
سیف اللہ جان۔ نصف صدی کا مسافر تحریر: ظہیر الدین
سیف اللہ جان نصف صدی پر محیط اپنی بساط بھر سیاست کے خارزار میں جدوجہد کا احتتام کرکے عیدالفطر کے اگلے روز اپنے نامہ اعمال لے کر اپنے خالق کے سامنے حاضر ہوگئے جوکہ ‘دو چار دن کی بات نہیں نصف صدی کا قصہ ہے’۔
موت کا جام منہ سے لگانے کے بعد سیف بھائی کوہ ہندوکش کی ان بلند وبالا پہاڑوں میں گھری ہوئی اس وادی میں تحریک اسلامی برپا کرنے والوں کی قافلے میں شامل ہوگئے جوکہ ان سے پہلے اپنے اپنے نفس ہائے مطمئنہ کے ساتھ اُفق کے اُس پار چلے جاچکے ہیں اور سیف بھائی یہاں عید ملن پارٹی میں شامل ہونے کی بجائے اُ س دنیا میں اب مولانا عبدالرحیم چترالی کی سرپرستی میں عیدملن پارٹی کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی 1941ء میں برپا کردہ تحریکِ اسلامی نے ایسے جاں نثار کارکن پیدا کیے ہیں جن کی جرات اور قربانی کی مثال نہیں ملتی جو اپنے اعلیٰ کردار اور دیانت داری کی بدولت معاشرے میں نمایاں پہچان رکھتے ہیں۔اس تحریک کی تاریخ 1940 ء کی دہائی تک پھیلی ہوئی ہے، جس سے وابستہ مخلص کارکنوں میں چترال کے سیف اللہ جان کا نام ایک روشن ستارے کی طرح تاقیامت چمکتارہے گا۔ان کی وابستگی اور وفاداری بے مثال تھی؛ وہ ہر مشکل وقت میں جماعت کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ 1977ء کی تحریکِ نظامِ مصطفیٰ کے دوران انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
سیف بھائی کا تعلق وادی انجیگان کے حسین گاؤں پرابیک اور معروف قبیلہ خضار کے ساتھ تھا۔ وہ چترال کے نواحی گاؤں چمورکھون میں آبادہوگئے اور یہیں کے ہوکے رہ گئے اور یہ بات نوجوان نسل میں شاید ہی کسی کو معلوم ہو۔ چترال شہر میں کاروبار سے منسلک رہے اور زمانے کی مدوجزر کے ساتھ ان کے کاروبار کو بھی خسارے کا سامنا ہوا مگر یہ خسارہ ان کی طرز زندگی کو کبھی متاثر نہیں کیا اور نہ ہی تحریک کے ساتھ ان کی قلبی تعلق کو دھندلادیا۔ چترال میں پارٹی کی تاریخ لکھنے والے کو سیف بھائی قدم قدم پر اپنی اخلاص اور سعی پیہم کے ساتھ ملے گا جوکہ پارٹی کی ضلعی قیادت اور کارکنوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتا رہتا۔ اگرچہ وہ روایتی معنوں میں زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، لیکن وہ تحریک کے اصل جوہر اور روح سے مکمل واقف تھے۔ ویلج کونسل سے لے کر مرکزی سطح تک، انہوں نے جماعت کے ہر پروگرام میں اپنی موجودگی یقینی بنا کر اپنی دھاک بٹھائی۔ان کا پختہ یقین تھا کہ اسلامی انقلاب ہی ملک اور امتِ مسلمہ کے تمام مسائل کا واحد حل ہے، اور ان کی سیاست کا واحد مقصد رضائے الٰہی کا حصول تھا۔وہ ایک ایسے کارکن تھے جن کی خدمات، دیانت داری اور انتھک محنت کی مثال پوری جماعت میں دی جاتی تھی۔
ہر روز چترال شہر آنا، جماعت کے دفتر میں حاضری دینا اور بطور کارکن اپنے حصے کاکام معلوم کرنا ان کا معمول تھا اور زندگی کی آخری چند سال عارضہ قلب میں مبتلا ہوکر بدنی طور پر ضعیف ہونے کے باوجود اس معمول میں کبھی خلل آنے نہیں دیا۔ قیادت اور کارکنوں میں نہایت مقبول تھے اور اپنی زندہ دلی اور ہنس مکھ طبیعت کی وجہ سے پارٹی سے باہر بھی لوگوں میں مقبولیت کی آسمان پر رہتے تھے جوکہ ان کے نماز جنازہ اور پھر دوسرے دن تعزیت کے لئے آنے والوں کی جم غفیر سے واضح ہے۔ ان کے رحلت کے بعد مزید معلوم ہوا کہ سیف بھائی نے کس طرح ہزاروں دلوں کو مسخر کیا تھا۔ شاہی بازار میں واقع جماعت اسلامی کے ایک دیرینہ کارکن (ٹاؤن کمیٹی چترال کے سابق چیرمین)حکیم مجیب اللہ کے مطب میں وہ دستیاب ہوتے جہاں وہ روزانہ کی بنیاد پر حاضر ہوتے ا ور وہاں جمع ہونے والے دوست احباب کی توجہ کا مرکز ہوتے۔چترال شہر آنے اکا ان کا یہ معمول زندگی کی آخری دن تک جاری رکھا جب وہ جمعتہ الوداع کو بھی شاہی مسجد آئے تھے۔ سیف بھائی کی یادوں کو کریدتے ہوئے مجھے حفیظ جالندھری کا یہ مصرعہ یاد آتا ہے
نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
ان کے سوگواروں میں ان کے اہل خاندان کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے سینکڑوں ساتھی کارکن شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ سیف اللہ جان کی جگہ پر کرنا ناممکن ہے۔ ان کی ایک قلبی خواہش تھی جسے وہ بار بار دہرایا کرتے تھے کہ وفات کے بعد انہیں پارٹی کے پرچم میں دفن کیا جائے اور ان کی قبر پر جماعت کا پرچم لہرایا جائے۔امید ہے کہ جماعتِ اسلامی کے جوانسال ضلعی امیر محترم وجیہ الدین ان کی اس وصیت اور خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کے مقبرے پر جماعت اسلامی کا پرچم لہراکر اسے پورا کریں گے۔
اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین


