داد بیداد

داد بیداد ۔۔گلہائے خار زار ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ہمدم دیرینہ شیر ولی خان اسیرصاحب نے اپنی نئی کتاب کا تحفہ بھیجا تحفے کے ساتھ کڑی شرط لگائی اگرپسند آئے توتکیے کے نیچےرکھو رونمائی میں اگر روسیاہی کاپہلو نہ ہو تواس میں بھی چنداں حرج نہیں میں نے کتاب ملنے کی رسیددی اور رسید میں یہ بھی لکھاکہ میرو غالب، فیض و فراز اور انیس و دبیر کی عزت کاخیال رکھتے ہوئے تعمیل ارشادہوگی سرورق پر نام لکھا ہے ”گلہائے خار زار“ سرورق کی پُشت پر مصنف کی خوب صورت تصویر دعوت نظارہ دیتی ہے مصنف کی سوانح عمری گویا دریا کو ایک کوزے میں لانے کے مترادف ہے شیر ولی خان اسیر 1949ء میں پیداہوئے والد لغل خان لال چترال بالا کے گاوں بانگ بالا کے بااثرزمینداراور وڈیرہ گنے جاتےتھے حصول علم کی کو شش اسیر صاحب کو اسلامیہ کالج پشاور اور پھر کالج آف ایجوکیشن تک لے گئی نامور اساتذہ میں احمد فراز، محفوظ جان، محسن احسان اور میڈم تسنیم گلاب قابل ذکر ہیں پروفیسر اسرارالدین کو سرپرست کا درجہ حاصل رہا، 1970ء میں سرکاری سکول کے مدرس مقرر ہوئے 2009ء میں سرکاری ملازمت سے ریٹا ئرمنٹ لے لی، سروس کے دوران چترال، مردان، صوابی،ایبٹ اباد اور ہری پور میں پرنسپل اورایجوکیشن افیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیے،تصویر کو دیکھ کر بالکل بھی نہیں لگتا کہ آپ نے وادی پرخار میں زندگی نا پائیدار کی 76بہاروں کانظارہ کیاہے کیونکہ بالوں میں چاندی آنے کے باوجود آتش بدستور جواں ہے کتاب کاپس منظر بیان کرتے ہوئے اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں”جب میری سرکاری ملازمت کے 39سال مکمل ہوئے اور میری عمر 60سال کے قریب پہنچی تو لا شعوری طور پر میں نے پیچھے مڑکر دیکھا تو مجھے لگا کہ میں خلامیں گھوررہاہوں،بالکل بے رنگ کوری فضا،پھر آہستہ آہستہ اس عرصے کے لمبے سفر کا پورامنظردھیرےدھیرے میری آنکھوں کے سامنے کھلنے لگااورجب زیادہ توجہ مرکوز کی تویہ مناظر اپنی اصلی حالت میں میری نگاہوں کے سامنے گھومنے لگے ان مناظر کے اندرچلتے پھرتے باتیں کرتے درد،غم اور خوشی کا اظہار کر تے کردار نظر آنے لگے میرے حا فظے کے ارکائیوز میں سے رنگ رنگ کی فلمیں شعور کے پر دے پرچلنے لگیں اپنی ذات کے بارے میں پوری تفصیل دیکھی اپنے پیداکرنے والے کی مہر بانیوں کے بارے میں سب سے بڑی اور بےحد رنگین فلم چلتی دیکھی“ اس فلم کو کتابی صورت میں لانے کے لئے جو عنوانات منتخب کیئے وہ بھی دلچسپ ہیں اور ان عنوانات کی جو ترتیب ہے وہ بھی دلکش اور دل نشیں ہے پیش لفظ کے بعد”میراخدا“ پہلا عنوان ہے اس کے بعد عنوانات کی برسات شروع ہوتی ہے میرا مرشد،میرے اساتذہ، میری بیگم،میرے احباب،میرے بھا ئی،میری بہنیں، میرے ہمکار، میرے شاگرد، میرا جناب، خد مت کاصلہ، معتمد کے حضور، بیچارے عوام، میرا محکمہ، میری پولیس، میں استاد، جب بچی کو اس کا حق نہ ملا، جس دن جگر کا ٹکڑا ٹوٹ کر گرا، پردوں کے پیچھے، نو جواں نسل کے لئے پیغام، جب پہلا مارشل لاء لگا، جمہور کا بخار، دوسرا مارشل لاء، دور جمہور، تیسرا مارشل لاء، دور بے نظیر، دورِ نواز، دور دوم بے نظیر، نون لیگ، مشرف لیگ، حضرت اقبال سے معذرت کے ساتھ، اسیر کی جنم بھومی، معاشرے کا ایک کردار، سنوغر کی یاد میں، وہی ممبر بن جاتا ہے، ایک پھول سہرہ کا، لواری سرنگ، وارث اولاد سام، شاہی لنگر، پسرم زاہد کے نام، ایک پھول سی بچی، خواب کی تعبیر، سانحہ عظیم 12دسمبر 2014، سانحہ پشاور آرمی پبلک سکول، یا جوج ما جوج، یوم قائد 25دسمبر 2014، ہم مسلمان، دعا، سچا مسلمان، وطن کے سپاہی کے نام، افریدی آٹا، مسلمان، ماہ جنوری، برادرم عباس کی رحلت پر، گل مراد خان حسرت کی یاد میں، غزلیات، قطعات، رباعیات، میری ڈائری کاایک ورق،کرکٹ، رئیسہ خان کے 2013ء کی سالگرہ پر، کر سمس، الیکشن 2013، سانحہ پشاور چرچ، زہرہ ولی کا جنم دن، ڈاکٹر رئیسہ خان کا جنم دن، سہرا، پوتے کی ولادت، سیاسی لیڈر کے ساتھ گفتگو اور قائد کے حضور، پیش لفظ کو ملا کر 74عنوانات کی فہرست سے پتہ لگتا ہے کہ کتاب کو کن کن بیش بہاخزانوں سے پُر کیا گیا ہے بطوررشتے نمونہ ازخر وارے اکپ ازاد نظم کا عنوان ہے ”پر دے کے پیچھے“ اس نظم میں سر خ فیتے پر شاعر نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے
پردے کے پیچھے میں نے
دیکھے عجیب چہرے
پردے کے سامنے وہ
خدا کا فرستادہ
متقی اور پارسا
مگر پردے کے پیچھے
میں نے دیکھے
بڑے عجیب چہرے
اس کے دفتر میں فائل
پڑی رہتی ہے سالوں
غبار میں ڈوبی اَٹی
جب تک کہ نہ آوے
مالک بیچارہ بچانے اُسے
دست بستہ بابو کے حضور
حاضر نہیں ہوتا
فائل کو پہیہ نہیں لگاتا
تب تک وہ فائل
وہیں پڑی سڑتی رہیگی
پردے کے پیچھے کُڑھتی رہیگی

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO