ایم۔رحمان قمرتازہ ترین

چترال میوزیم ما ضی اور حال کے تنا ظر میں

………تحریر و ترتیب : ایم رحمان قمرؔ بمبوریت…….


چترال شہر کے عین وسط میں پو لو گراونڈ سے متصل با ئی پا س روڈ کے اوپر انتہا ئی خوبصو رت لو کیشن پر چترال میوزیم کی خوبصورت عمارت ہے۔ یہ عمارت 1982.83ء کے دوران اس وقت کے ڈپٹی کمشنر چترال شکیل درانی نے تعمیر کیا ۔ شکیل درانی کے متعلق کہا جا تا ہے کہ وہ ایک انتہائی زیرک دوراندیش جہاندیدہ انتظامی آفیسر تھے ۔ ان کو چترال کی منفرد تاریخ اور تہذیب وثقا فت کا بخوبی علم تھا ۔ اس لئے قیمتی تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کیلئے
چترال میو زیم کی بنیاد رکھی ۔ بد قسمتی سے شکیل درانی میوزیم کی تکمیل سے پہلے ہی چترال سے تبدیل ہو گئے یو ں یہ اہم منصو بہ عدم سر پر ستی اور بے تو جہی کا شکار رہا ۔چترال کے منتخب نمائندوں نے بھی اس کی طرف کوئی خا ص توجہ نہیں دی۔ شا ید وہ میو زیم کی اہمیت سے لاعلم تھے ۔ ایک طویل عر صے تک میوزیم کی بلڈنگ کو محکمہ واپڈا نے جنریڑز کیلئے استعمال کیا ۔ یوں ڈیزل جنریٹر کے چھوڑے گئےدھوئیں کی وجہ نہ صرف میوزیم کی بلڈنگ متاثرہوئی ۔بلکہ میوزیم کے سرہانے پر شان اور دبدبے سے کھڑے چنار کے درخت دھوئیں سے دم گھٹنے کے باعث مرتے مرتے بچ گئے ۔ اس بلڈنگ کو جب واپڈا کے ڈیزل جنریٹروں سے نجات ملی ۔ تو محکمہ آر کیا لو جی نظر اس پر پڑی ۔ لیکن وقت کے تقا ضے کے مطا بق جو اہمیت اس کو ملنی چاہئیے تھی وہ نہ مل سکی۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چترال کے اپنے فر زند اس میو زیم میں بطور انتظا می آفیسر نہیں رہے ۔دوسرے اضلاع سے آنے والے آفیسرز کے لئے چترال کے مو سمی حا لات ، روڈ کی بندش ، وسائل کی کمی ، عدم سر پرستی وغیرہ ایسے وجو ہا ت تھے جنکی وجہ سے یہ منصو بہ وقت کے ساتھ تر قی نہ کر سکا ۔یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔کہ کسی بھی عوامی پروجیکٹ میں اگر عوام دلچسپی نہ لے تو وہ منصو بہ اس رفتار سے آگے نہیں بڑ ھ سکتا جس رفتار سے آگے بڑھنا چاہئیے ۔ چترال میوزیم کے متعلق عوام میں اتنی اگاہی نہیں ہے جو کہ ہو نا چا ہئیے میوزیم کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہےکہ یہ محض چند نوادرات, عجا ئبات کے مجمو عے کا نام ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ میوزیم عجا ئبات کے مجمو عے کا نا م ہے لیکن یہ بہت مختصر جواب ہے حقیقت یہ ہے کہ آجکل کی جدید دنیا میں میوزیم کو ایک مطا لعاتی مر کز کا نام دیا جاتا ہے ۔ میوزیم جس شہر یا جس علا قے میں ہے یہ اس شہر , علا قے کا تاریخی ورثہ اور اس خا ص علاقے کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ ہو تا ہے ۔
یاد رکھئیے آجکل کے ماڈرن دور میں سیا حت بہت زیا دہ فروغ پا رہا ہے سیا حت کے دلدادہ لو گ طلباء و طا لبات ریسرچ کیلئے جس علا قے کا رخ کرتے ہیں ان کے لئے یہ نا ممکن ہو تا ہے کہ وہ اس علا قے کے کونے کونے تک پہنچ سکیں ۔ ان کو ایک خا ص مر کز چاہیئے یا خا ص گائیڈ لائین چا ہئیے ہوتا ہے جہاں سے وہ اس علا قے کے متعلق ، تاریخی اہمیت ،قدرتی منا ظر وہاں کے رہن سہن، طور طریقے ، رسم و رواج وغیرہ کے متعلق آگا ہی حا صل کر سکیں ۔اس کے لئے سب سے اہم مقام میوزیم ہو تا ہے ۔ یہاں وہ تمام مواد مو جود ہو تا ہے جو کہ ایک مشا ہدہ اور تحقیق کرنے والے کے لئے دلچسپی کا با عث ہوتا ہے ۔ لہذا میوزیم کی اہمیت بہت زیا دہ ہے۔ چترال میوزیم کی حا لیہ خوش قسمتی یہ ہے کہ کا فی انتظار کے بعد اس میوزیم میں چترال کی اپنی ایک با صلا حیت بیٹی سید گل صا حبہ یکم جنوری 2018سے ایک انتظا می آفیسر کی حیثیت سے ذمہ داری سنھبال چکی ہے ۔سید گل صا حبہ کاتعلق ضلع چترال کی ایک حسین وادی بمبوریت سے ہے۔ اور وہ کیلاش قو میت سے تعلق رکھتی ہے ۔ چترال کی یہ قا بل فخر بیٹی نے انتہائی نا مساعد حا لات میں تعلیمی سفر جا ری رکھی ۔ حا لات کا زبر دست مقا بلہ کیا ۔ یو نیور سٹی سے فارغ ہو تے ہی محکمہ آر کیا لو جی میں ملا زمت اختیا ر کر لی ۔سید گل صا حبہ محکمے کا اہم اثاثہ اور ضلع چترال کا قیمتی سرمایہ ہیں ۔ اپنےادارے کے بھر پورتعاون سے انہیں امریکہ جانے کا موقع ملا ,جہاں انہوں نے مشہور تعلیمی ادارہ Smithsonian انسٹیٹیوٹ وا شنگٹن ڈی سی سے تر بیت حا صل کی ۔ اور اپنی صلاحیتوں کا بھر پور لو ہا منوایا ۔ سیدگل کو اقلیتی برادری اور دیگر لوگوں کی بلا امتیاز خدمات کے اعتراف میں سابق صدر اسلا می جمہوریہ پا کستان آصف علی زرداری سے” ہیومن رائٹس ڈیفنڈر “صدارتی ایوارڈ لینے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ ۔ اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی مشہور تنظیم National Geogrphic Foundation کی خصوصی ممبر ہے وہ اس حوالے سے نمائندگی کرتی ہوئی کئی بین الاقوامی سمینا ر میں حصہ لے چکی ہے اور اپنے وطن کی بھر پور نمائندگی کی ہے ۔ نیز 2013میں پہلی پاکستانی نیشنل جیوگرافک ایمرجنگ ایکسپلورر کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں ۔
چترال کی یہ قا بل فخر بیٹی چترال میوزیم میں ذمہ داری سنبھالتے ہی اس میوزیم کو تر قی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے ۔ انہوں نے سب سے پہلے شہر کے اندر ایک بڑا سائن بورڈ لگا کر اس کے وجو د کو نما یا ں کیا ۔ اس کے علا وہ ریڈیو پا کستان چترال ،مشہور عوامی چینل Hot FM97چترال میں مختلف پروگراموں میں حصہ لے کر میوزیم کی اہمیت کو بہت خوبصورت انداز میں اجا گر کیا ۔ اب دیکھا جا رہا ہے چترالی عوام میوزیم میں بھر پور دلچسپی لے رہے ہیں مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء و طا لبات میو زیم کی وزٹ کر تے ہوئے نظر آتے ہیں اور میوزیم میں مو جود نوادرات و عجائبات سے لطف اندوز ہورہے ہیں ۔
میوزیم کے سکنڈ فلور میں ایک روایتی کمرہ یعنی کہوار بائی پش ختان بن رہا ہے اس کو مکمل روا یتی انداز میں بنا یا جارہا ہے اس میں تما م روایتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا جو کہ بائی پش ختان کی وجہ شہرت اور حسن ہوا کرتا ہے۔ بائی پش کے ساتھ ایک ریسٹوران ہو گا جسمیں چترالی روایتی کھانوں, مثلاً چھیرہ شاپک ، سنا با چی ، غل مندی ، لا ژیک ،جوش ، چترالی حلوہ شوشپ ، شینک ، ژولائی برٹ ، چائے ٹکی ،موشٹکی وغیرہ کا خصو صی انتظام ہو گا۔ جو کہ آڈر کے مطا بق تیار کیئے جا ئیں گے ۔شہریوں اور سیاحوں کیلئے روایتی کھانوں کا بندو بست ہو نا اچھی خبر ہے کیونکہ یہ خو راک نا پید ہو تے جا رہے ہیں ۔
میوزیم کی خاتون آفیسر تمام چترالی بہن بھائیوں سے اپیل کرتی ہے ،کہ وہ ضرور میوزیم کی وزٹ کریں۔اپنے اچھے خیالات اورتجاویز سے نوازیں۔ خاص کر جن بھائی بہنوں کے پاس یا گھر میں ایسی کوئی مواد ہو جو کہ ان کے خیال میں نایاب اور قدیم ادوار سے تعلق رکھتا ہو۔ ہم سے ضرور رابطہ کریں ہم نایاب چیز کو ضرور میوزیم کی زینت بنائیں گے ۔
میوزیم تمام لوگوں کیلئے کھلا ہے۔فیملی والے اور تعلیمی اداروں کے طلباء و طا لبات ہمیں پیشگی اطلاع دےکرتشریف لاسکتے ہیں ۔ چونکہ یہ تا ریخی ورثہ سب کا ہے ہم سب ملکر اس میوزیم کو ایک ماڈل میوزیم بنا سکتے ہیں اور اپنے Rich ثقافت کو دنیا کے سامنے انتہائی سلیقے سے رکھ سکتے ہیں ۔ لو گ ویسے بھی ہماری ثقافت کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ محکمہ آرکیا لو جی کی تحقیق کے مطا بق چترالی ثقا فت گندھارا گریوکلچر سے ملتا ہے اس کی تاریخ گندھا را آرٹ کلچر سے بہت پرا نی ہے اس لئے یہ زیا دہ دیکھنے کے قا بل ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

إغلاق