آواز اقبال

ایران بمقابلہ اسرائیل ! عسکری موازنہ ۔ اقبال عیسیٰ خان

 

مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ اور مسلسل بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں ایران اور اسرائیل دو ایسی طاقتیں ہیں جن کی عسکری حکمتِ عملی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس تنازعے کو صرف ہتھیاروں یا فوجی تعداد کے زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ٹیکنالوجی، معاشی قوت، دفاعی نظریات اور اسٹریٹجک حکمتِ عملی کا بھی مقابلہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایران کے پاس افرادی قوت کے اعتبار سے واضح برتری موجود ہے۔ مختلف عالمی دفاعی رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 610,000 فعال فوجی اہلکار جبکہ تقریباً 350,000 ریزرو فوجی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ نیم فوجی تنظیموں سمیت ایران کی مجموعی عسکری افرادی قوت دس لاکھ سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے، جو اسے خطے کی بڑی فوجی طاقتوں میں شامل کرتی ہے۔
بری افواج کے لحاظ سے بھی ایران کے پاس تقریباً 2000 ٹینک، 65 ہزار سے زائد بکتر بند گاڑیاں اور ہزاروں آرٹلری سسٹمز موجود ہیں۔ بحری قوت میں بھی ایران کے پاس اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ جہاز اور آبدوزیں ہیں، اگرچہ ان میں سے بہت سے پلیٹ فارم ٹیکنالوجی کے لحاظ سے پرانے تصور کیے جاتے ہیں۔
ایران کی عسکری حکمتِ عملی کا سب سے اہم ستون اس کا بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگرام ہے۔ ایران نے گزشتہ دو دہائیوں میں میزائل ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور ہزاروں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کا ذخیرہ تیار کیا ہے، جو خطے میں اس کی اسٹریٹجک ڈیٹرنس کا بنیادی ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔
کچھ غیر سرکاری دفاعی تجزیوں میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ ایران بڑی رفتار سے میزائل اور ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر کم لاگت ہتھیار تیار کر کے اسٹریٹجک توازن قائم رکھتا ہے۔ اور روزانہ 100 میزائل اور 250 ڈرون کی پیداوار کا دعویٰ ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی طاقت اس کی جدید ٹیکنالوجی، فضائی برتری اور مضبوط معیشت میں نظر آتی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ دنیا کی جدید ترین فضائی افواج میں شمار ہوتی ہے، جس کے پاس تقریباً 241 فائٹر طیارے موجود ہیں جن میں جدید F-35 اسٹیلتھ طیارے بھی شامل ہیں۔
کل فضائی طاقت کے اعتبار سے اسرائیل کے پاس 600 سے زائد فوجی طیارے موجود ہیں، جو اسے خطے میں نمایاں فضائی برتری دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے پاس آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ اور ایرو جیسے کثیر سطحی میزائل دفاعی نظام بھی موجود ہیں جو اسے میزائل حملوں سے دفاع کی اضافی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
معاشی میدان میں بھی اسرائیل واضح برتری رکھتا ہے۔ اسرائیل کا دفاعی بجٹ تقریباً 24 سے 27 ارب ڈالر کے درمیان ہے جبکہ ایران کا سرکاری دفاعی بجٹ تقریباً 10 ارب ڈالر کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ یہی معاشی طاقت اسرائیل کو جدید تحقیق، دفاعی ٹیکنالوجی اور ہائی ٹیک ہتھیاروں کی تیاری میں مسلسل سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتی ہے۔
اگر اس پورے منظرنامے کو ایک اسٹریٹجک اور دانشورانہ زاویے سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کی فوجی حکمتِ عملی بنیادی طور پر مختلف ہے۔
ایران کا دفاعی ماڈل “مقداری طاقت، میزائل ڈیٹرنس اور غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی” پر مبنی ہے، جبکہ اسرائیل کا ماڈل “اعلیٰ ٹیکنالوجی، فضائی برتری، انٹیلی جنس اور معاشی طاقت” پر قائم ہے۔
ایران اپنی وسیع افرادی قوت، میزائل پروگرام اور خطے میں اسٹریٹجک اثر و رسوخ کے ذریعے طاقت کا توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ اسرائیل جدید ٹیکنالوجی، فضائی برتری اور مضبوط معیشت کے ذریعے اپنی عسکری برتری برقرار رکھتا ہے۔ یہی متضاد مگر طاقتور عناصر مشرقِ وسطیٰ کی اسٹریٹجک سیاست کو ایک پیچیدہ مگر انتہائی حساس شکل دیتے ہیں۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔