بیٹی ہوں۔ میں کیوں شکوہ کروں؟ کہ میں با پ کی خدمت کرتی ہوں ۔۔ یہ میری پہنچا ن ہے۔۔ میں بہن ہوں میں کیوں چیخوں کہ بھائی کے مقابلے میں میری پرواہ نہیں ہوتی میں عورت ہوں۔۔ میں کیوں بازاروں ، گلی کوچوں اور کھیل تماشوں کو زینت بنوں۔۔۔۔ قاتل نگاہیں میرا پیچھاکرتی ہیں مرد کا نہیں۔۔ میں کیوں سینہ تان کے کھڑی رہوں میر ا سینہ گولی کھانے کے لئے نہیں ہیں ہے ۔گولی کھانے والے کی پرورش کرنے کے لئے ہے ۔ میں پھولوں کی حفاظت کی ذمہ دارہوں۔ میری گود میں چاند اور میری باہوں میں پھول ہوتے ہیں ۔میری حفاظت کی ذمہ داری جس کے زمے ہے اس کے سینے سے دھواں اُٹھتا ہے ۔شیر اس کی آنکھوں کی تاب نہیں لاسکتے ۔ اسکی موچھیں ہیں داڑھی ہے ۔ بازو میں طاقت ہے۔ اس کے زمے کمائی رکھی گئی ہے ۔اس لئے اس کے ہاتھ نرم اور گذار نہیں ۔مضبوط ہیں ۔۔ میری �آنچل میری پہنچا ن ہے ۔ اس کا چہر ہ اس کی پہنچا ن ہے ۔ وہ میرا با پ ہے میرا بھائی ہے میں ہزار جتن کروں تو عورت سے مرد بہین سے بھائی اور بیٹی سے بیٹا نہیں بن سکتی ۔ یہ میرے احساسات ہیں ۔۔ کہ میری پیدائش پر خوشی کا اظہار نہیں ہوتا ۔۔ اوراگر نہ ہوتا تو مجھے زندہ گاڑدیا جاتا ۔ جس سینے سے مجھے دودھ پلایا گیا ۔وہ سینہ بیٹے کا بھی باورچی خانہ ہے ۔ یہ گھر کے کام کاج ،، چادر چاردیواری ،،، پردہ یہ سب میرے مقام کی پہنچا ن ہیں۔۔ مجھ سے شکو بجا مگر میری تعلیم حاصل کر نے پر کسی کو اعتراض نہیں ۔لیکن میری تعلیم خود مجھے مقام سے گراتی ہے ۔ چادرسر سے سرکاتی ہے ، ناخن بڑھاتی ہے ۔ ہونٹ لال کرتی ہے ۔ْنظریں اُٹھو اتی ہے ۔ قدموں کی چھاپ دور دور تک لے جاتی ہے ۔کیچن سے باہر نکالتی ہے محفلوں میں لے جاتی ہے۔چادر اور چار دیواری میں گھٹن لاتی ہے ۔ آواز اونچی کرتی ہے۔۔ احترام میلیا میٹ کرتی ہے۔ بھائی باپ اور جیون ساتھی کا مقام گھٹاتی ہے ۔محبت کراتی نہیں محبت جتاتی ہے۔ زبان داراز کرتی ہے ۔دل میں اوٹ پٹانگ آرزویں جگاتی ہے ۔نقل کراتی ہے۔ اندھی تقلید کراتی ہے ۔ تب میری تعلیم پر باپ بھائی لوگ انگشت بدانداں ہوتے ہیں حیران و پرشان ہوتے ہیں ورنہ تو مجھ سے میرا حق نہ کسی نے کبھی چھپنا نہ چھپنے گا مجھے اپنے آپ پر فخر ہے ۔اور میرے پیارے نبی ؐ نے میری پرورش کرنے والے کو جنت میں اپنے ساتھ ہونے کی بشارت دی ہے۔۔ میرے لئے یہی کافی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق