
علم وادب کامعمار،کتاب اور قلم کا امین ، کالم نگار استاد محمد جاوید حیات کی ریٹائرمنٹ
وہ استاذعلم وآدب کا ھے فخرمحفل۔۔کمال بخش دیا اس نے حرف و فسانے کو
مولانا ابو الکلام ازاد کا کہنا ہے کہ” زندگی بغیر مقصد کے بسر نہیں کی جاسکتی کوئی اٹکاو، کوئی لگاؤ اور کوئی بندھن ہونا
چاہیے جس کی خاطر زندگی کے دن کاٹے جاسکیں ”
جاوید صاحب کی حیات واقعی حیات جاویداں ھے۔ زندگی کے جس بندھن کا انتخاب کیا وہ ھے حصول علم اور علم و ادب کی ترویج۔یہ محض استاد ہی نہیں ایک ہمہ جہت شخصیت جو اپنے علم ، شاعری اور قلم کے ذریعے نسلوں کے فکر و افکار کو روشن کیا۔وہ استاد جس نے خود کو درس و تدریس تک محدود نہیں رکھا کلاس روم کی چار دیواری سے باہر نکل کر کتابوں ،کالموں اور شاعری کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔کمرہ جماعت میں ایک باوقار استاد، کتابوں میں محقق ، اشعار کے بندوں میں ایک بلند خیال شاعر،اور اخبارات و جرائد میں ایک کالم نگار،جاوید صاحب کی خودی، خودداری اور سنجیدگی قابل تقلید ھے۔
کتاب سے نکل کر جو دل میں اتر گیا
وہ درس کا انداز جو کردار میں ڈھل گیا
پیدائش و ابتدائی تعلیم و تربیت : محمد جاوید حیات ستمبر 1965 کو تورکھو کے خوبصورت گاؤں اجنو میں استاد الاساتذہ محمد امیر شاہ مرحوم کے ہاں دامن دنیاپرقدم رکھا۔ ابتدائی دینی تعلیم اپنے دولت کدے ہی سے والد گرامی کے زیر نگرانی حاصل کی. پرائمری تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول اجنو سے ،مڈل تک ہائی سکول شاگرام، جبکہ میٹرک 1982 میں ہائی سکول کھوت سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا، گورنمنٹ کالج چترال سے گریجویشن پشاور یونیورسٹی سے بی ایڈ اور اردو ادب میں ماسٹر کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام اباد سے ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کی، اپ کے مرحوم قبلہ گاہ محمد امیرشاہ چترال کے اولین اساتذہ کرام میں شامل ہیں۔ وہ چترال اور چترال سے باہر پشاور میں بھی درس و تدریس کے فرائض عین اس وقت میں انجام دیے جب چترال کے تعلیم یافتہ افراد کو انگلیوں میں گنا جاسکتا تھا۔ جاوید صاحب کے علاوہ استاد مرحوم کے دو اور قابل فخر فرزندان بھی ہیں فخر چترال محمد خالد خان سابق ڈی پی او ہنگو اور موجودہ ایس ایس پی کوارڈینیشن پشاور اور دوسرا محمد شفیع کاروبار سے منسلک ہیں۔ مرحوم استاد محمد امیر شاہ نےاپنے فرزندوں کی تربیت انتہائی ذمہ داری سے کی وہ اپنے فرزندوں کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑے اس کے لیے کوئی بیرونی شہادت کی چنداں ضرورت نہیں ان کے فرزندوں کے کارہائے نمایاں خودان کی تربیت کے گواہ ہیں ۔
تدریسی سفر: محمد جاوید حیات نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک تدریسی خدمات انجام دی ہزاروں شاگرد ان سے علم حاصل کرکے مختلف اعلی عہدوں پر ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں وہ ایک منفرد استاد تھا جس کے پڑھانے کا انداز صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ کردار سازی اخلاقیات اور عملی زندگی کے رہنما اصولوں کی نشاندہی فرماکر سینکڑوں شاگردوں کی زندگیاں سنواریں۔
نہ صرف پڑھایا الفاظ کے ہجوں کو اپ نے
بلکہ جینے کا ہنر سکھایا سب خوابوں کو اپ نے
جاوید صاحب بحیثیت مدرس ایک قیمتی سرمایہ اور اثاثہ ہیں انہوں نےاپنے شاگردوں کو اچھے نمبروں کے لیے نہیں بلکہ ایک باعمل اور بااخلاق انسان بننے کا درس دیا وہ تاریکی میں چراغ جلانے والا اور بھٹکے ہووں کو منزل دکھانے والا مدرس ہے۔ اپنے شاگردوں کو کتابی علم کے ساتھ عملی زندگی کے نشیب و فراز سے اگاہ کیا۔ان کی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا وہ صرف کلاس روم کی حد تک بہترین استاد نہیں بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر شاگردوں کے لیے مشغل راہ ہیں ۔جاوید صاحب نے 1991 کو اپنے مادر علمی جی ایچ ایس اجنو سے اپنے تدریسی سفر کا اغاز کیا چند سال یہاں خدمات انجام دینے کے بعد جی ایچ ایس بلچ چترال تبادلہ کیا ضلعی ہیڈ کوارٹر میں درس و تدریس کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں ، کانفرنسز اور سیمینارز کے میزبانی کر کے داد و تحسین کے لائق ٹھہرے ۔کچھ عرصے کے لیے جی ایچ ایس بمبریت کے انچارج پرنسپل رہے اور ادارے کو ترقی دی جی ایچ ایس بروز میں بھی خدمات انجام دیے اور ایک مرتبہ پھر ضلعی ہیڈ کوارٹر کے اولین اور تاریخی درسگاہ سینیٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال تبادلہ ہوا۔تورکھوکے مرکزی تعلیمی ادارہ گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول شاگرام میں بھی تدریس سے وابستہ رہے وہاں سے جی ایچ ایس واشچ ٹرانسفرکرایا۔ اور یوں 34 سالہ تدریسی خدمات یہاں سے مکمل کیا۔
مشاغل اور دیگر سرگرمیاں : یہ جاوید صاحب کی خوش قسمتی ہے کہ زندگی کے بندھن میں ان کے حصے میں علم و ادب سے خصوصی لگاؤ ہی ائے میں بحیثیت چھوٹے بھائی اور دوست کے شاہد ہوں کہ ان کا ملنا، اٹھنا، بیٹھنا اور یہاں تک کہ گپ شپ بھی علم و ادب سے عبارت ہے ۔
شاعری: اردو اور کھوار دونوں زبانوں کے ہر صنف میں طبع ازمائی کی تو کمال کر دکھایا ریڈیو پاکستان کے گولڈن جوبلی کے موقع پر 1996 میں ریڈیو اور ٹی وی کے اردو مشاعرے میں چترال کی نمائندگی کی ریڈیو اینکر کی حیثیت سے تین سال تک ریڈیو پاکستان چترال کے میزبان رہے مختلف مصنفین اور مولفین کی کتابوں پر نمایان تبصرے اور تجزیے تحریر کئے۔ موٹیویشنل اسپیکر کی حیثیت سے بہت سے زندگیوں کو بدلنے کا سلیقہ سکھایا ۔طلباء و طالبات کے اسائمنٹ اور ورکشاپ ٹیوٹر کے طور پر رہنمائی فراہم کی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے مستفید کیا۔
لفظوں سے بناتا ھے امید کا گلستان
ہرتحریرمیں چھپاھے روشنی کاجہاں
بحثیت کالم نگار: “کالم دھڑکنوں کی زبان” کی وساطت سے مختلف سماجی اور تعلیمی مسائل کو اپنی خوبصورت تحریروں سے روزنامہ ائین پشاور ،چترال ٹائمز ،ڈیلی چترال ، چترال ایکسپریس،آواز چترال،چترال ٹوڈے،چترال پوسٹ اور پامیر ٹائمز کے صفحات کے ذریعے حکام بالا تک پہنچا کر توجہ مبذول کرایا عوامی مسائل کو بڑ ی جرات سے بیان کرتے رہے اور سماجی شعور اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
سوچوں کو لفظ دے کر خیالات سنورتا ھے
قلم کے ایک اشارے سے زمانہ جگاتا ھے
تصانیف: اب تک تین کتب “ہمارے استاد جی ، ہائے مہ شرین نن اور انواز” شائع ہو چکے ہیں کھوار شاعری کی دو اور اردو شاعری کی ایک کتاب زیر طبع ھے۔ واضح رہے کہ کھوار اور اردو شاعری کے علاوہ کھوار اور اردو افسانے اور مضامین مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں ۔مختلف ملکی و بین الاقوامی کانفرنسز اور سیمینارز میں اساتذہ کی بھرپور نمائندگی کر چکے ہیں اور اساتذہ کی تربیت کار کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں ۔انجمن ترقی کھوار چترال کے دو مرتبہ جنرل سیکرٹری رہے اور تنظیم اساتذہ پاکستان چترال کے بھی سیکرٹری جنرل رہے اسٹیج اینکر کی حیثیت سے مختلف قومی و بین الاقوامی شخصیات کے چترال دوروں کے مواقع پر میزبانی کی ذمہ داری انتہائی خوبصورت انداز میں انجام دے چکے ہیں ۔
ایوارڈز: جاوید حیات جیسے ادیب اور مدرس کے فن کو ایوارڈ کی کسوٹی میں تولا نہیں جا سکتا مجھے اعتراف کرنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ ان کی شخصیت نے علمی و ادبی دنیا میں جو نقوش چھوڑے ہیں وہ انے والے نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ بحثیت مدرس بیسٹ ٹیچر ایوارڈ اور بحیثیت ادیب کھوار کمال فن ایوارڈ سے نوازے گئے ۔محمد جاوید حیات صاحب 34 سال سروس کی تکمیل پر محکمہ تعلیم سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں تا ہم ان کی خدمات کا اختتام ہرگز نہیں۔ ان کا سفر علم و قلم کبھی ختم نہیں ہوگا
دعا ھے عمر بھر رھے قلم کی یہ روانی
خدا کرے سلامت رہے یہ اجالا یہ روشنی
ہم اپنے محترم بھائی کو سروس کی باوقار انداز میں تکمیل پر مبارک باد کا ہدیہ پیش کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ رب کریم صحت کی بیش قیمت نعمت کے ساتھ عمردراز مہربانی فرمائیں آمین۔