دھڑکنوں کی زبان۔۔سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں دراڑیں۔۔۔محمد جاوید حیات
سکول کے الھڑ بچہ ہوا کرتے تھے ابو ریڈیو کانوں سے لگاۓ رہتے ۔لفظ مجاہدیں۔۔کے علاوہ ۔۔بامیان ،قندھار،کابل ،نورستان،قندوس ان کے علاوہ احمد شاہ مسعود ،حکمتیار،ملابرجان ،قاضی امین وقار ،غلام جیلانی ،اسماعیل خان ،جلال الدین حقانی ،عبد الرسول سیاف آصف محسینی ،پیر احمد گیلانی اور کتنے نام سنتے ۔۔ابو اہ بھرتے ۔۔۔روتے ہوۓدعائیں دیتے رہتے ۔۔پھر کالج کا دور آیا افعان مہاجرین سے ملاقات اور بھائی بندی کا شرف رہا ۔۔روس ہار گیا ہم نے ایک دوسرے کو مبارک بادیاں دی ایک دوسرے کو گلے لگایا ۔ہم سیدھے سادے لوگ ۔۔ہم چترال میں آفعان بھائیوں سے محبت احترام اور خدمت کا جذبہ ہی دیکھا ۔لیکن کابل جلتا رہا کیوں جلتا رہا پس منظر میں کونسا کھیل کھیلا جارہا تھا یہ گھناونے کھیل کیوں کھیلا جارہا تھا ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ہمیں صرف اپنے افغان بھائیوں پہ فخر تھا ان سے عقیدت اور محبت تھی ۔افغان جنگ میں ہمارا کیا کردار تھا افغان مہاجر بھائیوں کے ساتھ ہمارا کیا سلوک رہا اس پر بھی تبصرے کی ضرورت نہیں ہے اہم بات اس عقیدت کی ہے جو دین مبین کی بنیاد پر ہے ۔افغان مسلمان ہیں مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں امت مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہو سارا جسم بے چین ہوتا ہے ۔یہ سب کچھ حقیقت ہیں اسی بنیاد پر افغان بھائیوں کی تکلیف ہماری تکلیف تھی ان کی خوشحالی ہماری خوشحألی تھی ۔افغان کم از کم نصف صدی سے بے چین ہیں ان کی سرزمین پر اگ برستی رہی ان کے گھر بار تباہ ہوۓ وہ در بدر پھرے ۔روس کے انخلا کے بعد بھی اس سرزمین نے پریشانی ہی دیکھی کوئی مضبوط سب کی امنگوں کے مطابق حکومت نہیں آئی ۔اب دو ادھ سال سے طالبان کی حکومت آئی ہے ہم عام لوگوں کا یہ خواب تھا کہ ہمارے بھائیوں نے بڑی قربانیوں کے بعد آزادی اور کامیابی حاصل کی ہے لیکن دشمن کو یہ کامیابی کہاں ہضم ہوتی ہے اب دو بھائیوں کو ہتھیاروں سے لیس کرکے آمنے سامنے کھڑا کیا گیا ہے ۔ایک کہتا ہے ہم کابل کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ایک کہتا ہے ہم اسلام أباد کو صفحہ ہستی سےمٹا دیں گے ۔دشمن اس انتظأر میں پر تول رہا ہے ۔ایک کہتا ہے کہ ہمارے ہاں کی بے چینیاں تباہیاں تمہاری وجہ سے ہیں ایک کہتا ہے اپنی بے چینیاں خود دور کرو ۔ایک کہتا ہے میرےہاں جو آگ لگی ہوئی ہے اس کی بٹھی تمہارے ہاں ہے ایک کہتا ہے ہم نے وہ بٹھی ڈھا دی ہے ۔ایک کہتا ہے تم ہمارے ہاں کھاتے پیتے رہے دوسرا کہتا ہے کہ اعیار کو سہولت دینے والے بھی تم ہی تھے ۔یہ نفرت کا مکالمہ اور نہ ختم ہونے والا کینہ جاری ہے ۔۔یہ جنگ شاید اقتدار یا مفادات کی ہو لیکن بات دونوں طرف کے عوام کی ہے چینیاں ہیں۔۔ایک تخمینے کے مطابق دو افعان جنگوں میں گیارہ لاکھ کم و بیش افعانی شہید ہوۓ ۔۔بڑا بھائی کہتا ہے کہ میرے دہشت گردی میں کم ا ز کم ایک لاکھ کے قریب شہری ہلاک ہوۓ۔دونوں کلمہ گو ہیں اعیار کا مقصد حل ہوا ہے دونوں طرف مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے ۔روس اور امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے گیارہ لاکھ افعانوں کا خون کیا اب ان کو آزادی ملی تو ان کو توڑنا ہے توڑ میں ان کے بھائی ہی کاریگر ہو سکتے ہیں ورنہ ان جنگجووں کو توڑا نہیں جاسکتا ۔۔دونوں بھائی کئی دھائیوں سے حألت جنگ میں ہیں وہ اب جنگ سے خوف زادہ نہیں ہوتے یہ فائٹنگ فورس ہیں ۔۔وہ ہتھیاروں سے زیادہ بازووں سے لڑتے ہیں ۔بڑے بھائی کے ہاں دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں نفرتیں پھیلائی جاری ہیں کھیل کے میدانوں سے لے کر تجارت تک ایک دوسرے سے نفرت ہے حالانکہ بھائیوں کا ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ ہمسائیگی ہے ایک دوسرے کے دست و بازو بننا وقت کی ضرورت ہے ۔اعیار اپنا جنگی کھیل ان کے آنگن میں کھیلتے ہیں ۔دونوں اپنی ضد پہ اڑے ہوۓ ہیں ۔ستتر سال پہلے جب بڑے بھائی کو أزادی ملی تو چھوٹا بھائی دنیا کا آخری ملک تھا کہ اس کی آزادی کو تسلیم کیا لیکن جب چھوٹے کو آزادی ملی تو بڑے نے سب سے پہلے اس کی آزادی کو تسلیم کیا ۔دونوں طرف بے وفائیوں کے شکوے ہیں لیکن جب مہاجر بھائی یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں تو اپنے میزبان بھائیوں کے گلے لگ کر روتے ہیں یہاں سےجانے کو دل نہیں کرتا ۔یہی وہ درد اور احساس عقیدت ہے جو مسلمانوں کی شیرازہ بندی کرتا ہے ۔۔۔مسلمان أپس میں بھائی بھائی ہیں ۔لیکن یہ احساس مضبوط ہوتا فخر موجودات ص نےجس امت کی شیرازہ بندی کی تھی ایثأر اور اخوت کے جو جوہر ان میں پیدا کیے تھے وہ اسی طرح زندہ ہوتا تو آج دنیا کے تمام مسلمان خواہ عرب میں ہوں یا عجم میں ،پاکستانی ہوں یا افغانی ،فارس کے ہوں یا یورپ کے ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ۔ان کی اتحاد ہوتی وہ ایک جسم کی مانند ہوتے ۔اقبال رح نے اسی المیے کو محسوس کرتے ہوۓفرمایا تھا ۔۔
یوں تو سید بھی ہو ،میرزا بھی ہو ،افٸان بھی ہو
تم سبھی کچھ بتاؤ کہ مسلمان بھی ہو ۔۔۔
آج ہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔پاک ارمی ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے امید کی کرن ہے یہ واحد دستہ ہے جس سے عالم کفر خوفزدہ ہے لیکن اس کے ساتھ اس کے ہی بھائی لڑ رہے ہیں بے شک کمزوریاں دونوں طرف ہیں ۔شکایات دونوں طرف ہیں مگر اس حد تک جانا کہ خون کے پیاسے ہوجانا ۔۔اپنوں کےمقابلے میں دشمنوں کو خوش کرنا اپنوں سے ٹکرا کر بکھر جانا کہاں کی عقلمندی ہے ۔پاکستان اور افعانستان کے عوام اس خونی کھیل میں کچلے جا رہے ہیں ۔اللہ کے نبی ص نے فرمایا یہود نصرا تمہارے دوست نہیں ہو سکتے آج ہم اپنوں کے بجاۓ ان کو اہمیت دیتے ہیں ۔ہماری تجارت رکی ہوئی ہے ،ہماری ہمدردیاں ختم ہو رہی ہیں ۔لا الہ الا اللہ کا رشتہ کمزور ہو رہا ہے ۔ہم اپنی انا اور ضد کی تلوار لیے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگے ہیں ۔۔یہ لازم ہے کہ دشمن نہ پاکستان کو زیر کر سکتا ہے نہ افغانستان کو اس کے پاس صرف یہی راستہ ہے کہ ان کو آپس میں لڑاۓ اور اپنے گھناٶنے مقاصد میں کامیاب ہو ۔۔ طلبان کو اپنی شدت جذبات پر غور کرنا چاہیے ۔۔اسلام امن کا عالمبردار ہے اور مسلمان کے لیے رسالت ماب ص نے فرمایا ۔۔۔
مسلمان وہ کہ جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔۔۔اللہ پاک ہمارے اختلافات اور مشکلات دور فرماۓ ۔اپنے نبی ص کے صدقے ہمیں پھر سے بھائی بھائی بنا دے