پروفیسر شفیق احمد

قاقلشٹ سوئیرز لینڈ کے تناظر میں

 دُنیا  کے وجود میں انے کے بعد زمین سخت  قسم کی موسمی تغیرات سے گزر چکی ہے ۔  زمین آج سے کئی ہزار سال قبل ائس ایج  کی زد  میں تھی۔ زمین  طوفان نوح  اور  “اسٹون ایج “جیسے دور سے بھی گزر چکی ہے۔اسی طرح زمین میں شدید قسم کے زلزلے بھی اتے رہے ہیں اور اسکے بعد(continental drift)براعظموں  میں خلا پیداہونے  کے عمل  کی وجہ سے آج  ہماری زمین سات براعظموں میں  تقسیم ہو چکی ہے۔اسکے علاوہ جاپان میں سمندر کے اندر قلعہ نما عمارت کی دیواریں بھی دریافت ہو چکی ہیں ،اسکا مطلب یہ ہے کہ کسی زمانے میں یہ عمارت خشکی پر قائم تھیں  ۔اسی نوعیت  کے  بُہت سارے شواہد موجود ہیں جو زمین کے وجود میں انے سے آج تک پیش اتے رہتے   ہیں, ان شواہد سے انکار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔اسکامطلب ہر گز یہ نہیں کہ موسمی  تغیرات اور  زمین کی آپس میں ٹکراوء کی بناء پر  پہاڑوں کے وجود میں انے کے بعد  تبدیلی کا یہ  سلسلہ رُک چکا ہے, چونکہ  یہ ارتقائی  عمل چند سالوں دنوں اور گھنٹوں  میں نہیں ،بلکہ کئی ہزار سال بعد وقوع  پذیر  ہوچکے ہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ موجودہ موسمی تغیرات  اسی سلسلے کی ایک کڑیاں ہیں ۔جس طرح زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اسی حساب سے سورج کے اسی کائینات میں کسی اور سمت   گھومنے کا سلسلہ رواں دواں ہے۔  دُنیا  میں انسانی زندگی  اسٹون ایج سے نکل کر مختلف طرز  کی  ترقی کرتی رہی ہے۔جس طرح آج ٹیکنالوجی اور بجلی  کا دورہے 1 شاید ہو سکتا ہے اس زمانے میں  بجلی کے علاوہ بھی ترقی ہو چکی ہو گی ،ورنہ اہرام مصر کے پتھروں کے بارے میں یہ انکشاف ہو چکا ہے کہ یہ پتھر کسی دوسرے  بر اعظم سے لائے گئے  ہیں، کیونکہ اسی ساخت کے پتھر اس پاس کے خطوں میں کہیں بھی نہیں ملتے ہیں ، یعنی اسکا مطلب ہےان  بڑے  پتھروں کے سلوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کئے بے غیر  کشش ثقل کو ختم کر کے کسی دوسرے بر اعظموں سے  منتقل کیا گیا ہے ۔اس قسم کے بے شماردریافتیں ہو چکی ہیں ،جنکو موجودہ ترقی کے دورمیں بھی سر انجام دینا ممکن نہیں ہے ۔ اس قسم کی تبدیلی سے گلیشیر پگھل کر سیلابی شکل اختیار   کرنےکے عمل کو ہم   آج کل  مختلف قسم کے ناموں سے موسوم کرتےرہتے  ہیں ۔اسی بناءپر  بند راستے کھل جاتے ہیں اور کھلے راستے بند ہو جاتے ہیں ۔انتہائی ٹھنڈ علاقوں میں اجکل گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔جہاں پر آج سے چند سال قبل جو علاقے   گلہثئیرزسے  ڈھکے پڑے تھے آج کل انسانی آبادیوں میں تبدیل ہو تے جا رہے ہیں ۔ہوا کی رُ ح میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ قسم قسم کےتغیرات غیر محسوس طریقےسے رونما ہوتے رہتے ہیں ۔چترال کے  موجودہ وادی میں بڑے بڑے جھیلوں کی  موجودگی  کے اثرات  پہاڑوں میں اونچے اونچے مقامات پر ریت کے اثرات انکے شواہد کے بارے میں کافی ہیں۔


موجودہ بالائی  چترال کےتینوں سب تحصیلوں کے سنگم میں دو دریاوں کے بیج  بے آب وگیاہ میدان  قاقلشٹ  واقع ہے۔اسکے نام کے بارےمیں مختلف آراء ہیں ، قریب ترین موڑکہو کے رہائیشی “کاغلشٹ “اور بیار مستوج اور تورکہو کے باسی قاقلشٹ کہتے ہیں ۔کیونکہ “قاق”کہوار زبان میں خشک اور’لشٹ “میدان کو کہتے ہیں ۔یعنی اسکا مطلب ہے خشک میدان ،لہذا تورکہو اور بیار مستوج والوں کے اکثریت کی بولی پر اتفاق کرتے ہوئے میں بھی اسے قاقلشٹ کہنے پر حق بجانب ہونگا ۔اس طرح بالائی چترال  پر طاقتور ترین بادشاہ “سومالک ”  اپنی  موت سے قبل ہی اپنا صدقہ”چہھار”یعنی “سومالکو چھار” دینے کے مشہور قصےسنتے آرہے ہیں ۔ (قدیم زمانےمیں بادشاہ،عام مالدار اور طاقت ور لوگ اپنی موت سے قبل  صدقہ خیرات دینے کا رواج عام تھآ، ایک تحقیق سے اس بات کے ثبوت بھی ملی ہیں کہ یہ روایات بہت دیر تک چترال کے وادیوں میں قائم تھی آخیری بار۱۹۷۷ء ایک کیلاش مالدار بندے نے اپنی زندگی میں بڑے پیمانے پر بکریاں ذبح  کر کے اپنا صدقہ کرا چکا تھآ)سومالک کے دور میں  قاقلشٹ   کی آبادکاری کے قصے بھی مشہور ہیں ۔بعض کےنزدیک قاقلشٹ کے نزدیکی موجودہ گاوں وریجوں اور اکثریت کے نزدیک موژگول میں انکے قلعے کی موجودگی کے قوی امکانات ہیں ۔  بعض لوگ اس پر تحقیق کے بجائے اسکی نفی کر کے اسکو فرضی قصہ قرار دے کر اسکو تاریخ کے اوراق سے مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔لہذا ہمیں اسکو مٹانے کے بجائے اس پر عمل در آمدکراکر اسی خیال کو موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ قاقلشٹ کی وسیع و عریض سر زمین اس وقت بھی ذرخیز تھی اور  اسی  وجہ سے دولت کی ریل  پیل تھی۔بعض کے نزدیک کھوژ  اور بعض کے نزدیک پرواک سے نہر نکال کر اسکو آباد کیا گیا تھا۔ اسی نہر کی  نگرانی کے لئے ۱۲ گھوڑ سوار پر مشتمل عملہ بھی  موجود تھا اوراسی نہر کے اثرات پرواک وغیرہ میں انتہائی اونچائی پر اس کے نشانات واثرات اورانتہائی پتلے دریائی ریت کی موجودگی سے بخوبی لگا سکتے ہیں ۔اسکے علاوہ پرواک کے تینوں بھائیوں شپیر ،سگ اوردوربتوشلی  کے خوشحالی اور دولت کی فراوانی کے قصے بھی مشہور ہیں (ان تینوں بھائیوں ںے اپنی دولت و طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ایک مقابلہ کا اہتمام کیا ایک بھائی نے دودھ کے ذریعے پن چکی چلاآئی، دوسرےبھائی نے پیدل راستے کے اپر   کافی فاصلے پر گندم ( اناج غلہ) بچھائے اور تیسرے نےدیسی گھی میں تیار شدہ نمکین حلوہ نما مشہور طعام (جس سے چترالی زبان  میں سناباچی کہتے ہیں) پکائےاورہدایت کے مطابق ہر بندہ پیٹ بھرکر  کھانے کے بعد ایک نوالہ اسی مکان کے دیوار پر لیپ کرتا جائے گا  اس عمل کے نتیجے میں مکان کی دیوار کے چاروں پہلوکیچڑ کے پلستر کی طرح پلستر ہو گئے)اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ انتہائی ذرخیز خطہ تھا۔اب ہمیں اس بات پر سوچنا پڑے گا کہ آیا قاقلشٹ کے سر زمین کی ساخت  موجودہ شکل میں تھی یااسے  مختلف تھی ۔قوی امکاں ہے اسی زمین کی ساخت جس طرح موجودہ شکل میں ہے  اس سے  زیادہ  مختلف ہو گی ۔کیونکہ قاقلشٹ میں بونی کے سامنے تورکہو روڈ پر اور  آخیری حصے میں انتہائی صاف دریائی  بجری کے بڑے ذخیرے سے علاقے کے لوگ بھر پور مستفید ہو رہے ہیں ۔اسکا مطلب یہ ہے قاقلشٹ ، موجودہ بونی اور موڑکہو کا علاقہ بھی انتہائی اونچائی پر واقع ہونگے ۔بلکہ موجودہ بونی موڑکہو ،استارواور پرواک تک کے علاقے ایک ہی ہموار سطح پر آباد ہونگے ۔ہو سکتا ہے دریائے تورکہو اور دریائے یارخون موجودہ بمباغ کے بجائے قاقلشٹ کے کسی اور مقام  پر ایک دوسرے میں ضم ہو کر اسی وسیع وعریض بیابان کے عین درمیان سے گزرتا ہو گا ۔یقیناً  موسمی تغیرات کی وجہ سے پیش انے والے  ” چیانتر گلیشئئر”کے پٹھنےاور راستے میں انے والے بے شمار جھیلوں کے ٹوٹنے کے نتیجے میں”چٹی بوئی”جیسے  تاریخی  اور ہولناک سیلاب کے زد میں  آچکا ہو گا ۔اسی نتیجے  میں دریائے سندھ کے   راستےمیں آنے  والےکئی بستیوں کو تباہ کرنے کے علاوہ   دراوڑی تہذیب کی تباہی و خاتمہ اور سومالک دور کے  خاتمےکے ساتھ ساتھ موجودہ قاقلشٹ کی سر زمین کی ساخت میں  بھی اسی بناءپر  تبدیلی اچکی ہوگی۔کیونکہ سومالک کا آباد کردہ قاقلشٹ کی اسی وجہ سے خاتمہ نہ ہوتاتو آج اسی آباد زمینوں اور کھیتوں کے نشانات کہیں نظر آتے ۔جس طرح تورکہو کےشاہ جنالی میں قدیم آباد کاری وکاشت کاری  کے اثرات اور کھیتوں کے نشانات پہچانے جاتے ہیں ۔جب شاہ جنالی کی گھاس کے میدان میں  داخل ہوتے ہو اپنے اپکو کھیتوں میں پھرتےہوئے   پاتے ہو۔لہذا قاقلشٹ میں  اس قسم کے اثرات نا پید ہیں البتہ بہت قدیم سومالک بادشاہ کے دور میں آباد ہو چکا ہوگا ۔قوی امکاں ہےکہ سومالک ایک بادشاہ کے نہیں شاید بادشاہت کا نام ہو  سکتا ہے سومالک نام کے بہت  سارے بادشاہ گزرے ہونگے۔

آج  کے اس ترقی یافتہ دور میں قاقلشٹ کے دونوں اطراف دو بڑے دریا گزرنےکے باجود بھی بے آب و گیاہ  وبنجر رہنا  موجودہ وقت کے لئے ایک چیلنج سے  کم نہیں تھا ۔آجکل خدا کے فاضل سے  ہماری یہ خواب جلد پوری ہونے والی ہے ۔”تریچ ژینڈولی پراجیکٹ “یا  “اتھک ایریگشین  پراجیکٹ “کے ذریعے سے  موڑکہو کے مقام پر بجلی گھر بنا کر  خارج شدہ پانی کو سائیفین سسٹم کے ذریعے قاقلشٹ کے وسیع رقبے پر پھیلےہوئےمیدان کوکئی ہزار سال بعد  آباد کیا جائے گا ۔ ہم بحیثیت پاکستانی قوم   المیہ یہ  رہا ہے کہ ہم بے غیر منصوبہ بندی کےکسی بھی پراجیکٹ کا اعاز کرتے ہیں اور  بہترین زرعی زمینوں کو  رہائشی  آبادیوں میں منتقل کرنے کی اجازت نامہ( این ۔او سی)  جاری کرتے رہتے ہیں  ۔رہائشی آبادیوں کو ہم اس طرح زرعی اراضیوں پر منتقل کرتے جائینگے تو آیئندہ چند سالوں میں پاکستان کے نا گفتہ بہ زرعی شعبے پرمزید آفتِیں ٹوٹ پڑینگے ۔رہائِشی آبادیوں کے لئے سلوپی ،ڈھلوانی اور پہاڑی اراضی کا انتخاب کیا جائے تاکہ اسکو  کاٹ کر کھدائی کر کے گھر بنانے کے قابل بنایا جا سکے ۔بد قسمتی سے چترال میں بھی یہی رواج قائم ہےاور۳ فیصد قابل کاشت اراضی میں سلوپی قظعہ دستیاب ہونے کےباوجود بھی لوگ کھیتوں میں گھر وں کی تعمیراور موجودہ “گولین گول ہائیڈرل پاور پراجیکٹ“کے ہائی ٹرانسمیشن لائِن کو نیشنل گرڈ سے ملانے والے ٹاور ز کو قابل کاشت لہلہاتے کھیتوں کے بیچ  میں سے سلوپی اور پہاڑی  اسان راستہ دستیاب ہونے باوجود بھییھی    گزارنا ،  زمین کی قلت کے شکار چترال وادی کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔اگران باریک پہلوں کا  خیال رکھے بے غیر اور  زرعی اراضیوں پر ہاوسنگ سکیم کے تحاشہ   سلسلے کو نہ روکا گیا تو بہت جلد زرعی اراضی میں نمایاں کمی ائے گی۔اسی بناء پر غذائی  قلت کے ساتھ ساتھ موسمی تغیرات کے مسائیل کا  بھی سامنا رہے گا ۔لہذا ئیندہ  ہمیں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت گھروں کے تعمیر کی ضرورت پڑے گی ۔سوئرزیلنڈ دُنیا   میں خوشحال ملک اور دودھ پیدا کرنے والا بڑاملک ہونے کا درجہ حاصل کر چکا ہے ۔سوئیر زیلنڈ بھی جھیلوں ، دریاوں سے بھر پور اور بنجر زمینوں پر مشتمل ملک تھا۔لیکن اس قوم نے قدرتی جھیلوں سے بجلی کے ذریعے ، دریاوں میں ڈیم بنا کر، نہری نظام کے علاوہ سائیفن سسٹم کے ذریعےان بنجر زمینوں  اور پہاڑوں  کو آباد کیا گیا  ہے ۔آج  سوئرزیلنڈکسی  ارضی جنت سے کم نہیں ہے ۔وہ بھی ہمارے قاقلشٹ کی طرح جھیلوں اور دریاوں کے بیچ غیر آباد علاقہ تھا ۔دوسری بات زرعی زمین کی بچت کے خاطردو منزلہ گھروں کی تعمیرات کو رواج حاصل ہے ۔اسکی وجہ یہی ہے کہ اس ملک کے پاس ایک نظام ہے اس نظام پربھر پور  عمل درآمد  ہوتا ہے ۔اپنے ملک کو ایک منظم اور  مظبوط  منصوبہ بندی کےتحت چلا رہے ہیں اوراسی بناء پر وہ ملک ترقی کر چکی ہے ۔ سوئرزیلینڈ کی ترقی اور خوشخالی کے نقل اتار کر اپنے ملک  کو اس  قابل بنانےکے بجائے ہم اس ملک کی شہریت حاصل کرنے کی کوشش میں لگے  رہتے ہیں اگر شہریت لینےمیں  دشواری پیدا ہوتی ہے توکم ازکم  اپنا سرمایہ وہاں لگا بیٹھتے ہیں ۔اگر ہمارا پلان لیکر  کوریا ترقی کر سکتی ہے تو ہم اس پلان پرعمل درآمد کیوں  نہیں کراوتے ہیں ؟اگر سوئیر زیلینڈ  زرعی شعبے کےترقی کی وجہ دنُیا میں خوشحال اورٹیکس فری   ملک بن سکتا ہے تو ہم  دریائے سندھ کےذرخیز ترین  بیلٹ  کو سیلاب کی تباہی سے بچا  کر آباد کر کے اپنے ملک کوٹیکس فری اور خوشحال ملک  کیوں نہیں بنا سکتے ہیں  ؟ ہم دوسروں کے حقوق  پر ڈھاکہ ڈالنا ،قرض سے ملک کو چلانا ،خیراتی ایجینسیوں سے خیرات مانگنےاور تیار خوری کی اس بُری عادت سے تائب کیوں نہیں ہورہےہیں ؟ ہم کب تک قرض اور خیرات مانگ کر ملک کو چلاتے رہینگے ؟اصل میں بعض  چوٹھے غیر سرکاری تنظیمں  خیرات دینے والوں سے خیرات مانگ کر یعنی donorsکا مطلب ہےخیرات  دینے والا (انگریزی کے  لفظ ڈونرز کے استعمال کی بناء پر غیب سے پاک نظر اتاہے) یعنی نام کوزبان غیر میں  بدل کر اور ٹیکنالوجی کی مدد سے خیرات مانگ کر بھکاری کے دھبے کوہم  نہیں مٹا سکتے ہیں ۔ہم غربت ،سیلاب ،زلزلہ ،قحط،بد امنی اور معیشت کی خرابی کے نام پران خیراتی اداروں سے  مدد مانگ کر انکو قائل کرنے کے لئے اپنے ملک کو قحط زدہ ،غربت زدہ  اور آفت زدہ قرار دے کر ، صومالیہ ،ایتھوپیا  جیسے ممالک کے برابر لاتے ہوئے پتہ نہیں ہم دُنیا کی نظروں کےسامنے  سے کیسے گر جاتے ہیں ؟ ہمارے ملک میں آج  کل جدیدبھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پیارےملک  پاکستان کے تما م ادارے  یعنی تعلیم اور صحت  جیسے بُنیادی شعبوں  سمیت تمام شعبے ان بھکاری تنظیموں کی زد میں اکر کمزور ہو چکے ہیں ۔ہم خیرات اور قرض کے زور سے ملکی نظام  کو دیر تک نہیں چلا سکتے ہیں ۔مثال کے طور پر ہم کسی بل صفائی مہم کے مقامی طریقہ کار کے تحت سر انجام دیتے تھے۔ لیکن غیر سرکاری تنظیمں چند سال کے لئے بل صفائی مہم چلاتے ہیں، پھر لوگ انکے انتظار میں اپنے  روایتی طریقہ کار سےبھی  ہاتھ دھو بیٹھتے  ہیں ۔میرے اندازے کے مطابق ہمیں سوئرزیلنڈ کی طرح اپنے اداروں کو مظبو ط بنا کر  ملک میں زرعی انقلاب لانے کی ضرورت ہے ۔ترقی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ذرخیز اور قابل کاشت زمینوں کورہائیشی آبادیوں میں منتقل  کرتے رہے  تو اسکا نتیجہ کیا ائے گا؟میں  تو یہاں تک کہوں گا کہ آبادی  کو آئیندہ ۵۰ سالوں کے لئےٹینٹوں اور شیلٹرز میں منتقل کر نے کا حکم سنایا جائے  یا  دو منزلہ گھروں کی تعمیر کو رواج دے کر زرعی زمینوں کو مزید تباہی سے بچائی جائے ۔کیونکہ چترال میں قابل کاشت زمین کی شدیدکمی کے ساتھ ساتھ “گلیشئیر ز” کا بھی ایک بہت بڑا ذخیرہ پہاڑوں میں موجود ہے ۔بے تحاشہ تعمیرات اور حصوصی طور پر ٹین  کے چادروں سے بنے گھروں کی تعمیرات  سےگرمی کی شدت میں  اضافے اور  برف کے پگھلنے سے پیش انے والےنقصانات کے اندازے کے بارے میں ہم پہلےسے مکمل طور اگاہ ہو چکے ہیں ۔تو ہمیں اس  پیچیدہ  پُر پیچ وادی میں انتہائی منظم طریقے سے رہنا پڑے گا ۔

لہذا ہمیں سوئر زیلینڈ کے پلان کو  سامنے رکھ کر اپنے ملک کے لئے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں زیادہ سے زیادہ ڈیم بنا کر بجلی کے مسائیل پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ بجلی اور پانی کو ذخیرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔اگر بھارت سیلاب کے دنوں اضافی پانی  کو ہمارے دریاوں  کی طرف چھوڑ کر ہمارے زرعی اراضیوں اور معیشت کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے توہمیں اس زائدپانی کو  ڈیموں  کے ذریعے ذخیرہ کرنے کے بارے میں سوچنا پڑے گا،تاکہ ہم سیلاب کے دوران پانی کو چھوٹےبڑے ڈیموں میں  ذخیرہ کرے اور پھر نہروں کی طرف  منتقل کر کے  سیلاب کے خطرے  کو کم کرنےکے ساتھ ساتھ بنجر زمینوں کو آباد کر سکتے ہیں ۔اس طرح  چترال کے پہاڑٔوں سے بہنے والے دریا کو دریائے کابل کو “دریائے چترال” نام دے “غازی بروتھاپراجیکٹ”  کی طرح  نہر کے ذریعےسے با آسانی دیر کی طرف نکال سکتے ہیں ۔اسکے لئے  برادر عرب ممالک اور دوست ملک چین سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں ۔اس وسیع و عریض رقبے پر پھیلے ہوئے ذرخیز  خطےکو  ہم سوئِرزیلینڈ سے بھی زیادہ  ترقی یافتہ اور خوشخا ل ملک بنا سکتے ہیں ۔

اب ہمیں  چترال اور پپیارے ملک کے زرعی زمینوں  کو ہاوسنگ سکیم میں تبدیل کرنےکے  بجائے سلوپی اور پہاڑی خطوں کو  کاٹ کر گھر بنانے کے قابل بنا سکتے ہیں ۔قاقلشٹ کے وسیع عریض رقبے پر پھیلے ہوئے میدان کو تقسیم کرنے اور اسے بھر پور طریقے سے استفادہ کرنے میں دشواری پیدا ہوگی ۔کیونکہ اس حوالے سے مختلف قسم کے تنازعات جنم لینگے ۔اس میں سب سے بڑا مسئلہ قاقلشٹ کی ملکیت کا ہوگا کیونکہ موڑکہو  ،بونی اور چیرون کے سامنے ہونے کی وجہ سے اورجدید دور میں پل وغیرہ دستیاب ہونے کی بناء پربھر پور استفادہ کر رہے ہیں ،اسی بناء پر اپنی ملکیت قرار دے رہے ہیں ۔حقیقت میں قدیم زمانے میں پلوں ،گاڑیوں اورسڑکوں کی سہولیات میسر نہیں تھیں ۔ تمام علاقے اسی دریائی حد بندیوں کے تحت تقسیم کئے گئے ہیں ۔اسکے واضح مثالوں میں لون ،اویر،پرپیش اورشوگرام سب تحصل مستوج کے گاوں  ریشن کے آمنے سامنے اورزیزدی، مداک ،نشکو ہ،سوروہت اور تیریچ ویلی سب  تحصل تورکہو کےاستارو ،ورکہپ اور رائین کے آمنے سامنے ہونے کے باوجود بھی انہی تحصیلوں کے حصے نہیں رہے ہیں ۔اسکی اصل وجہ دریائی رکاوٹ ہے لہذا قاقلشٹ کو دو وجوہات کی بناء پر تحصل تورکہو کا حصہ قرار دینے میں حق بجانب ہونگاکیونکہ  بمباغ سے لیکر ریچ تک کوئی بڑےدریائی رکاوٹ کا نہ ہونا اور دوسری وجہ تمام تحصلوں سے  تحصل تورکہو کے رقبے کا کم ہونا اسکی شہادت کے لئے کافی ہیں اور استفادے کی بنیاد پر آپ ملکیت کا حق نہیں دے سکتے ہیں ۔لہذا انہی تنازعات سے بچنے  کے  خاطر ۲۴ ہزار کنال پر مشتمل اس خطے کے آباد کاری کو مقامی سطح   پر  کرانے کے بجائے سرکاری تحویل مِیں کرائی جائے اور قاقلشٹ کے نشیبی میدانی   خطوں میں گھر بنانے کے بجائے سلوپی اور پہاڑی  مقامات کا  انتخاب کرایا جائے ۔باقیماندہ دستیاب اراضی کو  انتظامیہ،عدالت ،پولیس ، زراعت کے مختلف محکموں ،تعلیم ،کھیل ،محکمہ انہار،واپڈا،لائیبریریز ائیر پورٹ ، ڈرائی پورٹ،پارک اور چڑیا گھر کے لئے محتص کئے جائیں ۔کیونکہ آج کل ہم ان وسیع وعریض  رقبے میں پھیلے ہوئے میدان سےپورے سال میِں  صرف ایک ہفتے کے لئے  جشن قاقلشٹ منا کر اسکو  فعال بنا نے کا موقع ملتا ہےاگر ہم منظم طریقے سے اسکو آباد کرینگے تو اس جشن کے ساتھ دیگر بہت سارے جشن منانے کےمواقع میسر  ہونگے اسے کثیر آمدنی کے مواقع  بھی پیدا ہونگے۔اس سلسلے میں سب سے زیادہ اولیت زرعی شعبے کو دی جائے تاکہ انہی پیداوار کو ایک بورڈ بنا کر حکومتی اور مقامی  لوگوں کی تحویل میں  دی جائے اور تینوں سب تحصیلوں  سے تعلق رکھنےوالے نیک دیانتداراور  قابل لوگوں کو اس بورڈ کے ممبر ز اور ان ممبران میں  سب سے موزوں ترین بندے کو اسی بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا جائے اور انکو تمام تر سہولیات فراہم کرنا بورڈ  کی ذمہ داری ہو گی ۔اسی آمدنی کو  سب ڈیژن مستوج یا متوقع نئے بنے والےضلع اپر چترال  کے لوگوں میں درجہ بندی کے حساب سے  ممبر شب دی جائے  اور  تینوں تحصیلوں کے قریب ترین گاوں  یعنی سب  تحصل  مستوج کے  کوراغ ،چیرون ،چیرون اویر،جنالیکوچ بونی ،آوی ،میراگرام پرواک ، سنوغراور آوی لشٹ تک اے (A)کیٹیگری  اورسب تحصیل تورکہو پائیں  کے گاوں استارو ،ورکہپ ،رائین ، شاگرام  اور شوتخار تک اے(A)  کٹیگری  اس طرح سب تحصیل موڑکہو کے کوشٹ ،بمباغ ،علی آباد ،موردیر ،مژگول ،سما گول ،وریجوں،سہت ،گہت،اتھول ،زائینی اور کشم کو اے (A)کٹیگیری   میں رکھ کرگھروں کی تعمیرات کے لئےسستے داموں پلاٹ  ،زیادہ سے زیادہ منافع اور مختلف پیداورمیں   سبسیڈی دی جائے ۔اس طرح باقیماندہ تمام اپر چترال کو کیٹیگری بی(B) میں رکھ کر اسی حساب سے سبسیڈی دی جائے ۔پھر اہستہ آہستہ بورڈ کی آمدنی سے  علاقے کے مقامی لوگوں کو آسان اقساط اور کم منافع پر قرضے بھی فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے ۔قاقلشٹ کے عین وسط سے دو رویا شاہراہ گزاری جائے۔ اسکے علاوہ زراعت کے درجہ ذیل شعبوں کے ذریعےسےہم “قاقلشٹ گرین اینڈ ہاوسنگ  بورڈ” کا نام دے کر اسکے لئے  آمدنی  پیدا کر سکتے ہیں ۔آمدنی کے   ان ذرائع کی تفصیلی فہرست  درجہ ذیل ہیں ۔

زراعت (Agricultural)
اگرانومی فصلات (Agronomy)

یہ زراعت کے انتہائی بُنیادی شاخ ہے۔ فصلوں کے متعلق شعبےکو گرانومی   کہتے ہیں ،اس میں  گندم ،مکئی ،آلو ،ٹماٹر ،سبزی جات وغیرہ  کے  جدید اصولوں کے تحت کاشت کاری  کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ چترال میں  گندم کی شدید قلت پائی جاتی ہے لہذا  “قاقلشٹ گرین اینڈ ہا سنگ بورڈ “میں  فصلات  کے شعبے میں  گندم کی کاشت کے لئے  سب سےزیادہہموار  اراضی  کا انتخاب کیا جائے۔تاکہ جدید اصولوں کے تحت کاشت کاری کر کے زیادہ سے زیادہ گندم کی فصل حاصل  کی جا سکے۔ پھر ہم ان فصلات کو  حکومت کے ذریعے بر آمد کر کے حکومت سے سبسیڈائیز  نرخ پرانتہائی  کم قیمت میں  بالائِ چترال کے لئے گندم حاصل کر کے اپنی بچت کرا سکتے ہیں۔2اسکے لئے جدید الات سے لیس تجربہ کار سٹاف کی ضرورت ہوگی بلکہ اسکو ایک ماڈل زراعت کے طر پر لیا جائے۔ محکمہ زراعت کے شعبے کے دفترات اور تحقیقاتی ادراروں کو انہی  اراضیوں پر کہیں ناہموار سلوپی جگہوں پر تعمیر کی جائے۔دوسرے نمبر پر سبزی جات کے لئے جگہ محتص کی جائے اسے مقامی مارکیٹ کے علاوہ ملک کے مرکزی منڈیوں تک پہنچانے کی بندوبست اسی “قاقلشٹ گرین اینڈ ہاوسنگ بورڈ” اور متعلقہ شعبے کی ذمہ داری ہوگی ۔آلو ،پیاز ،شلجم وغیرہ کےلئے  کہیں پہاڑی علاقوں کا  انتخاب کر کے اسی کمی کو دور کی جاسکتی ہے۔

(2)باغبانی:(Horticulture)

 زراعت کے اسی شاخ کا تعلق باغبانی سے ہے۔ اسی شعبے کی وساطت سے ہم سیب ،ناشپاتی ،انگور ،املوک ،چیری،خوبانی وغیرہ کے لئے جدید اصولوں  کے تحت باغات لگا سکتے ہیں ۔ تاکہ ہم انہی پیداوار کو جدید طریقے سے پیک کر کے ملک کے مرکزی منڈیوں تک پہنچا   کر “قاقلشٹ گرین اینڈ  ہاوسنگ بورڈ” کےلئے  آمدنی کا ذریعہ پیدا کر سکتے ہیں  ۔آبپاشی کے جدید اصولوں یعنی شاور  سسٹم ،پائیپنگ اور ڈرپ سسٹم کے ذریعے آبپاشی کو متعارف کراکر پانی کے منصفانہ تقسیم بھی کرا سکتے ہیں ۔تاکہ کسی قسم کی پانی کی قلت کا سامنا نہ ہو۔
3

(3)آفزائش نسل حیوانات:(live stock) :

 یہ بھی محکمہ زراعت کا اہم شاخ  ہے ۔اس میں دُنیا کے اعلے نسل کی گائے ،بھیڑ ،بکریاں لا کر جدید اصولوں کے تحت اسکی پرورش کرکے اور ان باغات اور کھیتوں سے ملنے چارے کوخوراک کے طورپر انکے لئے استعمال میں  لا سکتے ہیں ۔اس طرح ہم دودھ اور گوشت کی کمی کو پوری کرنے کے ساتھ ساتھ  دودھ کے مصنوعات “چترال ائیس “کریم وغیرہ کو ملک کے مرکزی منڈیوں تک پہنچا  کر متعلقہ بورڈ کے لئے آمدنی کے ذرائع پیدا کر سکتے  ہیں ۔باقی مقامی آبادی کے لئے کم قیمت میں ان چیزوں کو مہیاء کی جاسکتی ہے۔حیوانات کے  گوبر کو ہم قدرتی کھاد(Organic fertilizer) کے طور پر بھی استعمال میں  لا سکتے ہیں ۔ اسکے علاوہ اپر چترال کے بالائی چراگاہوں کو کو بھی حکومت اپنی تحویل میں لیکر  موسم گر مامیں4ان حیوانات کو ٹرکوں  کے ذریعے منتقل کر کے انکے پیداوار میں  اضافہ کرا سکتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے پاس اپر چترال کے وادیوں میں مشہور اور ذرخیز چراگاہیں موجود ہیں   انکو حکومت اپنی تحویل میں  لینے سے جنگلی حیات کی بھی حفا ظت  ممکن ہو سکتی ہے ۔اسکے لئے متعلقہ محکمہ کے اہلکار انکی حفاظت کے لئے مامور ہونگے۔باقی ان چراگاہوں کے  قریبی گاوں کو اسی آمدنی اور (Game reserve) میں شکار کی آمدنی سے رائیلٹی دی جائے گی اور اسکے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں میں اس شعبے کی طرف سے اگہی ملنے کی وجہ سےاسی صیغے کو  ترقی ملے گی۔ اسے علاقے کی معیشت پر بڑےاچھے اثرات مرتب ہونگےاور بورڈ کو بھی فائدہ ہو گا ۔اسکےلئے محکمہ لائیو سٹاک ،فارسٹ ڈیپاٹمنٹ اور وائلڈ لائف ڈیپاٹمنٹ  بھر  پور کردار ادا کرے گا ۔

(4) ماہی پرور (fisheries) :

 یہ بھی محکمہ زراعت کے  بُنیادی اہم شاخ ہے ۔اسی محکمے سے مچھلیوں کی آفزائیش نسل کو جدید اصولوں کے تحت ترقی دی جاسکتی  ہے ۔ کیونکہ وادی تیریچ کے گلیشیرز سے نکلنے والے تازہ پانی ( fresh water)  ٹراوٹ اور دیگر قیمتی نسل کے مچھلیوں  کے لئے انتہائی کار آمد ہوگی۔اس طرح ان تالابوں سے نکلنے والے اضافی پانی  فصلات اور باغات کو  فراہم کر سکتے ہیں ۔اسکے علاوہ بھی محکمہ ماہی پروری  دیگر وادویوں میں تازہ پانی کے تالابیں بنا کر اسی صیغے کو مزید فعال بنا سکتے ہیں ۔کیونکہ اپر چترال بھی  ابشاروں ،چشموں ، ندی نالوں ،سر سبز گھاس کے میدانوں اور برف پوش پہاڑوں پر مشتمل وادی  کسی پرستان سے کم  نہیں ہے۔

(5)مگس  بانی (Apiculture):

5یہ بھی محکمہ زراعت کا اہم شاخ ہے۔قاقلشٹ کے وسیع میدان پر سرسبز کھیت باغات اور پھلوں کے بیچ ان بکسوں کو سجا کر وافر مقدار میں ہم شہد پیدا کر سکتے ہیں ۔اسی تازہ شہد کو جدید طریقے سے پیک کر کے بر آمد بھی کر سکتے ہیں ۔اسے بھی کافی حد تک  بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسکے علاوہ   گرمی کے موسم میں بھی  ان بکسوں کو محکمے کی وساطت سے مختلف وادیوں  کی طرف منتقل کر  کے پیداوار اور معیار میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

(6) مرغبانی (Poultry Farming ):

6یہ بھی محکمہ زراعت کا ایک اہم شاخ ہے اور آج ہمیں پولٹر ی اور آلو کے علاوہ زندگی گزارنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ اسی کھیتوں کے ارد گرد موزوں مقامات پر ڈربہ خانہ بنا کر کر کثیر آمدنی پیدا کرنے ساتھ ساتھ اسکے  باقیات کو ہم قدرتی کھاد کے طور پر زمینوں کے لئے استعمال میں لا سکتے ہیں ۔اس طرح ہم  پولڑی کی افزائیش نسل کو جدید حطوط پرترقی دے سکتے ہیں-

(7)جنگلات (Forestry):

جنگلات بھی محکمہ زراعت کا ایک بنیادی شاخ ہے۔اسی محکمے کے بے غیر زندگی کی بُنیادی ضرورت چھت میسر نہیں آسکتی ہے اور ماحولیات میں آکسیجن کی کمی کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی کے باعث گلیشیرز کے پگھلنے اور سیلاب کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔اپرچترال  میں جنگلات نہیں ہیں لیکن  اسکا مطلب ہر گز  یہ نہیں ہےکہ ہمارے پہاڑ خشک ویران  ہیں، اس میں صنوبر(Juniper)ٹھوک() ،بندو(),بوڑی()بید(Willows)گونی(Cartages songArica)شینجور (Eleagnlus)کیکر(Acacia Arabica)اور تھیسپھوک(Artemisia) بیشو (Sephora moles) میرغینز (Hippophae rhmnoides) (Ephedra geradina)جیسے مقامی جاڑیوں ومقامی جنگلات سے بھر پور ہیں ۔اسی محکمے کو چاہئےکہ تمام گاوں کے چراگاہوں کو اپنے قبضے میں  لے لیں  جدید اور روایتی اصٔولوں کو یکجا کر کے  ان پودوں کو زیادہ سے زیادہ لگائے اور انکی حفاظت کرے  تاکہ مقامی لوگوں کو قریب سے ہی کم قیمت میں  جلانے کی لکڑی میسر ہوگی۔ اسکے علاوہ سب سے  اہم اور پیچیدہ مرحلہ عمارتی لکڑی کا آئے گا اسکے لئے ہم مقامی پودے سفیدہ (Poplar) وغیرہ کی نرسری لگا کر جدید اصولوں کے تحت  مختلف وادیوں  ان پودوں کو لگا کر سستی قیمت پر عمارتی لکڑی فرہم  کر سکتے ہیں ۔

(8)تعمیرات: (constructions)

سب سے پہلے ہمیں”قاقلشٹ گرین اینڈ ہاوسنگ سکیم”میں  تعمیرات کے لئے ناقابل کاشت اراضی ، سلوپی ،ڈھلوانی اور پہاڑی علاقوں کا انتخاب کرنا ضروری ہے ۔سب سے پہلے سر کاری محکموں کے لئے جگہ محتص کی جائے جس میں نئے بنے والے ضلع  اپر چترال کے سیکٹریٹ کے لئے مناسب مقام کا انتخاب سکول  ،کالجز ،یونیورسٹی ،ہسپتال ،لائیبری ،سٹیدیم ،محکمہ ثقافت،میوزیم ،سینما ،وغیرہ کے علاوہ  عبادت گاہیں اوردینی درسگاہوں  کے لئے  جگہوں کا انتخاب کیا جائے ۔اسکے بعد موڑکہو کی سمت تما م سلوپی علاقوں کے علاوہ بھی جگہ محتص کر کےموڑکہو  سیکٹر نام دے کر  جدید دو منزلہ گھروں کے  لئے پلاٹ  فراہم کرے  اور ہر گھر میں گاڑی کی پہنچ کو یقینی بنائی جائے ۔اسی طرح بونی کی سمت بیارسیکٹر کے نام سے  تمام سلوپی علاقوں کو کاٹ کرگھر بنانے کے لئے  جگہ مہیاء کی جائے ۔پھر  شمالی سمت تورکہو  سیکٹر نام دے کر سلوپی جگہوں کو کاٹ  کر دومنزلہ گھر تعمیر کرنے کے لئے جگہ فراہم کی جائے۔ان تمام  گھروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے۔

7

اسی منصوبہ بندی کے تحت  بہت کم اراضی سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور زرعی زمینوں کی بچت بھی ہوگی۔پھر اسی آمدنی سے بنجر زمینوں کو سیراب کرنے کا ایک نیا سلسلہ بھی  شروغ ہوجائے  گا۔ جسے مقامی آبادی کی معیار زندگی میں نمایاں تبدیلی ائے گی اور لوگوں کی معیشت بہتر ہو کر  سوئرزیلینڈ  کی طرح ٹیکس فر ی خوشخال علاقہ بن جائے گا ۔اسکے علاوہ محکمہ زراعت اپر چترال کی انتہائی  ذرخیزسر زمین  سے جدید اصولوں کو اپنا کرترقی و حوشخالی پیدا کرنے کا ذریعہ پیدا کر سکتا ہے۔  اس قسم کی منصوبہ بندی ہم ملک کے دیگر خطوں میں کراکر زرمبادلہ کما سکتے ہیں ۔ قاقلشٹ کی وسیع وعریض میدان کو دو دریاوں  کےسنگم  میں  اور اونچائی  پر موجود گلیشئیر ز کی دامن میں بے آب وگیاہ چھوڑنا ہمارےلئے باعث بے حسی ہے ۔لہذا ہم  انتہائی اختیاط کے ساتھ  منصوبہ بندی کر کے اسی خوبصورت میدان  کو آباد کر کے اور تعمیرات کورواج  دینگے تو ہم اپنی عذائی ضروریات کی کفالت کے ساتھ بونی زوم اور تریچ میر کی برف کو پگھلنے سے محفوظ بنا سکتے ہیں ۔

8

اگر ہم قاقلشٹ کوان  باریک پہلو ں کا خیال  رکھے بے غیر آباد کرینگے یا   زلزلہ زادگان اور سیلاب زادگان میں ٹینٹ اور رضائیاں تقسیم کرنے کی طرح اسکو تقسیم کرینگے تو مجھے یقین نہیں ہوگا کہ کہیں حقدار حق مل سکے یا عدالتوں کی نظر ہو کر اس عظیم منصوبے سے ہاتھ دھٔو بیٹھیں گے۔حقیقت یہ ہےاپر چترال کے پاس قاقلشٹ اور شندور کے علاوہ کوئی تاریخی اہم مقامات نہیں ہیں لہذا قاقلشٹ تک اسان  رسائی  ہونے کی بناء پر  نئے بنے والے ضلع  کوبسانا پڑے گا ۔ہمیں  علحیدگی کی تیاری کرنی چاہئے کیونکہ آبادی بڑھ  رہی ہے ،وسائیل کم ہیں ، بے روزگاری میں  اضافہ ہوتا جارہا ہے اور انتظام چلانے میں دشواریوں  کا سامنا ہو رہا ہے ۔البتہ ہماری علحیدگی سے ایک مسئلہ  پیدا ہو گا وہ ہے تعمیراتی اور جلانے کی لکڑی کا ،اسے ہم اپنے لویئرچترال  کے بھایئوں سے نشست  کرکے اپنے پاوں پر کھڑے ہونے  اوراپنی جنگلات لگانے اور بار آور ہونے تک لکڑیوں کی آزاد نقل وحمل کی چھوٹ  کی استدعا کر سکتے ہیں ۔ یہ مسئلہ ہم افہام وتفہیم سے حل کرا سکتے ہیں ۔باقی اگر ہم نے کوشش کی بہت جلد پیارے ملک کےلئے ایک نمونہ دے سکتے ہیں ۔ اسکے بعد آپ قاقلشٹ کی تصویر اٹھا کر دیکھو  گےکہ آپکے قاقلشٹ کے سر سبز گھاس پر سرخ ،سفید اور کالے  رنگ کی گائیں  اور بھیڑ بکریاں دوڑتی ہوئی نظر آئینگے اور جو لوگ  سوئیر زیلینڈ کی شہریت حاصل کی ہیں انہوں نے وطن  واپسی کو ترجیح دینگے  بلکہ انکے ساتھ سرمایہ بھی واپس ائے گا۔ ورنہ بے غیر منصوبہ بندی کے نئے بنے والے ضلع مِیں رہنا ہمارے لئے مشکل ہوگا اور انشاءاﷲ ہم اپنے نئے بنے والے ضلع کو ایک مثالی ضلع بنا کر قوم کے لئے ایک نظیر بنائینگے اور اسے سوئیر زیلنڈ سے بھی زیادہ خوبصورت  اور فغال بنایا جائے گا ۔

نوٹ : یہ میری ذاتی رائے ہے حرف اخیر نہیں لہذااس حوالے سے اپنی آراء سے اگاہ کر سکتے ہیں اور آپکے بہتر تجاویز کو  وقعت دی جائے گی۔


چترال ایکسپریس: اشاعت 22اگست 2016

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق