ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد ……..بھارت کا جنگی جنوں

………….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ………….

Advertisements

خبر آئی ہے کہ دہلی اور لاہور کے درمیاں چلنے والی دوستی بس خالی آتی جاتی ہے لاہور سٹینڈ پر بس سے دو مسافر اترتے ہیں اور تین مسافر بس میں سوار ہوتے ہیں کبھی کبھی ایک مسافر بھی نہ اتر تا ہے نہ جاتا ہے اور بس خالی چلتی ہے یہ بھارت کے جنگی جنوں کا نتیجہ ہے اور بھارت کا جنگی جنوں بے سبب نہیں ہے اس کے بے شمار اسباب ہیں پہلا سبب سب کو معلوم ہے اور سبب یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اگلے انتخابات میں کامیابی کے لئے پاکستان کے خلاف جنگ اور محاذ ارائی کی فضا بنا نا پڑتا ہے ایسی فضا نہ بن سکی تو اگلا الیکشن بی جے پی کے ہاتھ نے نکل جائے گا اور کانگریس میدان مارلے گی یہ ایسی بات ہے جو بھارتی میڈیا کو بھی معلوم ہے پاکستانی میڈیا کو بھی معلوم ہے سیاستدانوں اور فوجی افسروں کو بھی معلوم ہے بھارت کے سابق فوجی افیسروں نے وزیر اعظم نر یند ر مودی کو مشور ہ دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگ کا محاذ گرم کیا جائے حاضر سروس فوجی افیسروں نے کھلی جنگ کی جگہ پر و پیگنڈہ مہم کی حمایت کی بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم کو تیز کیا ہے اس پروپیگنڈا مہم کا اثر آہستہ آہستہ پاکستانی اور عالمی میڈ یا پر بھی ہو رہا ہے دوستی بس سروس کی ناکام سروس بھی اس پروپیگینڈا مہم کا نتیجہ ہے اس کے مزید نتائج معیشت کی خراب صورت حال کی صورت میں سامنے آرہے ہیں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات کو تکر ار کر کے واضح کیا ہے اور ہر تقریب میں اس کو دہر ایا ہے کہ پاکستان ہر حال میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے آرمی چیف کی پیروی میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے بھی خبر دار کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کے خطر ناک نتائج برآمد ہونگے اور خطے میں امن کو شدید دھچکا لگیگا امن اور سلامتی کو درپیش خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے مبصرین نے جو رائے قائم کی ہے وہ یہ ہے کہ بھارت اس وقت پاکستان کے خلاف گرم جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے صرف پرو پیگینڈے کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے اور اس دباؤ کے ذریعے اپنے اندرونی مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹا نا چاہتا ہے پاکستان کے اندر دو طرح کے جذبات پائے جاتے ہیں شہروں سے دیہات تک عام آدمی ، عام پاکستانی اور غریب شخص بھارت کے خلاف شدید قسم کے جذبات رکھتا ہے اور جنگ لڑ کر کشمیر حاصل کر نے کے لئے بے تاب ہے بے قرار ہے عام آدمی جنگ کا حامی ہے اور بھارت کو سبق سکھانا چاہتا ہے ہماری سیاسی قیادت کو عوامی جذبات کا کوئی ادراک نہیں پاک فوج کی قیادت عوامی جذبات سے آگاہ ہے اور عوام جذبات کا احترام کرتی ہے ہمارے سیاستدانوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل ، چھوٹے چھوٹے مفادات اور چھوٹے چھوٹے اختلافات سے فرصت نہیں ہے شاید بھارتی قیادت پاکستان کے اندر پائے جانے جانے سیاسی انتشار سے فائد ہ اُٹھا نا چاہتی ہے اگر یہ بات درست ہے تو بہت افسوسناک بات ہے سیاسی قیادت کو عوامی جذبا ت کا ترجمان ہونا چا ہیے ہماری خارجہ پالیسی ہو ، داخلہ پالیسی ہو ،عدلیہ کی خدد مختاری ہو ، بیوروکریسی کی بے لگامی ہو ، معیشت کی زبوں حالی ہو کرپشن کی بھر مار اور بدا نتظامی ہو ،ہر مسئلے پر عوام کے جذبات سے سیاستدانوں کے طر ز عمل کا کوئی تعلق نہیں ہوتا عوام مشرق کی سمت سفر کرتے ہیں تو سیاسی قیادت مغرب یا شمال کی سمت میں روانہ ہوجاتی ہے یہ افسوسناک صورت حال ہے اور ہمارا دشمن اس صورت حال سے ہمیشہ فائد ہ اُٹھا تا ہے اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کوتین اطراف سے خطرات کا سامنا ہے مشرق میں بھارتی فوج ہے مغرب کی سمت میں کلبھوشن یاد یو کے دوستوں کا نیٹ ورک ایران میں سرگرم ہے مغرب کی طرف دیکھو تو بھارت نے افغانستان کی سرحد پر 8 کونصل خانوں کے ذریعے اپنا مضبوط جال بچھایا ہوا ہے فاٹا سے کراچی اور کراچی سے بلوچستان تک اپنا نیٹ ورک پھیلا یا ہوا ہے بقول حالی
چاہِ یوسف سے آرہی ہے پیہم صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
پاکستان اس وقت دشمن کے خطرناک نرغے میں ہے ہماری فوجی قیادت کا حوصلہ بلند ہے ہمارے عوام کا حوصلہ بلند ہے اگر کوئی کمی ہے تو سیاسی قیادت میں ہے دائیں بازو کی جماعتوں میں دائیں بازو کی کوئی خوبی نہیں رہی بائیں بازو کی جماعتوں میں بائیں بازو کی کوئی صفت پائی نہیں جاتی قومی و حدت ، قومی منشور ، قومی ایجنڈا کسی کے سامنے نہیں اس لئے وطن کے دفاع کا سارا بو جھ پاک فوج او رعوام کے کندھوں پر ہے عوام کو متحرک کر نے کا کام بھی پاک فوج کو کرنا پڑ رہا ہے سیاسی قیادت اس پر توجہ نہیں دے سکتی سیاسی لیڈروں کی ترجیحات الگ الگ ہیں اس وقت بھارتی پر وپیگینڈے کا موثر جواب دینے کے لئے ایک ایسی آل پارٹیز کانفرنس کی ضرورت ہے جیسی آل پارٹیز کانفرنس آرمی پبلک سکول پشاور پر بھارتی حملے کے بعد بلائی گئی تھی جس میں دیگر سیاسی لیڈروں کے ہمراہ عمران خان بھی شریک ہوئے تھے نیشنل ایکشن پلان بنا یا گیا تھا اب 2014 ء کا ایکشن پلان پر انا ہوا ہے اس کے 25 فیصد پر عمل ہوا 75 فیصد پر عمل کے لئے نئی اے پی سی اور نئے ایکشن پلان کی تشکیل بے حد ضروری ہے اور بھارت کے جنگی جنوں کو لگام دینے کا یہ واحد طریقہ ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى