شندور پولو فیسٹول کی التوا ء کو چترال کی سول سوسائٹی نے مسترد کردیا

چترال (چترال ایکسپریس ) 28جون سے شروع ہونے والی سہ روزہ شندور پولو فیسٹول کو خراب موسم کی بنا پر التوا ء کو چترال کی سول سوسائٹی نے مسترد کردیاہے۔ پولو ایسوسی ایشن، بزنس کمیونٹی، ٹورزم سیکٹر کے رہنمااور پولو کے شائقین نے اس فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخری اوقات میں اس میگاایونٹ کو خراب موسم کی بنا پر ملتوی کرنا سمجھ سے بالاتر ہے جس سے اس علاقے کو ناقابل تلافی نقصان لاحق ہوگا۔ ڈسٹرکٹ پولو ایسوسی ایشن چترال کے جنرل سیکرٹری معیز الدین بہرام ایڈوکیٹ نے کہاکہ چترال کے چاروں ٹیموں کے کھلاڑی گھوڑوں سمیت شندور پہنچ چکے تھے اور ان کے لئے فیسٹول کی التواء کی خبر قیامت سے کم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ پولو ٹیموں کی کھلاڑیوں کو الاؤنس کی ادائیگی بھی نہیں ہوئی تھی جبکہ اس سے قبل کھلاڑیوں کوا لاؤنس کا نصف حصہ شندور روانگی کے وقت ادا کیا جاتا تھا لیکن اس بار کوئی پیمنٹ نہیں ہوئی۔

تجاریونین کے جنرل سیکرٹری حافظ سراج نے کہاکہ شندور فیسٹول کو یکایک غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے سے تاجر برادری کو کروڑوں روپے کا نقصان لاحق ہوا ہے جوکہ لاکھوں روپے خرچ کرکے اپنے سازوسامان کے ساتھ شندور پہنچ چکے تھے۔ پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیاکہ شندور پہنچنے والے کاروباری حضرات کو معاوضہ دیا جائے تاکہ فیسٹول کی التوا کی وجہ سے ان کے نقصانات کا ازالہ ہوسکے۔
ٹورزم ایسوسی ایشن کے صدر کپٹن (ر) شہزادہ سراج الملک نے کہاکہ جس وجہ سے اس ایونٹ کو ملتوی کیا گیا ہے، وہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس فیصلے سے ٹورزم سیکٹر سے وابستہ افراد کو بہت ذیادہ نقصان لاحق ہوگا جوکہ اپنی سرگرمیوں ہزاروں لاکھوں روپے پہلے ہی لگاچکے تھے اور فیسٹول کے التواء کے نتیجے میں یہ انوسٹمنٹ ڈوب گئے جبکہ کئی بیرونی ٹور گروپ بھی اس ایونٹ کے لئے یہاں پہنچنے والے تھے۔
شندور فیسٹول میں گزشتہ دو دہائیوں سے ہر بار شرکت کرنے والے فرید احمد رضا کا کہنا تھاکہ کسی علاقے میں میگا ایونٹ کا ملتوی یا منسوخ ہونا بدقسمتی کی بات ہوتی ہے اور شندور فیسٹول کا شیڈول کے مطابق منعقد نہ ہونا اور بھی افسوسناک بات ہے جس سے ہر دل افسردہ ہے۔ پولو کا ابھرتا ہوا کھلاڑی شیخ فاروق اقبال نے مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اس فیسٹول کے انعقاد کو مقامی لوگوں کو سونپ دیاجانا چاہئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔