تازہ ترینمحمد شریف شکیب

بڑھاپے کا سہارا….محمد شریف شکیب

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے۔جب اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوتا ہے تو بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار بھی اس کی پرورش میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر وہ اپنے ماضی کو دانستہ طور پر بھول جاتا ہے،اپنا زور بازو آزماتا ہے۔جوانی بیس، پچیس یا تیس سال کی ہوتی ہے اس کے بعد قویٰ مضمحل ہونے لگتے ہیں تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے بیماریاں سر اٹھانے لگتی ہیں کسی کو بلند فشار خون کی شکایت ہوتی ہے کسی کو شوگر کا عارضہ لاحق ہوتا ہے کوئی عارضہ قلب میں مبتلا ہوتا ہے کسی کا سرچکرانے لگتا ہے کسی کی یادداشت ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ساٹھ سال کی عمر کے بعد انسان کی عادتیں بھی بچوں والی ہوتی ہیں اور بچپن کی طرح اور ایک بار پھر دوسروں کا محتاج بن جاتا ہے۔ترقیافتہ ممالک میں بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال اور پرورش حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے تاہم ترقی پذیر اور غریب ممالک میں لوگ ایام جوانی میں ہی اپنے بڑھاپے کا سہارا تلاش کرنے لگتے ہیں ہمارے ہاں سرکاری محکموں کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر گریجویٹی، پراویڈنٹ فنڈ اور دیگر مدوں میں لاکھوں اور افسروں کو کروڑوں روپے ملتے ہیں جبکہ ان کو تاحیات اتنی پنشن بھی ملتی ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کی زندگی سکون سے گذارسکتے ہیں تاہم وفاقی، صوبائی محکموں اور فوج، پیراملٹری فورسزاور پولیس سمیت دیگر اداروں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی تعداد مجموعی آبادی کا دس فیصد بھی نہیں ہوتی۔بائیس کروڑ کی آبادی میں سرکار سے مراعات لینے والے ملازمین کی تعداد پندرہ بیس لاکھ سے زیادہ نہیں ہوگی،جبکہ فیکٹریوں، شاپنگ مالز،بینکوں، تجارتی و کاروباری اداروں، پرائیویٹ تعلیمی اور صحت کے اداروں اور میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے لاکھوں ملازمین کے بڑھاپے کا واحد سہارا ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ سے ملنے والی پنشن ہوتی ہے۔ کئی سالوں تک ای او بی آئی کے پنشنرز کو ماہانہ پانچ ہزار دو سو روپے پنشن ملتی رہی۔موجودہ حکومت نے ای او بی آئی پنشن کی رقم بڑھا کر پہلے ساڑھے چھ ہزار کردی تھی، یکم جنوری 2020سے ساڑھے آٹھ ہزار کردی گئی ہے حکومت نے آئندہ تین سالوں کے اندر ای او بی آئی پنشن کی رقم مرحلہ وار بڑھا کر پندرہ ہزار روپے ماہانہ کرنے کا اعلان کیا ہے جو بڑھاپے کا سہارا تلاش کرنے والوں کے لئے ایک بڑاریلیف ہے۔ٹھاکرمیرا ضلع مانسہرہ سے محمد ایوب نے ای او بی آئی پنشن کے حوالے سے چند تجاویز دی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ای او بی آئی پنشن کا حقدار پرائیویٹ اداروں کے صرف وہی ملازمین ہوتے ہیں جن کی تنخواہوں سے پندرہ سال تک ای او بی آئی فنڈ کی مد میں کٹوتی ہوتی رہی ہو۔جن لوگوں نے تیس چالیس سالوں تک ای او بی آئی فنڈ میں رقم جمع کرائی ہو۔ان کو بھی اتنی ہی پنشن ملتی ہے جتنی پندرہ سال تک رقم جمع کرانے والوں کو ملتی ہے۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جن پرائیویٹ ملازمین کی تنخواہوں سے پچیس سے چالیس سال تک کٹوتی ہوتی رہی۔ ان کی پنشن کی شرح بڑھائی جائے یا انہیں ریٹائرمنٹ پر گریجویٹی، پراویڈنٹ فنڈ یا کسی اور مد میں اتنی رقم دی جائے کہ وہ چھوٹا موٹا کام شروع کرکے اپنے لئے روزگار کابندوبست کرسکیں۔ایک تجویز یہ بھی ہے کہ جن ملازمین کی تنخواہوں سے دس بارہ،یا تیرہ چودہ سالوں تک کٹوتی ہوتی رہی۔اور انہوں نے پندرہ سال کی معیاد پوری نہ کی ہو۔ ان کے بقایا دو چار سالوں کا فنڈ متعلقہ ادارہ یا حکومت بھرے تاکہ وہ ای او بی آئی پنشن کا حقدار بن سکیں۔نجی اداروں کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ملازمین کی ای او بی آئی میں رجسٹریشن اس حساب سے کریں کہ جب ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کی جمع کی گئی رقم پندرہ سالوں کے مساوی ہو۔حکومت نجی اداروں کے لاکھوں ملازمین کے بڑھاپے کی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر پندرہ سال کی شرط کو کم کرکے بارہ سال بھی کرسکتی ہے جس سے لاکھوں غریب ملازمین کو فائدہ ہوگا۔ یہ ملازمین اپنے پورے خاندان کے کفیل ہوتے ہیں اور پانچ افراد پر مشتمل ایک خاندان کا بھی حساب لگایا جائے تو پنشن سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد چار پانچ کروڑ بنتی ہے۔مہنگائی کے اس دور میں آٹھ دس ہزار روپے سے چار پانچ افراد پر مشتمل خاندان کا گذارہ تو ممکن نہیں تاہم یہ ایک مستقل سہارا ہے۔حکومت کو وسیع ترقومی مفاد میں ان تجاویز پر ضرور غور کرنی چاہئے۔

Advertisements

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى