
وزیراعلیٰ محمود خان کا سیلاب زدہ علاقہ ریشن اورگولین کا دورہ،متاثرین میں امدادی چیک تقسیم
چترال (محکم الدین) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ آفات نے چترال اور سوات کو گھیر لیا ہے۔ اور بڑے پیمانے پر انسانی جانیں اوراملاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ہماری پوری ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔
انشا اللہ ان کی بحالی کیلئے مکمل اقدامات کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز چترال کے ایک روزہ دورے کے موقع پر ریشن میں متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ چیف سیکرٹری اور کمشنر ملاکنڈ سیدظہیرالاسلام موجود تھے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ میں نے کئی مرتبہ اچھے دنوں میں چترال کا دورہ کیاہے۔مگر آج سیلاب کے موقع پر آپ کی خیریت دریافت کرنے آپ کے پاس آیا ہوں۔ اور تمام متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت آپ کی ہے اور اس حکومت نے آپ کو اپرچترال ضلع کا تحفہ دیا ہے۔ یہ نوزائیدہ ضلع ہے۔ لیکن ہم اس کو ایک تناور اور مضبوط ضلع بنانے میں آپ کی مدد کریں گے۔ اور وسائل مہیا کریں گے انہوں نے کہا کہ ریشن پل کے بہہ جانے کے حوالے سے معاون خصوصی وزیرزادہ اور کمشنر ملاکنڈ نے مجھے فون پر بتایا تھا۔ پل سیلاب میں بہہ جانے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ جس کا مجھے ادراک ہے۔
اس لئے ہم نے پل کی بحالی کیلئے ا نتظامات کر دیے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہاکہ سیلاب کے اسسمنٹ جاری ہیں۔ جوں ہی اسسمنٹ مکمل ہوں گے۔ پیکیج کا اعلان کیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے اس موقع پر متعلقہ اداروں کو حکم دیا کہ سیلاب متاثرین کو مسائل سے نکالنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر یں۔قبل ازین جب وزیر اعلی بذریعہ ہیلی کاپٹر ریشن پہنچے۔ تو ایم این اے مولانا عبد الاکبر، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن، ڈپٹی کمشنر اپر چترال شاہ سعود ڈی پی او اپر چترال نے ان کا استقبال کیا۔ سعود قبل ازیں ڈپٹی کمشنر شاہ اپر چترال نے
وزیراعلیٰ کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور بحالی کے پلان پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ ضرورت کے نان فوڈ آئیٹم اور راشن متاثرین میں پہلے سے تقسیم کئے جاچکے ہیں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے بھی پلان تیار ہے جس پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائیگا۔ چترال۔ بونی۔ مستوج روڈ کو فیڈرالائز ڈ کیا گیا ہے تاہم اسکی باقاعدہ ہینڈنگ ٹیکنگ اوور ابھی ہونی ہے۔ضلع اپر چترال کے دس نالوں میں سیلاب آیا ہے جن میں ریشون، زئیت نالہ، کوراغ نالہ،بونی نالہ، نصر گول، بریپ، مہتنگ، یارخون اور لشٹ نالہ شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ کو اس موقع پر تباہ شدہ سڑکوں، پلوں، واٹر سپلائی سکیموں، دریاکے کنارے حفاظتی پشتوں، ایریگیشن چینل، پروٹیکشن وال وغیرہ کی بحالی کیلئے پلان اور تخمینہ لاگت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال کی طرف سے وزیر اعلی، چیف سیکرٹری اور کمشنر ملاکنڈ کو چوغہ اور ٹوپی پہنائے گئے۔ وزیر اعلی نے سیلاب متاثرین میں ایک ایک لاکھ روپے کے چیک تقسیم کئے۔
وزیر اعلی نے بعد آزان سیلاب سے متاثرہ گولین وادی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر
معاون خصوصی وزیر اعلی وزیر زادہ،ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نوید احمد، ڈی پی او عبدالحئی اور صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نیازاے نیازی ایڈوکیٹ نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر
صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ اور
نائب صدر ساجد اللہ نے وزیر اعلی کو چوغہ اور ٹوپی پہنایا۔ اور چترال کی مجمو عی صورت حال پر روشنی ڈالی۔ ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے
سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے وزیر اعلی کو بریفنگ دی۔ وزیر اعلی نے چھ متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کئے۔ واپڈا کی طرف سے بھی نقصانات کی تفصیلات بارش شروع ہونے کی
وجہ سے نہ دی جا سکیں۔ تاہم وزیر اعلی نے ایک صحافی کی درخواست پر گولین میں موبائل ٹاور کی تنصیب اور سکول کی تعمیر کا وعدہ کیا۔
وزیر اعلی نے موسم کی خرابی کی وجہ سے دورہ مختصر کرکے واپس روانہ ہو گئے۔
