تازہ تریندھڑکنوں کی زبان

دھڑکنوں کی زبان ۔۔میں مدینے چلا۔۔محمد جاوید حیات

سوئے مدینہ ضرور جانا ہے.اس لئے بےتابیاں ہیں..31 تاریح کی رات جاگتے کٹی..
ادب گاہیست زیر اسمان از عرش نازک تر ..
نفس گم کردہ می اید چنید و بازید ایں جا ..
جنیدو بازید یہاں پہ نفس کھو دیے ہیں ..دونوں جہانوں کا سردارص اس مبارک سر زمین پہ چلتے رہے ہیں .قدم مبارک یہاں پہ پڑچکے ہیں .یہاں پہ حجرہ مبارک ہے… یہاں راتیں گزری ہیں یہاں دں چھڑے ہیں.یہاں پہ بہاریں آئی ہیں یہاں پہ خزان گزرے ہیں .فخر موجودات ص اور ان کے اصحاب نے موسموں کے عذاب سہے ہیں .پنجتن کا مسکن رہی ہے یہ مبارک سرزمین… .
کٹ جائےساری عمر تیرے ذکر پاک میں
مل جائے میری خاک مدینے کی خاک میں ..
یہاں امت کی تربیت ہوئی ہے ..یہاں پہ میٹنگیں ہوئی ہیں .یہاں سے جہاد کا آغازہوا ہے .یہاں پہ پوری دنیائے کفر کو للکارا گیا ہے .یہاں پہ انسانیت معراج کو پہنچی ہے .یہاں پہ شمع رسالت کے پروانوں کو جائے پناہ مل گئی ہے .یاں پہ فخر موجودات ص کی زندگی گزری ہے.یہاں پہ وہ دن آئے ہیں جب کسری کے تاج فاروق اعظم کے سامنے رکھا گیا ..کھڑے ہوئے تاج پہ پاؤں رکھا چیخ کر نہایت درد سے فرمایا .. آج سے امت کا زوال شروع ہوگا ..دنیا آگئی دھن دولت آگئی…یہاں سے پوری دنیا کے لیے امن کا پیغام گیا ہے ..
بس میں سواری کے بعد فیضی صاحب بہت یاد آئے ..
تہ افسا عمر بیران
یا تہ نسا عمر بیران
ای خیالہ تہ پوشیکو
بندوبسا عمر بیران
ترجمہ..تیری آرزو میں عمر گزرتی ہے .یا تیرے ساتھ میں عمر کٹتی ہے .تجھ سے ملنے کی آرزو اور اس آرزو کی تکمیل میں عمر بیت جاتی ہے ..
یہ سفر بھی ایک آرزو کی تکمیل تھا اگرچہ اس سفر کا بندوبست اس عاصی کے دست رس سے باہر تھا بس ایک آرزو تھی ایک تڑپ ..
بس سے باہر نظر دوڑاؤ تو سنگلاخ او دھوپ میں جھلسی ہوئی سر زمین ..ہم کہیں یوٹیوب وغیرہ میں مریخ وغیرہ کی سرزمین دیکھتے تھے اب ان پہ یقین ہو رہا ہے ..یادوں کے سکرین پہ پھر وہی منظر ہے کارواں اونٹوں کا جارہا ہے ..کارواں بے گھر بے در مہاجرین کا جارہا ہے .کاروان فخر موجودات ص کا ہے صرف دو افراد ہیں..ایک فخر انسانیت ہیں ایک یار غار رفیق وفادار ہیں ….میں نے دنیا میں سب کے احسانات چکا دئیے ایک ابوبکر رض کے باقی ہیں .کارواں 313 شمع رسالت کے پروانے کا بدر کی طرف روان دواں ہے ..بس ستر اونٹ ہیں صرف دو گھوڑے ہیں…بعض کے پاس تلوار تک نہیں .کارواں خندق کھود رہا ہے ..کدال کی ضرب سے چنگاریاں اٹھتی ہیں .فخر موجودات ص نے پیشنگوئی کی ہے ..کاروان احد کے میدان میں ہے ..ستر تک شہید ہوئے ہیں.. زخمی کراہ رہے ہیں ..فخر موجودات کو زخم آئے ہیں ..کاروان نامعلوم منزل کی طرف رواں ہے دس ہزار پروانے ہیں .مکے کی سرحد تک پہنچتے ہیں ..فخر موجودات ص سر جھکائے ہوئے ہیں.. مبارک آنکھوں سے تشکر کے آنسو جاری ہیں .کارواں حج پہ جارہا ہے فخر انسانیت ساتھ ہیں .کیاکیا نہیں دیکھے ان لق و دق صحراؤں نے .. ہوش میں آیا دیکھا مدینہ آگیا ہے..عاصی دیار رسول ص میں داخل ہورہا ہے ..
وہی ہےدانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے ..
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر ..
وہی قران وہی فرقان وہی یسین وہی طہ..
ہوٹل میں سامان رکھے …دوڑے اور اس عرش سے نازک تر ٹکڑا ارضی میں داخل ہوئے …سلام یا رسول اللہ …مسجد نبوی ص..فخر موجودات ص خود مٹی گارا اٹھاتے ہیں… تعمیر ہو رہی ہے …ایک صحابی دودو پھتر کندھے پہ اٹھا کے لارہے ہیں .فخر موجودات مسکراتے ہیں ..بارش ہوتی ہے مسجد کی چھت ٹپکتی ہے……میرے ممبر اور حجرے کے درمیان جنت کاباغ ہے..یہ مسجد نبوی ص ہے …. فخر موجودات ص کا وصال ہوتا ہے ..افراتفری ہے ..ایک مرد اہن کھڑا ہوتا ہے ..جو محمد ص کی عبادت کررہا تھاتو سمجھ لو ان کا وصال ہوگیا جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ ہمیشہ زندہ ہے اس کو موت نہیں ..یہی مسجد نبوی ہے اس کے فرش پہ بیٹھ کے سپر پاور فارس کے لیے منصوبہ بندی ہو رہی ہے وہی سپر پاور جس کے بادشاہ نے حکم دیا تھا کہتے ہیں عرب کا ایک بدو ہمارے خداؤں کو نہیں مانتا .جاؤ اس کو پکڑ کے لاؤ اور میرے تخت کے نیچے باندھ دو ..فاروق اعظم خود جانے کے لیے تیار ہیں .اصحاب کبار منع کرتے ہیں ..یہ مسجد نبوی ہے روم کا بادشاہ اپنا ایلچی بھیجتا ہے جاؤ مسلمانوں کے بادشا سے مل کے آؤ اس نے دنیا کو لرزا دیا ہے اس کا دبدبا دیکھ کے آؤ ایلچی پہنچتا ہے پوچھتاہے بادشاہ کا محل کدھر ہے ..لوگ کہتے ہیں ہمارا کوئی بادشاہ نہیں ہے ایک امیر ہے وہ ادھر مسجد میں رہتا ہے ایلچی مسجد پہنچتا ہے پوچھتا ہے ..تو لوگ کہتے ہیں …وہاں فرش پہ سویا ہوا ہے …سرہانے دو اینٹ رکھے ہوئے ہیں ..کپڑوں پہ پیوند ہیں ..گرمی سے پسینہ داڑھی مبارک کے بالوں سے قطرہ قطرہ فرش کی ریت پہ ٹپک رہا ہے ..ایلچی سرہانے حیران کھڑا ہے .امیر کی آنکھیں کھلتی ہیں اس کی طرف دیکھتا ہے تو ہیبت فاروقی سے اس پہ لرزہ طاری ہوتا ہے .مسجد یہی ہے..روم کے بادشاہ کے جنرل خالد بن ولید کو خط لکھتا ہے ..تم سسمار کھانے والےاطلاعات ہیں کہ ہماری سرحد کی طرف بڑھ رہے ہو ٹمہاری حیثیت کیا ہے ..خالد جواب دیتے ہیں …جنرل سن لو تمہاری طرف عرب کے وہ شہ سوار بڑھ رہے ہیں جن کو موت سے اتنا ہی پیار ہے جتنا تم کو زندگی سے پیار ہے … مغرب کی آذان مجھے جگاتی ہے نماز پڑھتا ہوں ..روضہ رسول کے سامنے ہوں .اے اللہ کے رسول سلام ہو …عاصی امتی حاضر ہے ..بس امتی ہونے پہ فخر ہے … آواز اتی ہے .
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں ..
کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں ..
آواز آتی ہے….
ز مہجوری برامد جان عالم …
ترحم یا نبی اللہ ترحم …
آواز آتی ہے …
قوت عشق سے ہر پست کو بلا کر دے ..
دھر میں اسم محمد سے اجالا کردے ..
آواز آتی ہے ..
پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم …
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا …
آوازوں پہ آوازیں آتی ہیں ..درمیان میں ایک آواز دھڑکتے دل پکڑ لیتی ہے ..اے اللہ کے رسول تم پہ سلام ہو ..

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock