آواز اقبال

مہنگائی کے اندھیرے میں امید کی تلاش – اقبال عیسیٰ خان 

 مہنگائی کے اندھیرے میں امید کی تلاش – اقبال عیسیٰ خان

آج جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیں، تو یہ محض ایک خبر نہیں رہی، یہ ہر اس گھر کی خاموش چیخ بن چکی ہے جہاں چولہا ٹھنڈا پڑنے لگا ہے، جہاں بچوں کی آنکھوں میں خواب تو ہیں مگر وسائل نہیں، اور جہاں محنت کش طبقے کی امیدیں آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں۔ یہ اضافہ صرف پٹرول کے نرخوں میں نہیں ہوا، بلکہ یہ ہر اس سانس میں سرایت کر چکا ہے جو مہنگائی کے بوجھ تلے گھٹ رہی ہے۔ پاکستان کا نچلا طبقہ، نچلا متوسط طبقہ اور متوسط طبقہ آج جس اذیت سے گزر رہا ہے، وہ کسی رپورٹ یا گراف میں قید ہونے والا معاملہ نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا انسانی المیہ ہے۔
ایک دیہاڑی دار مزدور جب صبح گھر سے نکلتا ہے، تو وہ صرف روزی کی تلاش میں نہیں ہوتا بلکہ اپنی خودداری، اپنے بچوں کے مستقبل اور اپنے وجود کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے بڑھتے کرائے، آٹے کی مہنگی ہوتی بوری، بجلی کے بلوں کا بوجھ، یہ سب اس کی ہمت کو روز تھوڑا تھوڑا کر کے توڑ دیتے ہیں۔ دوسری طرف متوسط طبقہ، جو کبھی استحکام اور توازن کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج قرضوں، قسطوں اور مہنگائی کے شکنجے میں ایسا جکڑا ہے کہ اس کے خواب سکڑ کر محض زندہ رہنے کی کوشش تک محدود ہو چکے ہیں۔
یہ حقیقت بھی تلخ ہے کہ حکومتوں کی غفلت، نااہلی اور ناقص حکمت عملیوں نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ قیادت کی کمزور سمت اور فیصلوں کی کمی نے عوام کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ مگر اس کڑوی حقیقت کے باوجود، اب وقت آ چکا ہے کہ عوام خود بھی اپنی بقا کے لیے جاگیں، سنبھلیں اور حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے دانشمندانہ، پیشگی اور عملی اقدامات اختیار کریں۔ کیونکہ صرف شکوہ اور انتظار اب کسی مسئلے کا حل نہیں رہا۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ بحران عارضی نہیں بلکہ گہرا اور ساختی ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ توانائی کے متبادل ذرائع اپنانا، غیر ضروری اخراجات کم کرنا، مشترکہ وسائل کو بروئے کار لانا، اور مقامی سطح پر خود کفالت کی طرف بڑھنا، یہ سب اب انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر حکمت عملی بن چکے ہیں۔ ہر گھر کو اپنی سطح پر بچت، منصوبہ بندی اور احتیاط کو معمول بنانا ہوگا۔
ٹرانسپورٹ میں اشتراک، گھریلو بجٹ کی سختی سے پابندی، توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری، اور چھوٹے پیمانے پر متبادل ذرائع جیسے سولر کا استعمال، یہ وہ عملی قدم ہیں جو عام آدمی کو اس طوفان میں سہارا دے سکتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا، خاندان اور کمیونٹی کی سطح پر تعاون کو فروغ دینا ہوگا، کیونکہ یہی وہ قوت ہے جو مشکل ترین حالات میں قوموں کو سنبھالتی ہے۔
یہ وقت صرف حکومت کو کوسنے کا نہیں بلکہ خود کو منظم کرنے کا بھی ہے۔ اگر قیادت کمزور ہے تو قوم کو مضبوط ہونا ہوگا۔ اگر نظام لڑکھڑا رہا ہے تو عوام کو سنبھل کر چلنا ہوگا۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ زندہ قومیں حالات کا رونا نہیں روتیں بلکہ اپنی حکمت، اتحاد اور شعور سے راستے نکالتی ہیں۔
اور اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، اگر ہم نے اپنی عادات، اپنی سوچ اور اپنے طرزِ زندگی کو نہ بدلا، تو یہ مہنگائی صرف جیبوں کو خالی نہیں کرے گی بلکہ امیدوں کو بھی ختم کر دے گی۔ مگر اگر ہم نے دانشمندی، صبر اور عملی حکمت عملی کو اپنا لیا، تو یہی بحران ہمارے لیے ایک نئی شروعات بھی بن سکتا ہے۔
یہ اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، اگر قوم جاگ جائے تو روشنی کا راستہ خود بنا لیتی ہے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO