مفتی غیاث الدین

اے ایمان والو!

اللہ رب العزت نے اُمتِ محمدیہ کو اتنی فضیلت بخشی ہے کہ پچھلی اُمتوں کے انبیاء کرام اِس اُمت میں پیدا ہونے کی تمنا کرتے تھے، یقیناًاس فضیلت کا محور حضور ﷺ کی ذات اقدس ہے، اس لئے ایک مسلمان کے لئے سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ اس دنیا میں رسالتِ مآب ﷺ کی ذاتِ با برکت ہے ، اسلامی نقطہ نظر سے کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک حضور ﷺ سے اس کی محبت اس کی جان،اولاد اور سارے لوگوں کی محبت پر غالب نہ ہو، حدیث شریف میں آتا ہے :

Advertisements

’’لا یومن احدکم حتی ٰ اکون احب الیہ من والدہ وولدہ و الناس اجمعین‘‘
ترجمہ: تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھ سے اپنے والدین ،اولاد اور پوری انسانیت سے زیادہ محبت نہ کرے‘‘

اپنی اُمت سے حضور ﷺ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ انتقال کے وقت بھی آپ کو اپنی امت کی فکر تھی اور قیامت کے دن بھی جب سارے انبیاء نفسی نفسی کہہ رہیں ہوں گے آپﷺ ’’یا رب امتی امتی‘‘ کی صدا لگائیں گے۔اور دوسری طرف ہماری محبت کی یہ صورتِ حال کہ توہینِ رسالت اور دعویٰ نبوت جیسے دل خراش اور ایمان کو لرزا دینے والے واقعات میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے اور اُن کی روک تھام کے لئے کوئی موثر اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔
بروز جمعہ شاہی مسجد چترال میں نمازِ جمعہ کے وقت ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ریچ سے تعلق رکھنے والا رشید نامی ایک شخص نے جمعہ کے پہلے خطبہ کے بعد کھڑے ہو کر اعلان کیاکہ ’’ میں حسن حسین کی اولاد ہوں، میں نبی ہوں میری اتباع کرو ،میں تمہاری شفاعت کروں گا‘‘وغیرہ۔ اس کے بعد آگے کی صفوں میں آس پاس کے نمازی اس کو مارنے کے لئے آگے بڑھے تو سابق ڈسٹرکٹ خطیب مولانا خلیق الزمان صاحب نے لوگوں کو اُسے زد وکوب کرنے سے روکا،اور نماز کے بعدبحفاظت اُسے پولیس کے حوالہ کیا۔ بلا شبہ خطیب صاحب نے اس نازک موقعہ انتہائی ذہانت کا مظاہرہ کیا ہے جو لائق تحسین ہے۔
یقیناًناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت کا تحفظ ایک حسا س اور نازک مسئلہ ہے اسی طرح انسان کا قتل بھی ایک نازک اور حساس مسئلہ ہے اسی وجہ سے شریعت مطہرہ حتی الوسع انسانی جان کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے،چنانچہ کتبِ فقہ کا ایک مسلمہ اصول ہے :ان الحدود تندرأ بالشبھات‘‘(یعنی حدود شبہات سے ساقط ہو جاتی ہیں)۔
لیکن بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ افراط اور تفریط کا شکار ہے،ایک طرف ناموسِ رسالت کے تحفظ کا نام لے کر کسی انسان کو بھی قتل کر نے کا خطرہ رہتاہے تو دوسری طرف اگر کوئی توہینِ رسالت کا مرتکب ہو جا تاہے یا نبوت کا دعویٰ کر بیٹھتا ہے اس کو قرارِ واقعی سزا نہیں دی جاتی،چند سال جیل کاٹنے کے بعد مختلف بہانے( پاگل پن وغیرہ ) سے عدالت سے با عزت بری ہوکر نکلتا ہے ۔اسی افراط اور تفریط کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو کل شاہی مسجد میں ہوا۔
ایک مسلمان ہونے کے ناطے اور حضور ﷺ سے محبت کے تقاضے کے طور پرہم پر لازم ہے کہ ہر حال میں حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی گزانے کی از حد کوشش کریں،اپنی خواہش ،نفس اور عقل کی اتباع نہ کریں،دل تو ہر مسلمان کی طرح میرا بھی یہی چاہتا ہے کہ ایسے ملعون شخص کو زندہ جلا کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کروں،لیکن کیا کریں دینِ اسلام کی بنیاد عقل اور خواہش نہیں بلکہ وحی ہے۔
بلا شبہ ایسے واقعات میں اشتعال انگیزی ایک فطری امر ہے ، اس وقت طیش میں آنا اور غصہ ہونا یہ عین ایمان کی علامت ہے نیز اگر شرعی حدود کے اندر ہو توبلا شبہ ممدوح ہے ،البتہ اس جذبے اور طیش کی وجہ سے دوسروں کے املاک کو نقصان پہنچانا،جلاو گھیراوکا راستہ اختیار کرنا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ہمارے پیارے رسولﷺ کی ہدایات کے مطابق بالکل ناجائز ، حرام اور گنا ہِ کبیرہ ہے۔
اگر ہم واقعی عاشقِ رسول اور حضور ﷺ کی شفاعت کے طلب گار ہیں تو اس ملزم کو قرار واقعی سزا دینے کے لئے شرعی اور آیئنی حدود میں رہتے ہوئے اپنی بساط کے مطابق کوشش کریں مثلاعینی شاہدین و سامعین پر لازم ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر گواہی دینے میں پس و پیش نہ کریں ورنہ صرف احتجاج و نعرہ بازی سے کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔اس میں دو رائے نہیں کہ جب تک ہم قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس طرح کے ملعون ملزموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچائیں گے اس طر ح کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔

(جاری ہے)


ادارے کا مراسلہ نگار کے رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى