اقبال حیات آف برغزی

قومی خیانت

…….. تحریر : اقبال حیات آف بر غذی….


سٹیشنری کی ایک دکان میں بیٹھا تھا ۔ ایک نو جوان ہاتھ میں فائل لئے دکان میں داخل ہو کر کھڑے کھڑے دکان کا جائیزہ لیا اور فائل سے سامان کی ایک فہر ست نکال کر دکاندار کی طرف بڑھاتے ہو ئے یہ کہکر با ہر نکلے کہ فہرست کے مطابق ساماں نکال کر رکھ دیں میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔ دکاندار ساماں نکال کر تیار کر نے کے بعد نو جوان واپس آیا اور دکاندار سے سامان کی قیمتوں میں تھوڑی رعایت لینے کے بعد کیش میمو میں اندراج کر تے وقت ہر چیز کی قیمت میں اضافہ دکھانے کا تقا ضا کئے ۔ دکاندار اشیاء کی اصلی قیمت کے بر عکس اسکی خواہش کی تکمیل سے جب معذرت کی تو نوجوان نے خالی کیش میمو پر دستخط کر کے دینے کی فر مائش کی مگر دکاندار کی انکاری پر نو جوان غصے میں سامان چھوڑ کر یہ کہتے ہو ئے چلے گئے کہ ایسا کئے بغیر کو ئی فائدہ نہیں ہو تا ۔
نچلی سطح پر اس طرز بد عنوانی سے ہماری معاشرتی زندگی کا چہرہ بے نقاب ہو تا ہے ۔ مالیاتی اداروں میں معمولی نوعیت کے عہدوں پر فائز افراد کی معیار زندگی بہ زبان خود بولتی ہے کہ یہ بد عنوانی کا ثمرہ ہے ۔ ہمارے معاشرے کے جس شعبے کو بھی کھنگال کر دیکھا جائے تو بد دیانتی کے مختلف رنگ نظر آئینگے ۔ سرکاری ملازم دفتری امور کے سلسلے میں جب دورے پر جا تا ہے تو ایک معمولی ہوٹل میں قیام کر کے واپسی پر کسی بڑے ہو ٹل کا کیش میمو بنواکر ٹی اے بل میں شامل کر کے قومی خیانت کا مرتکب ہو تا ہے ۔ امتحانی ڈیوٹیوں پر مامور افراد کو نقل کی روک تھام کے لئے روزانہ کی بنیاد پر معاوضہ دیا جا تا ہے مگر وہ اپنی ذمہ داریوں کے بر عکس عمل کا ارتکاب کر کے اس معاوضے کو حرام میں تبدیل کر تے ہیں اور ساتھ ساتھ امتحان دینے والے طلباء کی طرف سے دیے جانے والی دعوتوں کے مزے اڑائے جاتے ہیں ۔ اور اس قومی سانحے کی کیفیت کے حامل عمل کو پر کاہ کے برا بر بھی نہیں سمجھا جا تا ہے ۔ سرکاری ڈیوٹی کے لئے وقت کو ذاتی کاموں ، فاتحہ خوانی یا مبارک بادی کے لئے جانے پر صرف کیا جا تا ہے اور عام طور پر ظہر کی نماز کے بہانے نکل کر وقت پورا ہونے سے قبل کھسک جا تے ہیں ۔ حالانکہ مولا نا مفتی محمد شفیع صاحب کا فتوی ہے کہ سر کار کی طرف سے اپنے ملازم کے آٹھ گھنٹوں کو معاوضہ دے کر خریدا جا تا ہے ۔ ڈیوٹی کے معین وقت میں ایک سکینڈ کی کمی کے حساب سے تنخواہ حرام ہو گی ۔اسی طرح ٹھیکہ ڈاری نظام کے تحت عوامی نوعیت کے امور کی انجام دہی کو قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کی جھٹی قرار دیا جائے تو بے جانہ ہو گا ۔ یہاں تک کہ اغیار کی طرف سے خیرات کے طور پر ملنے والی رقوم پر پرائیویٹ اداروں میں کا م کر نے والے مسلمان ہاتھ صاف کر نے سے نہیں ہچکچاتے ۔ مختصر یہ کہ ہم چند روزہ زندگی کی لزتوں اور ایک بالشت کے برابر پیٹ کی آگ بھجانے کے لئے حلال حرام کی قیود کو پھلانگنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور ابدی زندگی کے تصور سے مکمل طور پر نا آشنا ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ کا گذر ایک عابد زاہد کے پاس سے ہوا۔ جو ایسی جگہ بیٹھے ہو ئے تھے کہ ان کے ایک طرف قبر ستا ن اور دوسری طرف گھروں کا کوڑا کباڑ کا ڈھیر تھا ۔ گزرنے والے بزرگ سے کہا کہ دنیا کے دو خزانے تمہارے سامنے ہیں ۔ ایک انسانوں کا خزانہ قبرستان کی صورت میں اور دوسرا مال و دولت کا خزانہ جو فضلات اور گندگی کی صورت میں اور یہ دونوں خزانے عبرت کے لئے کافی ہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق