تازہ ترینسید اولاد الدین شاہ

سیاست دانوں کا سیاسی منجن، اساتذہ کا ترقی میں کردار……

کتنی افسوس کی بات ہے۔ این جی اوز کا پیسہ حرام ہے، گورنمنٹ سے فنڈ نہیں لے سکتے۔ پھر محترم پروفیسر جس کا کام علم کی روشنی پھیلانا ہے عوام کو لیکر روڈوں کی مرمت کرنے نکل پڑے۔ اگر آپ لوگوں سے کچھ ہوتا نہیں پروفیسر صاحب کو ہی معزز اُستاد کے ساتھ ساتھ عوامی لیڈر بھی تسلیم کرکے اسمبلیوں سے استعفیٰ دے کر کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔
مسلم لیگ نون والے یہ دعوی کرتے ہیں کہ بونی مستوج روڈ کے لئے فنڈز منظور ہوئے تھے اور پی ٹی آئی والے کہتے ہیں فنڈز منظور ہوئے ہیں۔ اگر دونوں کا دعوی صحیح ہے۔ پھر ہمارے روڈ کھنڈر کیوں ہے؟
پھر پروفیسر صاحب کی آواز میں لبیک کہہ کر اپنے کدال اور بیلچے لے کر روڈوں کی مرمت کرنے والے لوگ افعانستان کے کسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ سیاسی لوگ اپنے اپنے سیاسی دُکان چمکانے کے چکر میں عوام کو دعووں کا لالی پوپ کیوں دے رہے ہیں۔ اگر آپ سے کچھ ہوتا نہیں عوام کو مفلوج تو نہ کرو۔ سُنا ہے مستوج ہسپتال کو کچھ حلقوں کی انتھک کوششوں اور چمچوں کے پے در پے درخواستوں کے نتیجے میں حکومت نے اپنے تحویل میں لے لیا ہے۔ مستوج، لاسپور اور یارخون کے عوام کو نوے روپے کی بچت مبارک ہو۔ ویسا مریضوں کو لیکر بونی پہنچنا کونسا مشکل ہے۔ مستوج سے تین یا چار ہزار کا گاڑی بُک کرو بونی پہنچ جاؤ۔ وہاں کی زلالت بونس میں۔
مستوج میں پروفیسر اسماعیل ولی جیسے لوگ موجود ہیں۔ جو اس کھنڈر روڈ کو بھی قابل استعمال بنائینگے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ سردیوں کے موسم میں جب پروفیسر صاحب چھٹیاں منانے گھر آتے تھے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول مستوج میں نویں اور دسویں جماعت کو انگریزی کے بنیادی چیزیں tenses پڑھایا کرتے تھے۔ تاکہ کالج لیول پہ مسائل کا سامنا نہ ہو۔ پہلے بچوں کے تعلیمی معیار اور اب علاقے کا بنیادی ڈھانچہ ٹھیک کرنے نکل پڑے۔
ویسے ایک بات سمجھ میں آتا ہے۔ سیاسی رہنما تو ایسے ہی نکلے۔ اساتذہ کو ہی بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا۔ کم از کم باتیں تو اچھی اور قابل عمل کرینگے۔ اور دیکھا جائے ہزاروں تو اُن کے شاگرد ہی ہیں جو اپنے معزز اساتذہ کی باتین سنتے بھی ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں۔ یہ میرے خیالات ہیں آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں
………………

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى