تازہ ترینمضامین

آڈٹ رپورٹ…محمد شریف شکیب

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال2019-20 کی آڈٹ رپورٹ میں مختلف وفاقی وزارتوں،ڈویژنوں اور سرکاری کارپوریشنوں میں 550 ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں،اختیارات کے ناجائز استعمال،اضافی ادائیگیوں اور بے ضابطگیوں کو بے نقاب کیا گیاہے۔رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں،اداروں اور محکموں میں 404 ارب 62 کروڑ روپے مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جن میں وفاقی حکومت کے سول اخراجات میں 268 ارب 87 کروڑ روپے، پبلک سیکٹر انٹرپرائزز میں 135 ارب 75 کروڑ روپے،وزارت خزانہ کے مالی حسابات میں 136 ارب 82 کروڑ روپے، وزارت بین الصوبائی رابطہ کے حسابات میں 21 ارب 20 کروڑ روپے، وزارت اطلاعات میں 21 ارب 9 کروڑ روپے، وزارت بحری امور میں 31 ارب 38 کروڑ روپے،وزارت داخلہ میں 7 ارب 53 کروڑ روپے، نجکاری ڈویژن میں 3 ارب 47 کروڑ روپے، وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی میں تین ارب 34 کروڑ روپے جبکہ وزارت تعلیم کے حسابات میں 8 ارب 60 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 23 ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 23 ارب روپے سے زائد کی رقم سرکاری ملازمین، پینشنرز اور ان کے اہل خانہ کو غیر قانونی طور پرادا کیے گئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے اپنے ملازمین سے صرف 9لاکھ روپے برآمد کیے۔گریڈ ایک سے 20تک کے 55ہزار 383سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مالی امدادکی ادائیگی ہوئی اور 2019میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو 6ارب روپے سے زائد کی رقم ادا کی گئی۔فروری 2020میں وفاقی کابینہ نے پروگرام سے استفادہ کرنے والے ایک لاکھ 40ہزار 488سرکاری ملازمین کو بلاک کیاتھاجن میں بی آئی ایس پی کے215 اپنے ملازمین بھی شامل تھے۔2010 سے 2020کے دوران سرکاری ملازمین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 16 ارب سے زائد کی رقم ادا کی گئی تاہم ان سرکاری ملازمین سے تاحال کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔محکمہ پولیس، سی این ڈبلیو، پاک پی ڈبلیو ڈی اور واپڈا میں رشوت خوری اور کرپشن کی باتیں زبان زد عام ہیں۔لیکن آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹ میں مالی بے قاعدگیوں کی جو داستان سامنے آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے تمام سرکاری ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں اور سرکاری اداروں کو کرپشن سے پاک کرنے کا پی ٹی آئی حکومت کا نعرہ پانی کا بلبلہ ثابت ہوا ہے۔ زکواۃ، خیرات اور صدقات کی رقم جمع کرکے نادار، بے سہارا اور غریب خواتین کومالی مدد دی جاتی ہے۔ اس رقم سے گریڈ سترہ سے بائیس تک کے افسران اورسیاست دانوں کی بیگمات کا مالی امداد لینا غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے لاکھوں کی تنخواہیں اور مراعات لینے والے خود کو بیوہ، نادار اور غریب ظاہر کرکے تین چار ہزار روپے بھی ہتھیانے سے دریغ نہیں کرتے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ من حیث القوم ہم بے حس ہوچکے ہیں ہمارا ضمیر مرچکا ہے۔ اس لئے حرام اور حلال کی تمیز ختم ہوگئی ہے۔حیرت کی بات ہے کہ ہم کسی سٹور میں جاکر کھانے پینے کی پیک اشیاء خریدتے وقت بڑے غور سے اس کے اجزاء معلوم کرتے ہیں کہ کہیں اس میں کوئی حرام چیز تو شامل نہیں۔ مگر جس رقم سے وہ حلال اشیاء خریدتے ہیں اس کے بارے میں کبھی غور نہیں کرتے کہ وہ حلال کی کمائی ہے یا کسی کا حق مار کر ہم نے اپنی جیب بھری ہے۔ صرف خنزیر، گدھے، کتے یا کوے کا گوشت ہی حرام نہیں ہوتا۔ فرائض ادا کئے بغیر پورامعاوضہ وصول کرنا بھی حرام ہے۔دھوکہ دہی، فراڈ، بے ایمانی اور دھونس دھمکی کے ذریعے کسی کی زمین اور رقم ہتھیانا بھی حرام ہے۔ قومی وسائل کا بے دریغ اور ناجائز استعمال بھی حرام ہے۔ بجلی اور گیس چوری کرنا بھی حرام ہے۔ حقدار سے چھپا کر اس کا حق مارنا بھی گدھے اور کتے کے گوشت کی طرح حرام ہے۔ ہماری ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ حرام خوری کو ہم اپنی چالاکی، عقل مندی اور ہوشیاری گردانتے ہیں ہم جو نوالہ اپنے بچوں کو کھلاتے ہیں اس میں حرام کا ایک لقمہ بھی شامل ہو۔ تو اولاد بھی حرام پر پلتی ہے ایسی اولاد سے والدین اور قوم کو بھلائی کی توقع کیسے ہوسکتی ہے۔قوم کو حرام خور بنانے میں ہمارے سیاست دانوں، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور والدین بھی برابر کے شریک ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔