تازہ ترینڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد….قانون کااطلاق

…..ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی…..

Advertisements

سپریم کورٹ کے جسٹس امین نے کراچی کے شہری کی طرف سے دائر کی گئی درخواست برائے ضما نت قبل از گرفتاری (BBA) مسترد کرتے ہوئے تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ بی بی اے کی گنجا ئش قانون میں مو جود ہے مگر اس کا اطلا ق ہر درخواست گذار پر نہیں ہو تا یہ استثنائی صو رتوں میں بے گنا ہ شہر یوں کو گرفتار ی سے بچا نے کے لئے گنجا ئش نکا لنے والا قانون ہے یہ ہر ملزم کا استحقاق نہیں عدا لت اور کُر سی نشین کی صوابدید ہے درخواست گذار بلدیا تی ادارے کا ملا زم ہے اور اس پر الزام ہے کہ اس نے خا تون کی مو ت کا جعلی سر ٹیفیکیٹ بنا کر اس کی جائیداد پر قبضہ کر نے کی کو شش کی سپر یم کورٹ کے جج کا تازہ ترین فیصلہ ایک مثا ل ہے ورنہ ایسے بے شمار مقدمات میں ملزموں نے بی بی اے کے ذریعے مقدمے کا رُخ موڑ دیا ہے اسی طرح کا ایک قانون حکم امتنا عی بھی، ایک اور قانون حا لت موجو دہ کو منجمد کرنا ہے جس کو عرف عام میں سٹیٹس کو کہا جا تا ہے ان تینوں قوانین کا اخلا قی پہلو بہت پیچیدہ ہے کسی کو رعایت دینی ہے کسی کو رعایت نہیں دینی! یہ بات عدالت یا کر سی نشین کی صوابدید پر رکھی گئی ہے اور عمو ماً طاقتورمختلف حر بے استعمال کر کے رعایت حا صل کر تا ہے کمزور اس رعا یت سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا مر حوم ولی الرحمن ایڈو کیٹ کہا کرتے تھے کہ قانون ایک ہری ٹہنی کی طرح ہوتا ہے قانون بنانے والوں نے ریا ست کے شہر یوں کو فائدہ دینے اور سہو لت بہم پہنچا نے کے لئے قانون بنا یا ہوا ہے اس ہری ٹہنی کو جد ھر موڑ نے سے سہو لت مل سکتی ہے اُس رُخ پر مو ڑ نا درست قانون دانی ہو گی اس کے مقابلے میں ہمارے بزرگ غلام جیلا نی آصف کا قول ہے کہ قانون کے سامنے لو گ بے چہرہ ہوتے ہیں قانون کسی کے چہرے یا کسی کے نام یا کسی کی شنا خت کو نہیں دیکھتا ہمارے خیال میں ولی الرحمن کا قول زمینی حقا ئق پر مبنی ہے غلا م جیلا نی آصف کا قول کتا بی مطا لعے کا نچوڑ ہے دو نوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے عملی زندگی میں غریب، ناچار اور پاماندہ شہری کو جب پو لیس، نیب یا حکومت قبل از گرفتاری نہیں کرا سکتا دولت مند، امیر اور سرمایہ دار چھٹی کے اوقات میں رات گیا رہ بجے بھی اپنی ضما نت قبل از گرفتاری کا انتظام کر لیتا ہے اور اگلی پیشی سے پہلے مقدمے کا ریکارڈ تلف کر کے پکی ضما نت کر الیتا ہے اس کا بال بیکا نہیں ہو تا یہ استثناء اور صوابدیدایک دو دھاری تلوار ہے جس کی ایک دھا ر مقدمے کو بر باد کر دیتی ہے دوسری دھا ر دیکھتی رہ جا تی ہے یہی حال حکم امتنا عی اور سٹیٹس کو والے قوانین کا ہے دونوں قوانین بے حد نیک نیتی سے شہر یوں کو سہو لت دینے کے لئے بنا ئے گئے ہو نگے لیکن زمینی حقا ئق یہ ہیں کہ ان قوانین کا سہارا لیکر شہریوں کا جینا دو بھر کیا جا تا ہے ایک بڑھیا نے اپنی کہا نی سنا ئی کہ ان کا شو ہر مر گیا اکلوتی بیٹی اپنے گھر کی ہو گئی گاوں کے دولت مند آدمی نے ان کے گھر اور جائداد پر قبضہ کر کے عدالت سے سٹیٹس کو لے لیا 35سالوں سے بیٹی اور داماد کے گھر میں رہتی ہوں مقدمہ سپریم کورٹ تک جا کر ریمانڈ ہو کے واپس سول جج کی عدالت میں آتا ہے 35سالوں سے میرا گھر اور میرے شوہر کی پوری جائداد میرے مخا لف کے قبضے میں ہے ایک محکمے میں 43پوسٹوں کے لئے ٹیسٹ اور انٹر ویوں کے بعد کا میاب اُمیدواروں کا اعلان ہوا نا کام ہونے والوں نے چندہ اکھٹا کر کے مقدمے دائر کیا اور ایک پیشہ ور مقدمہ باز کو مختار نا مہ دیدیا مقدمہ باز نے عدالت سے حکم امتنا عی حا صل کیا 5سال بعد فیصلہ آیا تو 43کامیاب اُمید واروں میں سے 35اُمید وار وں کی عمر اشتہار میں دی گئی با لائی حد کو عبور کر چکی تھی انہوں نے رعایت کے لئے عدالت سے رجوع کرکے پھر حکم امتنا عی لے لیا اب اس واقعے کو 8سال گذرچکے ہیں 43اُمیدوار سب اور ایج (Over age) ہو چکے ہیں محکمے کی طرف عدالت میں نیا عذر لا یا گیا ہے کہ محکمانہ امور متا ثر ہونے کا خد شہ ہے اس لئے 8سال پرانے اشتہار کو منسوخ کر کے نیا اشتہار دے رہے ہیں مجاز حا کم نے اس کی منظور ی دی ہے لہذا استد عا ہے کہ مقدمے کو خارج کیا جائے اندازہ یہ ہے کہ اگلی دو یا تین پیشیوں کے بعد سال ڈیڑھ سال کے اندر مقدمہ خارج ہو جائے گا یعنی کھا یا پیا کچھ نہیں گلا س توڑا 20روپے والی آواز ہے اور یہ حکم امتنا عی کے غلط استعمال کا شاخسانہ ہے سپریم کورٹ کے جسٹس امین نے ضما نت قبل از گرفتاری کی درخواست نمٹا تے ہوئے بڑے پتے کی بات لکھی ہے کہ بی بی اے کی گنجا ئش قانون میں مو جود ہے مگر قانون کا اطلاق ہر درخواست گذار پر نہیں ہوسکتا اسی طرح اگر عدالت ایک بار نظیر قائم کر ے کہ حکم امتنا عی اور سٹیٹس کو بھی ہر درخواست گذار کو نہیں مل سکتا، تو عدا لتوں میں خوار ہونے والے نصف سے زیا دہ لو گوں کو انصاف ہوتا نظر آئے گا اور انصاف کی جا مع تعریف بھی یہ ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى