تازہ ترینمضامین

زمبابوے کا سپر ہیومن…محمد شریف شکیب

سات سمندر پارزمبابوے سے خبر آئی ہے کہ وہاں کے ایک ریٹائرڈ فوجی نے 16شادیاں کی ہیں جن سے اب تک ان کے 151 بچے پیدا ہوئے ہیں تمام مائیں اور بچے ایک ہی گھر میں ہنسی خوشی رہتے ہیں۔66 سالہ ریٹائرڈ فوجی سہیک نیندورو کی خواہش ہے کہ وہ 100شادیاں کرے اور اس کے 1000بچے ہوں۔کہتے ہیں کہ انسان کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں مگر خواہشات کی تکمیل کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ ایک خواہش کی تکمیل پر دل میں کئی نئی خواہشیں انگڑائی لیتی ہیں۔ شاعر نے انسان کی اسی جبلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہزاروں خواہشیں ایسی، کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ بہت نکلے میرے ارمان، مگر پھر بھی کم نکلے“ڈیڑھ سو سے زائد بچوں کے باپ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کوئی نوکری نہیں کرتے نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ان کی کل وقتی ملازمت اپنی 16 بیویوں کا خیال رکھنا ہے۔ ان کے اپنے بچے اور بیویوں کے بچے انہیں تحفے تحائف اور گھر کا خرچہ دیتے رہتے ہیں۔ مسہیک نے اپنا ازدواجی منصوبہ 1983میں شروع کیا تھا اور جب تک سانسوں کی ڈور چلتی ہے تب تک منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ فولادی جگر کے حامل ریٹائرڈ فوجی کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے متعدد ازواجی تجربات پر فخر ہے وہ اپنی ہر بیوی کے ساتھ اس کی عمر کے مطابق برتاؤ کرتے ہیں چھوٹی عمر کی بیویوں سے ویسا برتاؤ نہیں کرتے جیسا بڑی عمر کی بیویوں کے ساتھ رکھتے ہیں۔ ان کی ہر بیوی روزانہ ان کے لیے کھانا پکاتی ہے لیکن وہ صرف وہی کھانا کھاتے ہیں جو مزیدار ہو۔شادی پر اپنی تمام بیویوں سے وعدہ لیا تھا کہ وہ جب بھی ان کا کھانا واپس کریں گے تو وہ ناراض نہیں ہوں گی۔ زمبابوے کوئی ترقی یافتہ ملک نہیں ہے۔ ہمارے زیادہ ترلوگ زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے اس ملک سے متعارف ہیں۔ اور ان کی کرکٹ ٹیم سے وہاں کے لوگوں کے معیاری زندگی کا بھی بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ وہاں غربت کی شرح پاکستان سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود ڈیڑھ درجن کے قریب بیویاں اور ڈیڑھ سو سے زائد بچے پالنا دل گردے کا کام ہے۔ موصوف کا جنون ابھی تکمیل کو نہیں پہنچا۔ وہ سترھویں بیوی کی تلاش میں ہے اور بچوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہمارے ہاں ایک شادی کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ہمارے بہت سے جاننے والے ایسے ہیں جو سر پر سہرا سجنے کی آس لئے برسوں سے بیٹھے ہیں بالوں میں چاندی بھی نمایاں ہونے لگی ہے مگر مراد بر آتی نظر نہیں آتی۔جبکہ کچھ لوگ دو دو شادیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کو سپرہیومن سمجھا جاتا ہے اور جو تین اور چار بیویاں رکھتے ہیں وہ مافوق الففرت مخلوق میں شمار ہوتے ہیں۔ بے شک ہمارے مذہب نے زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی اجازت دی ہے مگر یہ اجازت دعوت عام نہیں بلکہ مشروط ہے۔ جو شخص تمام بیویوں کے حقوق نبھاسکتا ہو۔ان کی ضروریات پوری کرسکتا ہو اور ان کے درمیان معاملات میں انصاف کرسکتا ہو۔ صرف اسی کو تین یا چار شادیوں کی اجازت ہے۔کچھ لوگ اولاد نہ ہونے یا اولاد نرینہ کی خواہش میں ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں۔ اولادکو صرف زندہ رکھنا ہی کافی نہیں ہوتا۔ان کی اچھی تربیت، کردار سازی، تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات کا خیال رکھنا بھی والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر کسی کے دستیاب وسائل اس کی اجازت نہیں دیتے تو پھرسرپرسہرا سجانے کا شوق پورا کرنے اور زیادہ بچے پیدا کرنے کی ریس جیتے کے لئے مہم جوئی کی معاشرہ، دین، قانون اور اخلاقیات قطعی اجازت نہیں دیتے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔